نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

کنٹینر گارڈننگ کیا ہے ؟

  کنٹینر گارڈننگ کیا ہے؟ کنٹینر گارڈننگ کا مطلب ہے پودوں کوزمین میں لگانے کے بجائے گملوں، ٹب، ڈبوں یا کسی بھی برتن میں اگانا  یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جن کے پاس باغ یا کھلی زمین نہیں ہے جیسے فلیٹ، اپارٹمنٹ، یا چھوٹی بالکنی میں بھی باغیچہ بنا یا جا سکتا ہے وہاں  آسانی سے دیکھ بھال بھی کی جا سکتی ہے آرائشی اور فنکارانہ انداز سے جگہ کو خوبصورت بھی  بنا سکتے ہیں۔      یہ کس کے لیے بہترین ہے؟ فلیٹ میں رہنے والےمصروف لوگ جو کم وقت میں باغبانی چاہتے ہیں۔ بزرگ افراد جن کے لیے جھک کر باغبانی مشکل ہونئے سیکھنے والے جو آسان آغاز چاہتے ہیں۔ گملوں میں کون سے پودے اگائے جاسکتے ہیں؟ گملوں میں تمام اقسام کی سبزیاں پھولوں کے پودے ،ہربل پودے ،چھوٹے قد کے بونسائی پودے،انڈور پودے  لگائے جاسکتے ہیں۔ کنٹینر گارڈننگ میں کامیابی کا پہلا قدم ہے صحیح گملے کا انتخاب ہر پودے کی جڑوں کی گہرائی، نمی کی ضرورت، اور بڑھنے کی رفتار مختلف ہوتی ہے اس لیے کنٹینر کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا جانا چاہیے۔ کنٹینر کے نیچے سوراخ ہونا بہت ضروری ہے تاکہ اضافی پانی باہر نکل...
حالیہ پوسٹس

مشکل صورتحال کا سامنا کیسے کریں ؟

 کسی بھی مشکل صورتحال کا سامنا کیسے کریں ؟ سن زو کی کتاب The Art of War یعنی ’’فنِ جنگ‘‘ دنیا کی مشہور ترین حکمتِ عملی کی کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ کتاب ہزاروں سال پہلے قدیم چین میں لکھی گئی تھی۔ اس کے مصنف سن زو ایک فوجی مفکر اور حکمتِ عملی کے ماہر تھے۔ انہوں نے اس کتاب میں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ کسی مشکل صورتِ حال کا سامنا کیسے کیا جائے اپنے وسائل کو کس طرح استعمال کیا جائے مخالف کی طاقت اور کمزوری کو کیسے سمجھا جائے صحیح وقت کا انتخاب کیسے کیا جائے اور کم سے کم نقصان کے ساتھ کامیابی کیسے حاصل کی جائے۔ اگرچہ یہ کتاب جنگ کے بارے میں ہے لیکن اس میں بیان کیے گئے بہت سے اصول عام زندگی میں بھی مفید ہو سکتے ہیں۔ انسان کی زندگی میں کئی قسم کے مقابلے ہوتے ہیں۔ کبھی اسے کاروبار میں مقابلہ کرنا پڑتا ہے کبھی خاندان میں اختلافات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کبھی لوگوں کے درمیان اپنی بات سمجھانی ہوتی ہے اور کبھی اپنے ہی غصے، خوف، سستی اور کمزوریوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ اس کتاب کو صرف دوسروں کو شکست دینے کی کتاب سمجھنے کے بجائے اپنی سوچ، فیصلوں اور طرزِ عمل کو بہتر بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر ...

