انسانی اعمال کا دارومدار انسان کی نیت پر ہے اور نیت کی تخلیق سوچوں پر انحصار کرتی ہیں، سوچیں خیالات کی یلغار سے جنم لیتی ہیں اور خیالات انسان کے ماحول اور صحبت کا عکس ہوتے ہیں۔ ماحول اور صحبتیں اپنانا اور رد کرنا انسان کے اختیار میں ہوتا ہے۔ اگر اردگرد احساس محرومی، عدم تحفظ، تنہائی، خود غرضی، جھوٹ، منافقت اور دنیا داری ہو تو انسانی خیالات منفیت کے سائے میں ہوتے ہیں ایسے میں منفی سوچیں پروان چڑھنے لگتی ہیں انسان کی سوچ کا اعلی معیار ہی درحقیقت اسے آدمیت کے درجے پر فائز کرتا ہے ۔ سوچ میں منفیت زہر قاتل ہے جو نہ صرف انسان بلکہ پورے معاشرے کو کھوکھلا کردیتی ۔منفی سوچیں جرم کا آغاز ہوتی ہیں اور ذہنی امراض منفی سوچ کا شاخسانہ ہوتے ہیں۔ دنیا کا ہر فرد ذہنی رکاوٹوں کا شکار رہتا ہے یہ بات تقریباً ناممکن ہے کہ کسی شخص میں کوئی خامی نہ ہو اور کوئی غلطی سرزد نہ ہو۔ ہم جیسے لوگوں کی صحبت میں رہتے ہیں جس طرح کی باتیں پڑھتے اور سنتے ہیں ہمارا دماغ ان باتوں کا اثر قبول کرتا ہے۔ منفی سوچ کے حامل لوگوں کو اگر زندگی میں چند ناکامیاں دیکھنا پڑجائیں تو وہ ...
پاکستان میں بڑھتی ہوئی آلودگی پر قابو پانے کے لیے شجرکاری کی حقیقی ضرورت ہے۔شجرکاری نہ صرف شہر کو خوبصورت بناتی ہے بلکہ اس سے آلودگی اور ماحولیاتی بگاڑ کا بھی مقابلہ ہوتا ہے۔ پودے لگانے سے کاربن کے ذخیر ے، گرمی اور شور کی آلودگی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