نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

ڈاکٹر عالیہ خان لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

گھریلو باغبانی (پانچویں کلاس)

  پچھلی کلاس میں  آپ نے موسم کے مطابق کچھ سبزیوں کے بیج بوناسیکھے تھےاب تک تو وہ آپ نے لگا لئے ہوں گے اور اب تو پودے بھی نکل آئے ہوں گے آج کچھ مزید سبزیوں کےبیج لگائیں گے ۔ پیاز کو ہم بیج سے بھی لگا سکتے ہیں اس کی پنیری بھی تیار کی جاتی ہے بیج لگانے اور پنیری لگانے کا طریقہ پچھلی کلاس میں تفصیل سے بتایا ہے وہ آپ کو اچھی طرح یاد ہوگا اس کے علاوہ  پیاز کو بھی بیج کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں اس ہی طرح ہری پیاز بھی لگا سکتے ہیں ۔پیاز کو دھوپ کی ضرورت ہوتی ہے پیاز لگانے کے کچھ ہی دن بعد ہرے پتے نکل آئیں گے ان پتوں کو استعمال کرلیں چند روز بعد دوبارہ پتے نکل آئیں گے ۔پیاز کے فوائد اور پیاز لگانے کے متعلق مکمل تفصیل اس وڈیو میں موجود ہے ۔ شلجم سردیوں میں اگائے جائیں سردیوں میں ان کی نشوونما بہتر طریقے سے ہوتی ہے شلجم کے لئے دھوپ ضروری ہے صبح کی دھوپ زیادہ بہتر ہے شلجم کے بیج لگائے جاتے ہیں کسی بھی نرسری سے لے لیں گملے میں کمپوسٹ اور مٹی کی آدھی آدھی مقدار مکس کرکے تیار کرلیں پھر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بیج لگادیں گے بیج لگانے کے طریقے پچھلی کلاس میں بتاچکی ہوں ایک ہفتے...

گھریلو باغبانی ( پہلی کلاس)

آئیے باغبانی شروع کریں۔ آج کے سبق میں باغبانی اور گھریلو باغبانی میں استعمال ہونے والے آلات وبرتن اور اسے کیسے شروع کیا جا ئے گا یہ سب بتاؤں گی ۔ پودوں کو لگانے یا ان کو کاشت کرنے کے طریقے کو باغبانی کہا جاتا ہے ۔باغبانی میں سبزیوں اور پھلوں کے پودے، پھولوں کے پودے جڑوں والی سبزیاں، ادویاتی پودے، صحرائی پودے اور درخت وغیرہ شامل ہیں ۔ کچھ پودے گھر کے اندر لگائے جاتے ہیں انھیں زیادہ دھوپ کی ضرورت نہیں ہوتی   وہ انڈور پلانٹ کہلاتے ہیں اور جنھیں سورج کی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے وہ آؤٹ ڈور پلانٹ کہلاتے ہیں ہم یہاں پر گھریلو باغبانی یعنی سبزیاں لگا نے کی بات کریں گے آپ سوچ رہے ہونگے کہ سبزیاں تو مارکیٹ سے آسانی سے مل جاتی ہیں پھر کیوں اتنی محنت سے سبزیاں گھر میں اگائیں ان کی دیکھ بھال کریں پھر اتنے انتظار کے بعد سبزی ملے اس سے تو بہتر ہے کہ مارکیٹ جائیں سبزی لائیں اور پکا کر دستر خوان کی زینت بنالیں ۔ آج کے دور میں یہ بہت حساس معاملہ ہے خاص طور پر جہاں صحت وزندگی کا معاملہ ہو اس لئے میں سبزیوں کے اگانے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات دینا چاہتی ہوِں ...

