پودوں کو شدید گرمی سے کیسے بچائیں ۔ گرمی کا موسم انسانوں کے ساتھ ساتھ پودوں کے لیے بھی ایک امتحان ہوتا ہے خاص طور پر وہ پودے جو گھروں کی چھتوں، بالکونیوں، آنگنوں یا گملوں میں لگے ہوتے ہیں شدید دھوپ اور تیز گرم ہواؤں سے بہت جلد متاثر ہوجاتے ہیں۔ کئی بار صبح تک ہرے بھرے نظر آنے والے پودے شام تک مرجھائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ پتے جلنے لگتے ہیں مٹی خشک ہوکر پتھر جیسی ہوجاتی ہے کلیاں گرنے لگتی ہیں اور بعض اوقات پورا پودا سوکھ جاتا ہے۔ لیکن اگر چند اہم باتوں کا خیال رکھا جائے تو سخت گرمی میں بھی پودوں کو تروتازہ، ہرا بھرا اور صحت مند رکھا جاسکتا ہے۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ گرمی میں پودے صرف دھوپ سے نہیں مرتے بلکہ اصل نقصان “ہیٹ اسٹریس” یعنی حد سے زیادہ حرارت اور پانی کی کمی سے ہوتا ہے۔ جب گملے کی مٹی بہت گرم ہوجاتی ہے تو جڑیں پانی جذب کرنا کم کردیتی ہیں اوپر سے تیز دھوپ پتوں سے نمی کھینچتی رہتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پودا اندر سے کمزور ہونے لگتا ہے۔ اس لیے گرمی میں پودوں کی حفاظت کا سب سے اہم اصول “جڑوں کو ٹھنڈا رکھنا” ہے۔ بہت سے لوگ گرمی میں بار بار پانی دے کر سمجھتے ہیں کہ ...
پاکستان میں بڑھتی ہوئی آلودگی پر قابو پانے کے لیے شجرکاری کی حقیقی ضرورت ہے۔شجرکاری نہ صرف شہر کو خوبصورت بناتی ہے بلکہ اس سے آلودگی اور ماحولیاتی بگاڑ کا بھی مقابلہ ہوتا ہے۔ پودے لگانے سے کاربن کے ذخیر ے، گرمی اور شور کی آلودگی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