ذندگی کے وجود میں آتے ہی بقأ کی جدوجہد شروع ہوجاتی ہےخطرات سے بچاؤ کے لیے قدرت نے ہمیں خوف کا احساس بخشا ہے تاکہ ہم اپنی ذندگی کو محفوظ رکھ سکیں۔ غصہ دراصل خوف ہی کی ایک شکل ہے جو ہمیں نقصان سے بچانے کی خاطرمقابلے کے لیے تیار کرتا ہے۔ مگر اس لالچی اور خود غرض دنیا میں انسان توازن برقرار نہیں رکھ پاتا اس طرح غصہ اس کے قابو سے باہر ہوجاتا ہے۔ غصہ ایک ایسا رویہ ہے جسے کوئی بھی پسند نہیں کرتا یہ نہ صرف شخصیت کو داغدار کرتا ہے بلکہ جسم کے اندرونی قوت مدافعت کے نظام پر بار بار بوجھ ڈال کر انسان کو السر، فالج، ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض میں مبتلا کردیتا ہے۔ زندگی محرومیوں اور ناکامیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں جسے ناکامی کا سامنا نہیں کرناپڑتا ہو۔ اپنی ناکامی کا احساس ہونے پر غصہ غالب آتا ہے ایک مکمل صحت مند انسان بھی ناموافق حالات میں غصہ کا ردعمل ظاہر کرسکتا ہے۔ ذہنی طور پر متوازن ہر شخص اس کیفیت پر قابو پانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ جبکہ ذہنی طور پر کمزور لوگ زیادہ حساس ہوتے ہیں ...
پاکستان میں بڑھتی ہوئی آلودگی پر قابو پانے کے لیے شجرکاری کی حقیقی ضرورت ہے۔شجرکاری نہ صرف شہر کو خوبصورت بناتی ہے بلکہ اس سے آلودگی اور ماحولیاتی بگاڑ کا بھی مقابلہ ہوتا ہے۔ پودے لگانے سے کاربن کے ذخیر ے، گرمی اور شور کی آلودگی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