نومبر کا مہینہ آتے ہی فضا بدل جاتی ہے
ہوا میں نرمی اترتی ہے دھوپ کا مزاج بھی ٹھہرا ہوا ہو جاتا ہےاور پودے جیسے آہستہ آہستہ مسکرانے لگتے ہیں۔
نومبر کے مہینے میں درختوں کے پتوں کا زرد اور سرخ ہونا فطرت کے نئے چکر کی علامت ہے گویا زمین خود کو سردیوں کے لیے تیار کر رہی ہو نومبر کا موسم ٹھنڈی ہوا نرم دھوپ اور راتوں کی ہلکی خنکی کے ساتھ ایک ایسا ماحول بناتا ہے جس میں پودے اپنی اگلی نشوونما کے مرحلے کی تیاری کرتے ہیں یہ وقت باغبانوں کے لیے نہ صرف صفائی اور تیاری کا ہے بلکہ غور و فکر کا بھی کہ کون سے پودے سردیوں میں رہیں گے اور کن پودوں کو آرام دیا جائے گا یہ وہ وقت ہے جب پودوں کو بہت زیادہ پانی کی ضرورت نہیں ہوتی ہوا ٹھنڈی ہونے لگتی ہے اور مٹی میں نمی دیر تک رہتی ہے اس لیے پانی روز نہ دیں بس مٹی کو دیکھ کر ضرورت کے مطابق پانی دیں گرمیوں کے مقابلے میں اب پودوں کو کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ بخارات کم بنتے ہیں۔ تاہم مٹی کو خشک نہیں ہونے دینا چاہیے باغبانوں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ پانی جڑوں تک پہنچ رہا ہے یا نہیں کیونکہ سردیوں میں زیادہ پانی دینا بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
صبح کی ہلکی دھوپ پودوں کے لیے بہترین ہےاگر کسی پودے کے پتے خراب ہورہے ہیں تو ہلکی سی کٹائی کر دیں تاکہ پودا سانس لے سکے اور نیا بڑھ سکے۔کھاد بھی اس مہینے دے سکتے ہیں
گھر کی بنائی ہوئی کمپوسٹ بہترین ہے۔
اس مہینے میں سب سے پہلا کام باغ کی صفائی ہوتا ہے۔ زرد پتوں کو ہٹا کر زمین کو سانس لینے دیا جائے تاکہ فنگس یا کیڑے نہ پھیلیں گرے ہوئے پتوں کو ضائع کرنے کے بجائے انہیں قدرتی کھاد (کمپوسٹ) بنانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ انہی پتوں سے زمین میں وہ غذائیت واپس آتی ہے جو پودوں نے سال بھر استعمال کی ہوتی ہے نومبر میں مٹی کو پلٹنا، گوڈی کرنا اور نامیاتی مادے شامل کرنا زمین کو زرخیز بناتا ہے تاکہ سردیوں میں لگائے جانے والے پودے آسانی سے جڑ پکڑ سکیں۔
یہ مہینہ سردیوں کی سبزیوں کی بوائی کے لیے بہترین مانا جاتا ہے۔ گاجر، مولی، شلجم، پالک، میتھی، مٹر اور بند گوبھی جیسے پودے نومبر کی ٹھنڈی فضا میں اچھی طرح اگتے ہیں جو باغبان گملوں میں سبزیاں اگاتے ہیں ان کے لیے بھی یہ مہینہ مثالی ہے کیونکہ تیز دھوپ کی شدت ختم ہو جاتی ہے اور پودوں کے جلنے یا سوکھنے کا خطرہ نہیں رہتا گملوں والے پودوں کو ایسے مقام پر رکھنا چاہیے جہاں صبح کی دھوپ ملے مگر رات کو ٹھنڈی ہوا سے بچاؤ ہو
گلاب، گیندہ، نرگس اور چمبیلی جیسے پھولوں کے لیے نومبر ایک نیا آغاز ہوتا ہے۔ ان پودوں کے لیے زمین میں کھاد ملانا، کٹائی کرنا اور نئی قلمیں لگانا اچھے نتائج دیتا ہے۔ خاص طور پر گلاب کے شوقین افراد کے لیے یہ مہینہ اہم ہے کیونکہ یہی وقت ہے جب پرانی شاخوں کو تراش کر نئی کونپلوں کے لیے جگہ بنائی جاتی ہے۔ اگر کوئی نیا پودا لگانا چاہتا ہے تو یہ موسم اس کے لیے بہترین ہے کیونکہ ٹھنڈی ہوا جڑوں کو مضبوط بناتی ہے اور نمی برقرار رکھتی ہے
درختوں کی دیکھ بھال بھی اس مہینے میں ضروری ہے۔ جو درخت پھل دینے کے بعد خالی ہو گئے ہیں، ان کی چھانٹی کر کے بیمار شاخوں کو کاٹ دینا بہتر ہے تاکہ نئے موسم میں ان کی بڑھوتری بہتر ہو۔ آم، امرود اور لیموں کے پودے اگر موجود ہوں تو ان پر کیڑے یا فنگس کا خاص دھیان رکھنا چاہیے نومبر میں درختوں کے گرد نامیاتی کھاد ڈالنے سے سردیوں کے لیے توانائی ذخیرہ ہو جاتی ہے۔جو لوگ لان رکھتے ہیں، ان کے لیے یہ وقت گھاس کی کٹائی اور مٹی کو ہوا دینے کا ہے لان کی مٹی کو ہلکا سا نرم کر کے تھوڑی سی ریت یا نامیاتی کھاد شامل کی جائے تو سردیوں میں گھاس ہری بھری رہتی ہے۔ اگر کہیں لان میں خالی جگہیں ہیں تو نومبر میں گھاس کے بیج ڈالنے سے وہ جلد بھر جاتی ہیں۔
یہ مہینہ صرف جسمانی سرگرمیوں کا نہیں بلکہ ذہنی سکون کا بھی ہوتا ہے۔ باغ میں بیٹھ کر خزاں کے رنگوں کو دیکھنا، پرندوں کی چہچہاہٹ سننا اور مٹی کی خوشبو محسوس کرنا دل کو ایک عجیب اطمینان دیتا ہے۔ فطرت کے ساتھ یہ قربت انسان کے اندر شکرگزاری اور سکون کے جذبات پیدا کرتی ہے۔
(Dr.Alia Khan)
Gardening with Alia Khan

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں