نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

اتوار کا دن نیا اغاز

  اتوار کا دن ☀️ توانائی اور نیا آغاز لفظ اتوار  سنسکرت کے لفظ ” آدتیہ وار“ سے آیا ہے جس کا  مطلب ہوا سورج سے منسوب دن انگریزی میں Sunday (Sun + day) فارسی میں  یکشنبه (ہفتے کا پہلا دن) اتوار کو سورج سے منسوب دن سمجھا جاتا ہے اور اسی نسبت سے اسے روشنی، حرارت اور توانائی کا دن کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے سے سورج کو زندگی کی بنیاد مانا گیا ہے کیونکہ زمین پر موجود ہر جاندار بالواسطہ یا بلاواسطہ سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ دن اور رات کا نظام، موسموں کی تبدیلی، فصلوں کی نشوونما اور انسانی جسم کی حرارت سب سورج ہی سے جڑی ہوئی ہیں اس لیے جس دن کو سورج سے نسبت دی گئی وہ دن خود بخود طاقت اور زندگی کی علامت بن گیا۔ اتوار کو اکثر ہفتے کے آغاز کے طور پر دیکھا جاتا ہے اس لیے اسے نئے عزم، تازہ سوچ اور آگے بڑھنے کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے اس دن انسان کے اندر خود اعتمادی اور خود شناسی کا پہلو زیادہ نمایاں مانا جاتا ہے۔ نجومی اور روایتی تصورات میں سورج انسان کی شخصیت، ارادے، وقار اور قیادت کی علامت ہے، اسی وجہ سے اتوار کو اپنے مقاصد پر غور کرنے خود کو منظم کرنے اور آنے والے د...
حالیہ پوسٹس

خاندانی نظام اور جمع تقسیم

  مشترکہ خاندانی نظام آج کے زمانے میں بھی کارآمد ہے یا الگ رہنا زیادہ بہتر اور پرسکون ہے؟ یہ سوال بظاہر سادہ لگتا ہے مگر درحقیقت معاشرتی، نفسیاتی، اور دینی لحاظ سے گہرا مفہوم رکھتا ہے۔ انسان جب سے دنیا میں آیا ہے خاندان اس کی زندگی کی بنیادی اکائی رہا ہے۔ یہی خاندان محبت، تربیت، ذمہ داری، اور احساسِ تعلق کا پہلا درس دیتا ہے اسلام ہمیں خاندان کو محض ایک رہائشی ضرورت نہیں بلکہ عبادت ، رحمت اور تعلق کا مرکز قرار دیتا ہے۔ قرآن میں بارہا رشتہ داری، حسنِ سلوک، اور قرابت داروں سے محبت کی تاکید کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (سورۃ النساء: 1) ترجمہ: اور اللہ سے ڈرو، جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اور رشتہ داریوں کا بھی خیال رکھو۔ یہ آیت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ جڑے رہنا  ان کا خیال رکھنا ان سے تعلقات مضبوط رکھنا اللہ کے نزدیک نیکی ہے۔ یہی وہ روح ہے جس پر مشترکہ خاندانی نظام  قائم ہوتا ہے  ایک ایسا نظام جہاں سب ایک دوسرے کے سہارے بنتے ہیں۔ مشترکہ خاندان کے نظام میں زندگی کا حسن یہ ہے کہ ہر فرد دوسرے کی مدد میں شریک رہتا ہے اگر کسی پر مش...

