نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

پودوں کے عام مسائل ۔2.

 آئیے باغبانی سیکھیے ۔کلاس .2. پودوں کے عام مسائل پودوں کے پتے پیلے ہونے کی  دوسری وجہ  پانی کی کمی  جس طرح زیادہ پانی نقصان دہ ہے اسی طرح پانی کی کمی بھی پودے کو متاثر کرتی ہے۔ جب مٹی بہت زیادہ خشک ہوجاتی ہے تو جڑیں پودے کی ضرورت کے مطابق پانی فراہم نہیں کرپاتیں  گرمیوں میں چھوٹے گملے، تیز دھوپ اور گرم ہوا پانی کی ضرورت بڑھا سکتے ہیں جبکہ سردیوں میں اکثر پودوں کو نسبتاً کم پانی درکار ہوتا ہے۔ اس لیے پانی دینے کا فیصلہ صرف موسم یا دنوں کی گنتی سے نہیں بلکہ مٹی اور پودے کی حالت دیکھ کر کریں۔  علامات  پانی کی کمی  کی عام علامات میں پتوں کا لٹکنا، کناروں کا خشک ہونا، پتے کا زرد پڑنا اور شدید صورت میں پتے گرنا شامل ہیں۔ گملے کی مٹی سکڑ کر گملے کے کناروں سے الگ بھی ہوسکتی ہے۔ علاج   اگر مٹی خشک ہے تو آہستہ آہستہ اتنا پانی دیں کہ جڑوں کے حصے تک پہنچ جائے اور اضافی پانی نکاسی کے سوراخوں سے باہر نکل سکے بہت زیادہ خشک مٹی بعض اوقات پانی کو فوراً جذب نہیں کرتی اس لیے پانی آہستہ دینا مفید ہوتا ہے۔ گرمیوں میں چھوٹے گملے، تیز دھوپ اور گرم ہوا پانی کی...
حالیہ پوسٹس

پودوں کے عام مسائل ۔1.

 آئیے باغبانی سیکھیے ۔(کلاس1) پودوں کے عام مسائل  1-پودوں کے پتوں کا پیلا ہونا  پودوں کے پتوں کا پیلا ہونا گھریلو باغبانی میں پیش آنے والے عام مسائل میں سے ایک ہے۔ باغبان اکثر یہ دیکھ کر پریشان ہوجاتے ہیں کہ ان کا صحت مند پودا اچانک پیلا پڑنے لگا ہے کبھی صرف نچلے پتے پیلے ہوتے ہیں کبھی نئی کونپلیں زرد ہوجاتی ہیں اور کبھی پورا پودا ہی اپنی ہریالی کھونے لگتا ہے۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پتوں کا پیلا ہونا بذاتِ خود کوئی ایک بیماری نہیں، بلکہ ایک علامت ہے۔ اس کی اصل وجہ معلوم کیے بغیر کھاد، اسپرے یا کوئی گھریلو نسخہ استعمال کرنا بعض اوقات مسئلے کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ پتوں کا رنگ  سبز کیوں ہوتاہے؟ پتوں میں کلوروفل (Chlorophyll) نامی سبز مادہ موجود ہوتا ہے۔ یہ پودے کو سورج کی روشنی استعمال کرکے اپنی خوراک بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اس عمل کو Photosynthesis کہتے ہیں۔ جب پودے میں کلوروفل کی مقدار کم ہونے لگتی ہے تو پتے پیلے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ ایسا پانی کی زیادتی، غذائی اجزا کی کمی، جڑوں کی خرابی، نامناسب روشنی یا بعض بیماریوں کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ پتوں کے پیلے ہونے کی و...