مٹی سے ہمارا رشتہ

  مٹی سے ہمارا رشتہ اتنا گہرا اور قدیم ہے کہ شاید ہم خود بھی اس کی گہرائی کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتے۔ یہ رشتہ صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی، جذباتی اور وجودی ہے۔ انسان کی ابتدا بھی مٹی سے ہوئی اور اختتام بھی اسی میں ہوتا ہے۔ درمیان کا سارا سفر  جو زندگی کہلاتا ہے اسی مٹی کے لمس خوشبو اور برکت سے بھرا ہوا ہے۔ ہم اس زمین پر چلتے ہیں اسی کی گود میں پودے اگاتے ہیں ان ہی  پودوں سے سانس لیتے ہیں اور ان ہی سے اپنا رزق حاصل کرتے ہیں  گویا مٹی صرف زمین نہیں یہ زندگی کی ماں ہے جو ہر لمحہ ہمیں پالتی ہے  سہارا دیتی ہے اور خاموشی سے ہمیں جینے کا ہنر سکھاتی ہے۔ جب ہم کسی باغ میں مٹی کو ہاتھ سے چھوتے ہیں تو ایک عجیب سا سکون محسوس ہوتا ہے۔ وہ ٹھنڈی، نرم اور خوشبودار مٹی جیسے ہمارے اندر کی تھکن کھینچ لیتی ہے یہ صرف ایک احساس نہیں بلکہ فطری رابطہ ہے۔ مٹی ہمیں اپنے اصل کی یاد دلاتی ہے ہمیں زمین سے جوڑتی ہے۔ جدید زندگی کے شور میں ہم جتنے بھی فاصلے بنا لیں مٹی کی خوشبو ہمیشہ ہمیں واپس بلاتی ہے۔ بارش کے بعد جب گیلی مٹی کی مہک فضا میں پھیلتی ہے تو وہ دراصل فطرت کی زبان میں ہمیں یاد دلا ...

موسم سرما کی سبزیاں اپنے کچن گارڈن میں اگائیں

 سردیوں کی سبزیاں  گھر میں اگائیں اپنا کچن گارڈن بنائیں ۔ کچن گارڈننگ ایک ایسا شوق ہے جو انسان کو نہ صرف تازہ سبزیاں دیتا ہے بلکہ  خوشی، سکون اور صحت بھی دیتا ہے۔ گھر کی بالکونی، چھت، صحن میں   گملوں میں  سردیوں میں بہترین سبزیاں اگائی جا سکتی ہیں۔ سردی کے موسم کی سبزیوں کی  خاص بات یہ ہے کہ ان کو زیادہ گرمی، زیادہ پانی یا بہت زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت نہیں ہوتی یہ ٹھنڈے موسم کو پسند کرتی ہیں اور ذرا سی محنت کے ساتھ بہت اچھی پیداوار دیتی ہیں۔کچن گارڈننگ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کے سامنے ہر چیز صاف ستھری اگتی ہے نہ کیمیکل کا خوف نہ گندے پانی کا یہ ہی وجہ ہے  جب آپ خود اپنی اگائی ہوئی  سبزی توڑ کر کھانے میں ڈالیں تو اس کا ذائقہ بھی الگ ہوتا ہے ۔سردیوں کی سبزیوں میں زیادہ تر پتے والی اور جڑ والی سبزیاں اگائی جاتی ہیں  جیسے پالک، میتھی، دھنیا، سلاد پتا، گاجر، مولی، شلجم، بند گوبھی، پھول گوبھی، بروکلی، پنیر گوبھی، مٹر، چقندر وغیرہ۔ ان سب کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ٹھنڈے موسم میں بہت تیزی سے بڑھتی ہیں  سوکھتی نہیں اور کیڑے کم لگتے ہیں۔ پا...

جنگل میں چلیں

  جنگل میں چلیں Shinrin-yoku یا Forest Bathing آج ہم ایک ایسے موضوع پر بات کریں گے جو نہ صرف ہماری ذہنی صحت بلکہ ہمارے روزمرہ کے سکون اور خوشی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ اکثر ہم سوچتے ہیں کہ کسی سرسبز جگہہ کسی کھیت باغ میں وقت گزارنا یا فطرت کے قریب ہونا ہمارے لیے ممکن نہیں کیونکہ ہم شہر میں رہتے ہیں  لیکن حقیقت یہ ہے کہ اصل مقصد صرف  فطرت کے ساتھ جڑنا ہے۔ چاہے وہ چھوٹا سا پارک ہو، ایک باغیچہ ہو، یا آپ کی بالکونی میں رکھے گملوں کے  پودے ہوں ۔ سب سے پہلے کہ ہم اپنے دن کی رفتار کو سست کریں اور موجودہ لمحے میں جئیں۔ ہم عموماً دوڑتی زندگی میں رہتے ہیں ذہن مسلسل ماضی یا مستقبل کے بارے میں سوچتا رہتا ہے اور اسی وجہ سے تناؤ، اداسی اور اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم پارک یا باغیچے میں چلتے ہیں ہم قدم قدم پر ماحول کو دیکھنا، سونگھنا اور محسوس کرنا سیکھتے ہیں۔ ہم درختوں کی چھال کو چھو کر دیکھتے ہیں پتوں کی سرسراہٹ سنتے ہیں گھاس کی ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں اور ہوا میں خوشبو کے مختلف ذرات کو محسوس کرتے ہیں۔ اس خاموش مشاہدے کے ذریعے ہمارا ذہن پرسکون ہو جاتا ہے  اور غیر ضرور...

