نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

گھر میں دیسی گھی تیار کرنے کا درست طریقہ

 دیسی گھی صدیوں سے برصغیر کے گھروں میں استعمال ہونے والی ایک خالص اور قدرتی غذا ہے۔ پرانے زمانے میں تقریباً ہر گھر میں گھی گھر پر ہی تیار کیا جاتا تھا کیونکہ اسے نہ صرف کھانوں کے ذائقے کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے بلکہ اسے صحت کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔ خالص دیسی گھی کی خوشبو اور ذائقہ بازار میں ملنے والے گھی یا تیل سے بالکل مختلف ہوتا ہے اسی وجہ سے گھریلو طریقے سے بنایا گیا گھی زیادہ پسند کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں خالص پن، صفائی اور قدرتی خوشبو برقرار رہتی ہے۔ گھر میں دیسی گھی بنانے کا ایک روایتی اور درست طریقہ یہ ہے کہ دودھ سے اتری ہوئی ملائی کو روزانہ ایک صاف برتن میں جمع کیا جائے جب مناسب مقدار میں ملائی جمع ہو جائے تو اسے ہلکا سا گرم کر لیا جاتا ہے تاکہ اس میں آسانی سے جاگ یعنی دہی لگایا جا سکے اس کے بعد اس ملائی میں تھوڑی سی دہی شامل کر کے برتن کو ڈھانپ دیا جاتا ہے تاکہ دہی اچھی طرح جم جائے۔ جب ملائی کا دہی تیار ہو جائے تو اسے رات بھر فریج میں رکھ دیا جاتا ہے۔ اس سے دہی اچھی طرح ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور مکھن نکالنا آسان ہو جاتا ہے۔ اگلی صبح اس دہی کو مکھن متھنے کے...
حالیہ پوسٹس

2026 آئیے باغبانی سیکھیں

  آج کے دور میں گھریلوباغبانی بہت ضروری ہے جہاں ماحولیاتی مسائل پریشانی کا باعث ہیں وہیں گھریلوباغبانی کے ذریعے بہت سے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ اگر گھر میں سبزیاں بھی  اگی ہوں تو گھر کے  بجٹ میں کمی لائی جاسکتی ہے مہنگائی کے اس دور میں گھر میں سبزیاں اگانا بہت ضروری ہے۔  آج کچن گارڈننگ یا سبزیاں اگانے کے بارے میں بات کریں گے۔کچن گارڈننگ کی اہمیت و فوائد کے ساتھ ساتھ یہ بھی جانیے گا کہ  سبزیاں اگانے کے لیے کتنی جگہ کی ضرورت ہے کون سی سبزی کتنے بڑے گملے میں اگائی جاسکتی ہے  ۔بیج لگانے سے سبزیاں آنے تک کون سی سبزی کتنا ٹائم لیتی ہے کس موسم میں کون سی سبزی اگائی جائے اور بھی بہت کچھ اس مضمون میں شامل ہے ۔ ۔اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کہ جب سبزیاں مارکیٹ سے مل جاتی ہیں تو گھر میں کچن گارڈننگ کیوں کرتے ہیں۔؟ سبزیوں کے باغیچے میں ہم  اپنی پسند کی سبزیاں اگا سکتے ہیں۔گھر بیٹھے تازہ سبزی حاصل ہوسکتی ہیں ۔گھر میں آرگنک طریقے سے کیمیکل سے پاک سبزیاں اگاتے ہیں جو غذائیت سے بھرپور ہوتی ہیں اور صحت کے لیے بہترین ہیں کچن گارڈننگ سے ماحول کو بھی فائدہ پہنچتا ہے ۔ آکس...