کیا آپ بھی خوش رہنا چاہتے ہیں ؟

    ہم سب خوش رہنا چاہتے ہیں کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ مجھے غم چاہیے لیکن سوال یہ ہے کہ پھر بھی اتنے لوگ اداس کیوں ہیں؟ اس کا جواب جو میں اب تک سمجھ سکی ہوں وہ ہے  کہ ہم نے خوشی کو غلط جگہ تلاش کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں خوشی پیسے سے آئے گی، کسی کے بدل جانے سے آئے گی، کسی ایک دن سے آئے گی، شادی کے بعد، کامیابی کے بعد، یا کسی خاص لمحے کے بعد اور جب وہ لمحہ آ بھی جاتا ہے تو خوشی چند دن کی مہمان بن کر چلی جاتی ہے دراصل  خوشی کوئی واقعہ نہیں یہ ایک کیفیت ہے یہ باہر سے نہیں آتی یہ ہمارے اندر سے جاگتی ہے۔ جب میں نے خوشی کے لفظی معنی سمجھے ان کی تفصیل جانی  تو حیرت انگیز طور پر مجھے معلوم ہوا کہ خوشی کا مطلب خ و ش ی خ سے خوف چھوڑ دینا ہم میں سے بہت سے لوگ خوف میں جیتے ہیں کل کا خوف، لوگوں کی باتوں کا خوف،لوگ کیا کہیں گے یہ خوف ، ناکامی کا خوف، تنہائی کا خوف۔ جب دل خوف سے بھرا ہو تو خوشی کے لیے جگہ کہاں بچے گی ؟ جس دن انسان یہ فالتو کے خوف دل سے نکال دیتا ہے  اسی دن خوشی کا پہلا دروازہ کھلتا ہے۔ و سے وسعتِ دل وسعتِ دل کا مطلب ہے دل بڑا کرنا  ہر...

سرد ہواکا آغاز اور ہمارا باغیچہ

  نومبر کا مہینہ آتے ہی فضا بدل جاتی ہے ہوا میں نرمی اترتی ہے دھوپ کا مزاج بھی ٹھہرا ہوا ہو جاتا ہےاور پودے جیسے آہستہ آہستہ مسکرانے لگتے ہیں۔  نومبر کے  مہینے میں درختوں کے پتوں کا زرد اور سرخ ہونا فطرت کے نئے چکر کی علامت ہے  گویا زمین خود کو سردیوں کے لیے تیار کر رہی ہو نومبر کا موسم ٹھنڈی ہوا نرم دھوپ اور راتوں کی ہلکی خنکی کے ساتھ ایک ایسا ماحول بناتا ہے جس میں پودے اپنی اگلی نشوونما کے مرحلے کی تیاری کرتے ہیں یہ وقت باغبانوں کے لیے نہ صرف صفائی اور تیاری کا ہے بلکہ غور و فکر کا بھی کہ کون سے پودے سردیوں میں رہیں گے اور کن پودوں کو آرام دیا جائے گا یہ وہ وقت ہے جب پودوں کو بہت زیادہ پانی کی ضرورت نہیں ہوتی ہوا ٹھنڈی ہونے لگتی ہے اور مٹی میں نمی دیر تک رہتی ہے اس لیے پانی روز نہ دیں بس مٹی کو دیکھ کر ضرورت کے مطابق پانی  دیں  گرمیوں کے مقابلے میں اب پودوں کو کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ بخارات کم بنتے ہیں۔ تاہم مٹی کو خشک نہیں ہونے دینا چاہیے باغبانوں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ پانی جڑوں تک پہنچ رہا ہے یا نہیں کیونکہ سردیوں میں زیادہ پانی دینا بھی نقصان د...

آئیے باغبانی سیکھئے 2025

                2025     آئیے باغبانی سیکھئے  ہماری صحت  ہمارے لیے سب سے بڑی نعمت ہے عقلمندی یہ ہے کہ  کسی بھی مرض میں مبتلہ ہونے سے پہلے ہی احتیاطی تدابیر اختیار کرلی جائیں  ہماری احتیاط ہی ہمیں آئندہ مزید بیماری کے بڑھنے سے بھی بچا سکتی ہےاس کے لئے ضروری ہے کہ اپنی غذا پر توجہ دیں اپنی نیند پوری کریں رات میں جلدی سوئیں صبح جلد اٹھیں واک کریں ورزش  کریں اور   اپنے ماحول  کو  صاف ستھرا رکھیں بہتر آکسیجن اور ہوا کے لئے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں۔ماحول کو بہتر ہم اس ہی وقت بنانے کے قابل ہوں گے جب ہم  خود صحت مند ہوں بیمار انسان کیا ماحول کو صحیح کرسکے گا۔مارکیٹ کی زہریلی اور مضر صحت سبزیاں کھانے کی بجائے کوشش کریں کہ  اپنی سبزیاں خود اگائیں ۔  اپنی صحت کی حفاظت کے لیے جو آسانی سے کرسکتے ہیں وہ ہم کریں ۔جب ہم باغبانی  کی بات کرتے ہیں تو ہم مختلف  پودے اپنے گھر میں رکھتے ہیں جن میں   مختلف  سجاوٹی اور پھولوں والے پودے بھی ہوتے ہیں  پھول...

