اللہ تعالی نے دنیا میں انسان کو بھیجا تو اس کے سامنے دکھ سکھ، امیری غریبی ،سکون و بے چینی ، خوشی و غم ہر طرح کے حالات اس کے سامنے رکھے اور انسان کو اختیار دیا کہ وہ جو چاہے راستے اپنے لئے منتخب کرلے لیکن یہ بھی بتادیا کہ ان سب کی منزل یا نتیجہ مختلف ہوگابعض اوقات غلط راہ کے انتخاب سے انسان پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے دیکھا جائے تو انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ مشکلات سے دور بھاگتا ہے ان کا سامنا نہیں کرنا چاہتا ہے یہ بات بھی ذہن میں ہونا چاہئے کہ دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جس کو کبھی کوئی غم یا پریشانی نہ ہوئی ہو جہاں دن ہے وہاں رات بھی ہے جہاں زندگی ہے وہاں موت بھی ہے کوئی نہ کوئی پریشانی یا دکھ بلا واسطہ یا بلواسطہ انسان کے ساتھ ضرور ہوتا ہے اور یہ ہی زندگی کی حقیقت بھی ہے انسان اپنی پریشانیوں سے بہت جلدی گھبرا جا تا ہے اور اللہ سے شکوہ کرتا ہے کہ اس نے کبھی کسی کو دکھ نہیں دیا کوئی غلط کام نہیں کیا تو پریشانی کا یہ طوق اس کے گلے میں کیوں پڑا ہے اسطرح وہ اپنے آپ کو بدنصیب سمجھ کر اللہ کا نا شکرا بندہ بن جاتا ہے ایسےوقت میں اسے کسی ہمدرد یا سچے دوست کی تلاش ہوتی ہے جو اس کے دکھ ...
پاکستان میں بڑھتی ہوئی آلودگی پر قابو پانے کے لیے شجرکاری کی حقیقی ضرورت ہے۔شجرکاری نہ صرف شہر کو خوبصورت بناتی ہے بلکہ اس سے آلودگی اور ماحولیاتی بگاڑ کا بھی مقابلہ ہوتا ہے۔ پودے لگانے سے کاربن کے ذخیر ے، گرمی اور شور کی آلودگی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