رمضان کے روزے اور انٹرمیٹینٹ فاسٹنگ

 رمضان کے روزے اور انٹرمیٹینٹ فاسٹنگ  جدید میڈیکل سائنس جس طرزِ زندگی کو انٹرمیٹینٹ فاسٹنگ (Intermittent Fasting) کے نام سے متعارف کرا رہی ہےاس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جسم کو مخصوص وقفوں کے لیے خوراک سے روک کر اسے فاسٹنگ اسٹیٹ میں داخل کیا جائے۔ اس عمل کے نتیجے میں جسم میں متعدد مثبت تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، جن میں وزن میں کمی، انسولین کی بہتر کارکردگی، دل اور دماغ کی صحت میں بہتری، اور خلیات کی صفائی (آٹو فیجی) شامل ہیں۔ دنیا بھر کے ماہر ڈاکٹر اور محققین اس طریقۂ کار کو ایک مؤثر اور صحت بخش لائف اسٹائل کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو رمضان المبارک کے روزے عملی طور انٹرمیٹینٹ فاسٹنگ کی سب سے متوازن، فطری اور مکمل صورت ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ انٹرمیٹینٹ فاسٹنگ کا مقصد محض جسمانی صحت تک محدود ہوتا ہے، جبکہ رمضان کے روزے جسم کے ساتھ ساتھ روح کی تربیت اور اخلاق کی اصلاح بھی کرتے ہیں۔ طبی اعتبار سے دیکھا جائے تو رمضان کے روزوں سے وہی تمام فوائد حاصل ہوتے ہیں جن کا ذکر جدید میڈیکل سائنس انٹرمیٹینٹ فاسٹنگ کے ضمن میں کرتی ہے، جیسے انسولین لیول میں بہتری، چربی کا مؤثر طور...

رمضان آپ کی زندگی بدل سکتا ہے

  رمضان المبارک وہ بابرکت مہینہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں عطا کیا گیا ایک عظیم تحفہ ہے۔ یہ مہینہ صرف کیلنڈر کا ایک حصہ نہیں بلکہ ہماری زندگی کو سنوارنے، دلوں کو جگانے اور روح کو تازگی بخشنے کا ایک سنہری موقع ہے۔ رمضان آتے ہی فضا بدل جاتی ہے، دلوں میں نرمی آ جاتی ہے، عبادت کی طرف رغبت بڑھ جاتی ہے اور انسان خود کو اللہ کے قریب محسوس کرنے لگتا ہے اکثر ہم روزے کو صرف بھوک اور پیاس تک محدود کر دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ روزہ ایک مکمل تربیت ہے روزہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی خواہشات پر قابو کیسے پائیں اپنے نفس کو کیسے کنٹرول کریں اور صبر کو اپنی زندگی کا حصہ کیسے بنائیں ۔روزے کے ذریعے ہمیں بھوک کا احساس ہوتا ہے اور یہ ہی احساس ہمیں ان لوگوں کے قریب لے جاتا ہے جو روزانہ اس تکلیف سے گزرتے ہیں  اس سے دل میں ہمدردی، رحم اور سخاوت پیدا ہوتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ رمضان میں صدقہ و خیرات بڑھ جاتی ہے لوگ دوسروں کا خیال رکھنے لگتے ہیں اور معاشرے میں محبت اور بھائی چارہ مضبوط ہوتا ہے۔رمضان المبارک قرآنِ مجید سے خاص تعلق رکھتا ہے کیونکہ اسی مہینے میں قرآن نازل ہوا یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ...

باغبانی کے ماحولیاتی آلودگی پر اثرات

  گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی آلودگی سے سب واقف ہیں  اج پوری دنیا ماحولیاتی آلودگی کی لپیٹ میں آ چکی ہے پوری دنیا میں حیاتیات اور ماحول کا توازن بگڑتا جارہا ہے اور زمین کا درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے مٹی اپنی ذرخیزیت کھوتی جا رہی ہے ہوائیں لطیف سے کثیف ہوتی جا رہی ہیں دریا اور سمندر  آلودہ ہوتے جا رہے ہیں ، نباتات و حیوانات سب کے لیے پریشان کن صورتحال ہے  ۔دنیا کے تقریبا تمام ممالک ہی  ماحولیاتی مسائل کا شکار ہیں گلوبل وارمنگ کے لیے عالمی سطح پر جامع حل کی ضرورت ہے۔ گلوبل وارمنگ کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنے کے لیے  پائیدار زرعی طریقوں پر عمل درآمد جنگلات کی بحالی کی کوشش اور صنعتی اخراج کو کم کرنے جیسے بڑے پیمانے پر عوامل پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو ہم یہ جان لیں کہ آلودگی کیا ہے اس کی کتنی اقسام ہیں ماحولیاتی آلودگی کی نمایاں  اقسام ہیں   پانی کی آلودگی فضائی آلودگی زمینی آلودگی   شور کی آلودگی 1_پانی کی آلودگی  اس وقت ملک میں پائی جانے والی ماحولیاتی آلودگی کی ایک اہم قسم  ہے۔ جس کے حوالے سے ابھی تک کسی قسم کا کوئ...