آرگینک خوراک

  آرگینک خوراک سے مراد ایسی غذا ہے جو قدرتی طریقوں سے پیدا کی جائے اور جس کی کاشت، پرورش، ذخیرہ سازی اور تیاری کے دوران مصنوعی کیمیکلز، نقصان دہ جراثیم کش ادویات، مصنوعی کھادوں، ہارمونز اور غیر ضروری کیمیائی اضافوں کا استعمال نہ کیا گیا ہو۔ آج کی تیز رفتار دنیا میں جہاں خوراک کی پیداوار بڑھانے کے لیے مختلف مصنوعی طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں، وہاں آرگینک خوراک کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انسان کی صحت، ماحول کی حفاظت اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے آرگینک خوراک کو ایک محفوظ اور پائیدار انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ قدرت نے انسان کو ایسی غذا فراہم کی ہے جو جسم کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ بیماریوں سے بچانے میں بھی مدد دیتی ہے۔ جب فصلوں کو قدرتی مٹی، نامیاتی کھاد، کمپوسٹ، گوبر کی کھاد، سبز کھاد اور قدرتی ذرائع سے حاصل ہونے والی غذائیت کے ذریعے اگایا جاتا ہے تو ان میں موجود غذائی اجزاء بہتر انداز میں برقرار رہتے ہیں۔ اسی طرح آرگینک سبزیوں، پھلوں اور اناج میں مصنوعی کیمیائی باقیات کم یا نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ انسانی صحت کے لیے زیادہ محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔ آرگین...

زندگی کا سفر

  زندگی کا سفر عجیب بھی ہے اور خوبصورت بھی۔ بچپن میں ہمیں جلدی بڑی عمر تک پہنچنے کی خواہش ہوتی ہے۔ لگتا ہے کہ بڑے ہو کر آزادی ہوگی اپنی مرضی کے فیصلے ہوں گے اور زندگی آسان ہوجائے گی۔ لیکن وقت کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ عمر تو بڑھتی ہے مگر اس کے ساتھ ذمہ داریاں بھی بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ بچپن کھیل کود، خوابوں اور بے فکری میں گزر جاتا ہے۔ پھر تعلیم کا مرحلہ آتا ہے، اچھے نمبروں کی فکر، مستقبل بنانے کی دوڑ، نوکری حاصل کرنے کی جدوجہد اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی خواہش جوانی کا بڑا حصہ اسی بھاگ دوڑ میں گزر جاتا ہے۔ انسان سوچتا ہے کہ بس ایک اچھی نوکری مل جائے تو سکون آجائے گا  مگر جیسے ہی ایک منزل ملتی ہے  زندگی ایک نئی ذمہ داری سامنے لا کھڑی کرتی ہے۔ شادی کے بعد زندگی کا رخ مکمل طور پر بدل جاتا ہے۔ اب انسان صرف اپنی ذات کے لیے نہیں جیتا بلکہ ایک نئے رشتے اور نئے گھر کی ذمہ داریاں اس کے کاندھوں پر آجاتی ہیں۔ میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، محدود آمدنی میں بھی  گھر چلانا ہوتا ہے مہنگائی کا مقابلہ بھی  کرنا پڑتا ہے کبھی کرائے کی فکر ہوتی ہے، کبھی اپنا ...