خود رحمی افسردگی کا سبب ہے

زندگی کبھی یکساں نہیں رہتی کبھی خوشی کبھی غم یہ ہی زندگی ہے زندگی کے اتار چڑھا ؤ ہی ہمیں جینے کا سلیقہ سکھاتے ہیں جو انسان زندگی کے معنی سمجھ گیا وہ کامیاب ہو گیا لیکن نا سمجھ  زندگی کو اپنے لیے کانٹوں کی سیج بنالیتے ہیں یہ دنیا جنت نہیں ہے یہاں خلاف توقع بھی  ہو سکتا ہے اس دنیا میں ہر لمحہ زندگی کا عیش نہیں ملتا  اور جیسا انسان  سوچتا ہےجب اس کے ساتھ ایسا نہیں ہوتاتو اس صورت میں کوئی بھی معمولی سی بات اسےڈپریشن میں مبتلا کردیتی ہے۔اور افسردگی اور مایوسی کا سبب بنتی ہے اور وہ انسان اپنے آپ پر ترس کھانے لگتا ہے یہ ہی خود رحمی ہے ۔ ہم میں سے کچھ لوگ دوسروں کے مقابلے میں زندگی میں زیادہ تنگی اور تکلیف دہ واقعات کا تجربہ حاصل کرتے ہیں ہم حیران ہوتے ہیں کہ ہم نے کیا کیا ہے یہ سزا تو برے لوگوں کو ملنی چاہیئے۔ زندگی میں بری چیزیں پیش آنے پرانسان اس کا مقابلہ کیسے کرتا ہے اس سے انسان کے کردار اور  اس کی زندگی کے معیار کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ اداسی کا شکار بھی ہوسکتا ہے صدمہ سے ساکت بھی ہوسکتا ہے یا پھر اس درد سے نئی زندگی جی اٹھتا ہے اور قدرت کے عطا کردہ ...

دعا یقین کا احساس ہے

اللہ تعالی نے دنیا میں انسان کو بھیجا تو اس کے سامنے دکھ سکھ، امیری غریبی ،سکون و بے چینی ، خوشی و غم ہر طرح کے  حالات اس کے سامنے رکھے اور انسان کو اختیار دیا کہ وہ جو چاہے راستے اپنے لئے منتخب کرلے لیکن یہ بھی بتادیا کہ ان سب کی منزل یا نتیجہ مختلف ہوگابعض اوقات غلط راہ کے انتخاب سے انسان پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے دیکھا جائے تو انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ مشکلات سے دور بھاگتا ہے ان کا سامنا نہیں کرنا چاہتا ہے یہ بات بھی ذہن میں ہونا چاہئے کہ دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جس کو کبھی کوئی غم یا پریشانی نہ ہوئی ہو جہاں دن ہے وہاں رات بھی ہے جہاں زندگی ہے وہاں موت بھی ہے کوئی نہ کوئی پریشانی یا دکھ بلا واسطہ یا بلواسطہ انسان کے ساتھ ضرور ہوتا ہے اور یہ ہی زندگی کی حقیقت بھی ہے انسان اپنی پریشانیوں سے بہت جلدی گھبرا جا تا ہے اور اللہ سے شکوہ کرتا ہے کہ اس نے کبھی کسی کو دکھ نہیں دیا کوئی غلط کام نہیں کیا تو پریشانی کا یہ طوق اس کے گلے میں کیوں پڑا ہے اسطرح وہ اپنے آپ کو بدنصیب سمجھ کر اللہ کا نا شکرا بندہ بن جاتا ہے ایسےوقت میں اسے کسی ہمدرد یا سچے دوست کی تلاش ہوتی ہے جو اس کے دکھ ...

دعا یقین کا احساس ہے

اللہ تعالی نے دنیا میں انسان کو بھیجا تو اس کے سامنے دکھ سکھ، امیری غریبی ،سکون و بے چینی ، خوشی و غم ہر طرح کے  حالات اس کے سامنے رکھے اور انسان کو اختیار دیا کہ وہ جو چاہے راستے اپنے لئے منتخب کرلے لیکن یہ بھی بتادیا کہ ان سب کی منزل یا نتیجہ مختلف ہوگابعض اوقات غلط راہ کے انتخاب سے انسان پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے دیکھا جائے تو انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ مشکلات سے دور بھاگتا ہے ان کا سامنا نہیں کرنا چاہتا ہے یہ بات بھی ذہن میں ہونا چاہئے کہ دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جس کو کبھی کوئی غم یا پریشانی نہ ہوئی ہو جہاں دن ہے وہاں رات بھی ہے جہاں زندگی ہے وہاں موت بھی ہے کوئی نہ کوئی پریشانی یا دکھ بلا واسطہ یا بلواسطہ انسان کے ساتھ ضرور ہوتا ہے اور یہ ہی زندگی کی حقیقت بھی ہے انسان اپنی پریشانیوں سے بہت جلدی گھبرا جا تا ہے اور اللہ سے شکوہ کرتا ہے کہ اس نے کبھی کسی کو دکھ نہیں دیا کوئی غلط کام نہیں کیا تو پریشانی کا یہ طوق اس کے گلے میں کیوں پڑا ہے اسطرح وہ اپنے آپ کو بدنصیب سمجھ کر اللہ کا نا شکرا بندہ بن جاتا ہے ایسےوقت میں اسے کسی ہمدرد یا سچے دوست کی تلاش ہوتی ہے جو اس کے دکھ ...