اتوار کا دن نیا اغاز

  اتوار کا دن ☀️ توانائی اور نیا آغاز لفظ اتوار  سنسکرت کے لفظ ” آدتیہ وار“ سے آیا ہے جس کا  مطلب ہوا سورج سے منسوب دن انگریزی میں Sunday (Sun + day) فارسی میں  یکشنبه (ہفتے کا پہلا دن) اتوار کو سورج سے منسوب دن سمجھا جاتا ہے اور اسی نسبت سے اسے روشنی، حرارت اور توانائی کا دن کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے سے سورج کو زندگی کی بنیاد مانا گیا ہے کیونکہ زمین پر موجود ہر جاندار بالواسطہ یا بلاواسطہ سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ دن اور رات کا نظام، موسموں کی تبدیلی، فصلوں کی نشوونما اور انسانی جسم کی حرارت سب سورج ہی سے جڑی ہوئی ہیں اس لیے جس دن کو سورج سے نسبت دی گئی وہ دن خود بخود طاقت اور زندگی کی علامت بن گیا۔ اتوار کو اکثر ہفتے کے آغاز کے طور پر دیکھا جاتا ہے اس لیے اسے نئے عزم، تازہ سوچ اور آگے بڑھنے کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے اس دن انسان کے اندر خود اعتمادی اور خود شناسی کا پہلو زیادہ نمایاں مانا جاتا ہے۔ نجومی اور روایتی تصورات میں سورج انسان کی شخصیت، ارادے، وقار اور قیادت کی علامت ہے، اسی وجہ سے اتوار کو اپنے مقاصد پر غور کرنے خود کو منظم کرنے اور آنے والے د...

خاندانی نظام اور جمع تقسیم

  مشترکہ خاندانی نظام آج کے زمانے میں بھی کارآمد ہے یا الگ رہنا زیادہ بہتر اور پرسکون ہے؟ یہ سوال بظاہر سادہ لگتا ہے مگر درحقیقت معاشرتی، نفسیاتی، اور دینی لحاظ سے گہرا مفہوم رکھتا ہے۔ انسان جب سے دنیا میں آیا ہے خاندان اس کی زندگی کی بنیادی اکائی رہا ہے۔ یہی خاندان محبت، تربیت، ذمہ داری، اور احساسِ تعلق کا پہلا درس دیتا ہے اسلام ہمیں خاندان کو محض ایک رہائشی ضرورت نہیں بلکہ عبادت ، رحمت اور تعلق کا مرکز قرار دیتا ہے۔ قرآن میں بارہا رشتہ داری، حسنِ سلوک، اور قرابت داروں سے محبت کی تاکید کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (سورۃ النساء: 1) ترجمہ: اور اللہ سے ڈرو، جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اور رشتہ داریوں کا بھی خیال رکھو۔ یہ آیت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ جڑے رہنا  ان کا خیال رکھنا ان سے تعلقات مضبوط رکھنا اللہ کے نزدیک نیکی ہے۔ یہی وہ روح ہے جس پر مشترکہ خاندانی نظام  قائم ہوتا ہے  ایک ایسا نظام جہاں سب ایک دوسرے کے سہارے بنتے ہیں۔ مشترکہ خاندان کے نظام میں زندگی کا حسن یہ ہے کہ ہر فرد دوسرے کی مدد میں شریک رہتا ہے اگر کسی پر مش...