کنٹینر گارڈننگ کیا ہے ؟

  کنٹینر گارڈننگ کیا ہے؟ کنٹینر گارڈننگ کا مطلب ہے پودوں کوزمین میں لگانے کے بجائے گملوں، ٹب، ڈبوں یا کسی بھی برتن میں اگانا  یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جن کے پاس باغ یا کھلی زمین نہیں ہے جیسے فلیٹ، اپارٹمنٹ، یا چھوٹی بالکنی میں بھی باغیچہ بنا یا جا سکتا ہے وہاں  آسانی سے دیکھ بھال بھی کی جا سکتی ہے آرائشی اور فنکارانہ انداز سے جگہ کو خوبصورت بھی  بنا سکتے ہیں۔      یہ کس کے لیے بہترین ہے؟ فلیٹ میں رہنے والےمصروف لوگ جو کم وقت میں باغبانی چاہتے ہیں۔ بزرگ افراد جن کے لیے جھک کر باغبانی مشکل ہونئے سیکھنے والے جو آسان آغاز چاہتے ہیں۔ گملوں میں کون سے پودے اگائے جاسکتے ہیں؟ گملوں میں تمام اقسام کی سبزیاں پھولوں کے پودے ،ہربل پودے ،چھوٹے قد کے بونسائی پودے،انڈور پودے  لگائے جاسکتے ہیں۔ کنٹینر گارڈننگ میں کامیابی کا پہلا قدم ہے صحیح گملے کا انتخاب ہر پودے کی جڑوں کی گہرائی، نمی کی ضرورت، اور بڑھنے کی رفتار مختلف ہوتی ہے اس لیے کنٹینر کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا جانا چاہیے۔ کنٹینر کے نیچے سوراخ ہونا بہت ضروری ہے تاکہ اضافی پانی باہر نکل...

مشکل صورتحال کا سامنا کیسے کریں ؟

 کسی بھی مشکل صورتحال کا سامنا کیسے کریں ؟ سن زو کی کتاب The Art of War یعنی ’’فنِ جنگ‘‘ دنیا کی مشہور ترین حکمتِ عملی کی کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ کتاب ہزاروں سال پہلے قدیم چین میں لکھی گئی تھی۔ اس کے مصنف سن زو ایک فوجی مفکر اور حکمتِ عملی کے ماہر تھے۔ انہوں نے اس کتاب میں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ کسی مشکل صورتِ حال کا سامنا کیسے کیا جائے اپنے وسائل کو کس طرح استعمال کیا جائے مخالف کی طاقت اور کمزوری کو کیسے سمجھا جائے صحیح وقت کا انتخاب کیسے کیا جائے اور کم سے کم نقصان کے ساتھ کامیابی کیسے حاصل کی جائے۔ اگرچہ یہ کتاب جنگ کے بارے میں ہے لیکن اس میں بیان کیے گئے بہت سے اصول عام زندگی میں بھی مفید ہو سکتے ہیں۔ انسان کی زندگی میں کئی قسم کے مقابلے ہوتے ہیں۔ کبھی اسے کاروبار میں مقابلہ کرنا پڑتا ہے کبھی خاندان میں اختلافات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کبھی لوگوں کے درمیان اپنی بات سمجھانی ہوتی ہے اور کبھی اپنے ہی غصے، خوف، سستی اور کمزوریوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ اس کتاب کو صرف دوسروں کو شکست دینے کی کتاب سمجھنے کے بجائے اپنی سوچ، فیصلوں اور طرزِ عمل کو بہتر بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر ...

مٹی سے ہمارا رشتہ

  مٹی سے ہمارا رشتہ اتنا گہرا اور قدیم ہے کہ شاید ہم خود بھی اس کی گہرائی کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتے۔ یہ رشتہ صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی، جذباتی اور وجودی ہے۔ انسان کی ابتدا بھی مٹی سے ہوئی اور اختتام بھی اسی میں ہوتا ہے۔ درمیان کا سارا سفر  جو زندگی کہلاتا ہے اسی مٹی کے لمس خوشبو اور برکت سے بھرا ہوا ہے۔ ہم اس زمین پر چلتے ہیں اسی کی گود میں پودے اگاتے ہیں ان ہی  پودوں سے سانس لیتے ہیں اور ان ہی سے اپنا رزق حاصل کرتے ہیں  گویا مٹی صرف زمین نہیں یہ زندگی کی ماں ہے جو ہر لمحہ ہمیں پالتی ہے  سہارا دیتی ہے اور خاموشی سے ہمیں جینے کا ہنر سکھاتی ہے۔ جب ہم کسی باغ میں مٹی کو ہاتھ سے چھوتے ہیں تو ایک عجیب سا سکون محسوس ہوتا ہے۔ وہ ٹھنڈی، نرم اور خوشبودار مٹی جیسے ہمارے اندر کی تھکن کھینچ لیتی ہے یہ صرف ایک احساس نہیں بلکہ فطری رابطہ ہے۔ مٹی ہمیں اپنے اصل کی یاد دلاتی ہے ہمیں زمین سے جوڑتی ہے۔ جدید زندگی کے شور میں ہم جتنے بھی فاصلے بنا لیں مٹی کی خوشبو ہمیشہ ہمیں واپس بلاتی ہے۔ بارش کے بعد جب گیلی مٹی کی مہک فضا میں پھیلتی ہے تو وہ دراصل فطرت کی زبان میں ہمیں یاد دلا ...

