نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جنوری, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

خاندانی نظام اور جمع تقسیم

  مشترکہ خاندانی نظام آج کے زمانے میں بھی کارآمد ہے یا الگ رہنا زیادہ بہتر اور پرسکون ہے؟ یہ سوال بظاہر سادہ لگتا ہے مگر درحقیقت معاشرتی، نفسیاتی، اور دینی لحاظ سے گہرا مفہوم رکھتا ہے۔ انسان جب سے دنیا میں آیا ہے خاندان اس کی زندگی کی بنیادی اکائی رہا ہے۔ یہی خاندان محبت، تربیت، ذمہ داری، اور احساسِ تعلق کا پہلا درس دیتا ہے اسلام ہمیں خاندان کو محض ایک رہائشی ضرورت نہیں بلکہ عبادت ، رحمت اور تعلق کا مرکز قرار دیتا ہے۔ قرآن میں بارہا رشتہ داری، حسنِ سلوک، اور قرابت داروں سے محبت کی تاکید کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (سورۃ النساء: 1) ترجمہ: اور اللہ سے ڈرو، جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اور رشتہ داریوں کا بھی خیال رکھو۔ یہ آیت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ جڑے رہنا  ان کا خیال رکھنا ان سے تعلقات مضبوط رکھنا اللہ کے نزدیک نیکی ہے۔ یہی وہ روح ہے جس پر مشترکہ خاندانی نظام  قائم ہوتا ہے  ایک ایسا نظام جہاں سب ایک دوسرے کے سہارے بنتے ہیں۔ مشترکہ خاندان کے نظام میں زندگی کا حسن یہ ہے کہ ہر فرد دوسرے کی مدد میں شریک رہتا ہے اگر کسی پر مش...

کیا آپ بھی خوش رہنا چاہتے ہیں ؟

    ہم سب خوش رہنا چاہتے ہیں کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ مجھے غم چاہیے لیکن سوال یہ ہے کہ پھر بھی اتنے لوگ اداس کیوں ہیں؟ اس کا جواب جو میں اب تک سمجھ سکی ہوں وہ ہے  کہ ہم نے خوشی کو غلط جگہ تلاش کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں خوشی پیسے سے آئے گی، کسی کے بدل جانے سے آئے گی، کسی ایک دن سے آئے گی، شادی کے بعد، کامیابی کے بعد، یا کسی خاص لمحے کے بعد اور جب وہ لمحہ آ بھی جاتا ہے تو خوشی چند دن کی مہمان بن کر چلی جاتی ہے دراصل  خوشی کوئی واقعہ نہیں یہ ایک کیفیت ہے یہ باہر سے نہیں آتی یہ ہمارے اندر سے جاگتی ہے۔ جب میں نے خوشی کے لفظی معنی سمجھے ان کی تفصیل جانی  تو حیرت انگیز طور پر مجھے معلوم ہوا کہ خوشی کا مطلب خ و ش ی خ سے خوف چھوڑ دینا ہم میں سے بہت سے لوگ خوف میں جیتے ہیں کل کا خوف، لوگوں کی باتوں کا خوف،لوگ کیا کہیں گے یہ خوف ، ناکامی کا خوف، تنہائی کا خوف۔ جب دل خوف سے بھرا ہو تو خوشی کے لیے جگہ کہاں بچے گی ؟ جس دن انسان یہ فالتو کے خوف دل سے نکال دیتا ہے  اسی دن خوشی کا پہلا دروازہ کھلتا ہے۔ و سے وسعتِ دل وسعتِ دل کا مطلب ہے دل بڑا کرنا  ہر...