آرگینک خوراک سے مراد ایسی غذا ہے جو قدرتی طریقوں سے پیدا کی جائے اور جس کی کاشت، پرورش، ذخیرہ سازی اور تیاری کے دوران مصنوعی کیمیکلز، نقصان دہ جراثیم کش ادویات، مصنوعی کھادوں، ہارمونز اور غیر ضروری کیمیائی اضافوں کا استعمال نہ کیا گیا ہو۔ آج کی تیز رفتار دنیا میں جہاں خوراک کی پیداوار بڑھانے کے لیے مختلف مصنوعی طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں، وہاں آرگینک خوراک کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انسان کی صحت، ماحول کی حفاظت اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے آرگینک خوراک کو ایک محفوظ اور پائیدار انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ قدرت نے انسان کو ایسی غذا فراہم کی ہے جو جسم کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ بیماریوں سے بچانے میں بھی مدد دیتی ہے۔ جب فصلوں کو قدرتی مٹی، نامیاتی کھاد، کمپوسٹ، گوبر کی کھاد، سبز کھاد اور قدرتی ذرائع سے حاصل ہونے والی غذائیت کے ذریعے اگایا جاتا ہے تو ان میں موجود غذائی اجزاء بہتر انداز میں برقرار رہتے ہیں۔ اسی طرح آرگینک سبزیوں، پھلوں اور اناج میں مصنوعی کیمیائی باقیات کم یا نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ انسانی صحت کے لیے زیادہ محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔ آرگین...
زندگی کا سفر عجیب بھی ہے اور خوبصورت بھی۔ بچپن میں ہمیں جلدی بڑی عمر تک پہنچنے کی خواہش ہوتی ہے۔ لگتا ہے کہ بڑے ہو کر آزادی ہوگی اپنی مرضی کے فیصلے ہوں گے اور زندگی آسان ہوجائے گی۔ لیکن وقت کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ عمر تو بڑھتی ہے مگر اس کے ساتھ ذمہ داریاں بھی بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ بچپن کھیل کود، خوابوں اور بے فکری میں گزر جاتا ہے۔ پھر تعلیم کا مرحلہ آتا ہے، اچھے نمبروں کی فکر، مستقبل بنانے کی دوڑ، نوکری حاصل کرنے کی جدوجہد اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی خواہش جوانی کا بڑا حصہ اسی بھاگ دوڑ میں گزر جاتا ہے۔ انسان سوچتا ہے کہ بس ایک اچھی نوکری مل جائے تو سکون آجائے گا مگر جیسے ہی ایک منزل ملتی ہے زندگی ایک نئی ذمہ داری سامنے لا کھڑی کرتی ہے۔ شادی کے بعد زندگی کا رخ مکمل طور پر بدل جاتا ہے۔ اب انسان صرف اپنی ذات کے لیے نہیں جیتا بلکہ ایک نئے رشتے اور نئے گھر کی ذمہ داریاں اس کے کاندھوں پر آجاتی ہیں۔ میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، محدود آمدنی میں بھی گھر چلانا ہوتا ہے مہنگائی کا مقابلہ بھی کرنا پڑتا ہے کبھی کرائے کی فکر ہوتی ہے، کبھی اپنا ...