موسم سرما کی سبزیاں اپنے کچن گارڈن میں اگائیں

 سردیوں کی سبزیاں  گھر میں اگائیں اپنا کچن گارڈن بنائیں ۔ کچن گارڈننگ ایک ایسا شوق ہے جو انسان کو نہ صرف تازہ سبزیاں دیتا ہے بلکہ  خوشی، سکون اور صحت بھی دیتا ہے۔ گھر کی بالکونی، چھت، صحن میں   گملوں میں  سردیوں میں بہترین سبزیاں اگائی جا سکتی ہیں۔ سردی کے موسم کی سبزیوں کی  خاص بات یہ ہے کہ ان کو زیادہ گرمی، زیادہ پانی یا بہت زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت نہیں ہوتی یہ ٹھنڈے موسم کو پسند کرتی ہیں اور ذرا سی محنت کے ساتھ بہت اچھی پیداوار دیتی ہیں۔کچن گارڈننگ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کے سامنے ہر چیز صاف ستھری اگتی ہے نہ کیمیکل کا خوف نہ گندے پانی کا یہ ہی وجہ ہے  جب آپ خود اپنی اگائی ہوئی  سبزی توڑ کر کھانے میں ڈالیں تو اس کا ذائقہ بھی الگ ہوتا ہے ۔سردیوں کی سبزیوں میں زیادہ تر پتے والی اور جڑ والی سبزیاں اگائی جاتی ہیں  جیسے پالک، میتھی، دھنیا، سلاد پتا، گاجر، مولی، شلجم، بند گوبھی، پھول گوبھی، بروکلی، پنیر گوبھی، مٹر، چقندر وغیرہ۔ ان سب کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ٹھنڈے موسم میں بہت تیزی سے بڑھتی ہیں  سوکھتی نہیں اور کیڑے کم لگتے ہیں۔ پا...

جنگل میں چلیں

  جنگل میں چلیں Shinrin-yoku یا Forest Bathing آج ہم ایک ایسے موضوع پر بات کریں گے جو نہ صرف ہماری ذہنی صحت بلکہ ہمارے روزمرہ کے سکون اور خوشی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ اکثر ہم سوچتے ہیں کہ کسی سرسبز جگہہ کسی کھیت باغ میں وقت گزارنا یا فطرت کے قریب ہونا ہمارے لیے ممکن نہیں کیونکہ ہم شہر میں رہتے ہیں  لیکن حقیقت یہ ہے کہ اصل مقصد صرف  فطرت کے ساتھ جڑنا ہے۔ چاہے وہ چھوٹا سا پارک ہو، ایک باغیچہ ہو، یا آپ کی بالکونی میں رکھے گملوں کے  پودے ہوں ۔ سب سے پہلے کہ ہم اپنے دن کی رفتار کو سست کریں اور موجودہ لمحے میں جئیں۔ ہم عموماً دوڑتی زندگی میں رہتے ہیں ذہن مسلسل ماضی یا مستقبل کے بارے میں سوچتا رہتا ہے اور اسی وجہ سے تناؤ، اداسی اور اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم پارک یا باغیچے میں چلتے ہیں ہم قدم قدم پر ماحول کو دیکھنا، سونگھنا اور محسوس کرنا سیکھتے ہیں۔ ہم درختوں کی چھال کو چھو کر دیکھتے ہیں پتوں کی سرسراہٹ سنتے ہیں گھاس کی ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں اور ہوا میں خوشبو کے مختلف ذرات کو محسوس کرتے ہیں۔ اس خاموش مشاہدے کے ذریعے ہمارا ذہن پرسکون ہو جاتا ہے  اور غیر ضرور...