شجر کاری میں مہنگائی رکاوٹ نہیں

  شجر کاری میں مہنگائی رکاوٹ نہیں ہے۔ شجرکاری ماحولیاتی تحفظ، آلودگی میں کمی، موسمیاتی توازن اور حیاتیاتی تنوع کے لیے  نہایت اہم ہے۔  اکثر یت کے خیال میں شجرکاری کے لیے مہنگے پودے خریدنا ضروری ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ شجر کاری صرف مہنگے نرسری کے پودے خرید کر ہی نہیں ہوتی، بلکہ سستے اور قدرتی طریقوں سے بھی ممکن ہے۔ ذیل میں چند طریقے دئے جارہے ہیں جن پر عمل کرکے ہر فرد  شجر کاری میں حصہ لے کر اپنے حصہ کا پودا لگا سکتا ہے ۔ 1ـ موسم کی سبزیوں اور پھلوں کے بیجوں سے نئے پودے اگائیں آم، جامن، لیچی، پپیتا، مالٹا، لیموں، انار، تربوز، خربوزہ وغیرہ کے بیج گھریلو پھلوں سے حاصل کریں۔انہیں مٹی میں لگا کر آپ مفت پودے اُگا سکتے ہیں۔         2- کچھ سبزیوں جیسے جڑوں والی سبزیاں گاجر مولی شلجم چقندر کے اوپر کے حصہ کو کاٹ کر زمین میں لگایا جائے تو پودے نکل آتے ہیں ان پودوں سے ان سبزیوں کے بیج تیار کرسکتے ہیں کچھ سبزیوں جیسے اوریگینو تلسی نیازبو پودینہ کی شاخیں لگادی جائیں تو پودے نکل آتے ہیں ۔اس کے علاوہ جڑوں والی سبزیوں آلو ادرک اروی کو بیج کے طور پر لگا سکت...

نئے رشتے ،نیا ماحول

  سسرال میں دل کیسے لگائیں ؟ ایک نئی زندگی کی شروعات ہر لڑکی کو۔ ایک دن اپنا میکہ ماں باپ کا گھر چھوڑنا پڑتا ہے اپنے سسرال جانا ہی ہوتا ہے اور وہ ہی اس کا اصل گھر ہوتا ہے اگر جوائنٹ فیملی سسٹم ہے تو سسرال میں دل لگانا سسرال والوں کا دل جیتنا تھوڑا مشکل ضرور ہوتا ہے لیکن سمجھدار لڑکیاں جنھوں نے اپنی ماں سے یہ گر سیکھا ہوتا ہے وہ آسانی اور سمجھداری کے ساتھ سسرال کو بھی ایک دن اپنا میکہ بنالیتی ہیں شادی کے بعد سسرال میں دل لگانا ہر لڑکی کے لیے ایک بڑا جذباتی اور عملی مرحلہ ہوتا ہے۔ شادی کے بعد لڑکی کے لیے ایک نئی زندگی، نیا ماحول، اور نئے رشتوں کا آغاز ہوتا ہے۔سسرال ایک نیا ماحول ہےاس ماحول میں  دل لگنے میں وقت لگتا ہے۔شروع میں سب کچھ اجنبی لگ سکتا ہے، لیکن آہستہ آہستہ انسیت پیدا ہوتی ہے۔شادی کےبعد سسرال میں دل لگانے کے لیے سب سے پہلی چیز ہے صبر۔ہر رشتہ وقت مانگتا ہے، اور وقت کے ساتھ محبت جنم لیتی ہے. لڑکی کو چاہیے کہ سسرال میں گھر کے افراد سسر، ساس، دیور، نند وغیرہ سب کے ساتھ ادب، محبت اور عزت سے پیش آئیں۔ان کے مزاج، پسند و ناپسند کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ گھر کے کاموں اور معا...