مشترکہ خاندانی نظام آج کے زمانے میں بھی کارآمد ہے یا الگ رہنا زیادہ بہتر اور پرسکون ہے؟
یہ سوال بظاہر سادہ لگتا ہے مگر درحقیقت معاشرتی، نفسیاتی، اور دینی لحاظ سے گہرا مفہوم رکھتا ہے۔ انسان جب سے دنیا میں آیا ہے خاندان اس کی زندگی کی بنیادی اکائی رہا ہے۔ یہی خاندان محبت، تربیت، ذمہ داری، اور احساسِ تعلق کا پہلا درس دیتا ہے اسلام ہمیں خاندان کو محض ایک رہائشی ضرورت نہیں بلکہ عبادت، رحمت اور تعلق کا مرکز قرار دیتا ہے۔ قرآن میں بارہا رشتہ داری، حسنِ سلوک، اور قرابت داروں سے محبت کی تاکید کی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
(سورۃ النساء: 1)
ترجمہ: اور اللہ سے ڈرو، جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اور رشتہ داریوں کا بھی خیال رکھو۔
یہ آیت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ جڑے رہنا ان کا خیال رکھنا ان سے تعلقات مضبوط رکھنا اللہ کے نزدیک نیکی ہے۔ یہی وہ روح ہے جس پر مشترکہ خاندانی نظام قائم ہوتا ہے ایک ایسا نظام جہاں سب ایک دوسرے کے سہارے بنتے ہیں۔
مشترکہ خاندان کے نظام میں زندگی کا حسن یہ ہے کہ ہر فرد دوسرے کی مدد میں شریک رہتا ہے اگر کسی پر مشکل آئے تو سب خیال رکھتے ہیں بزرگوں کی موجودگی رہنمائی کا باعث بنتی ہے بچے بزرگوں کی دعاؤں، تجربے، اور تربیت کے زیرِ سایہ پروان چڑھتے ہیں۔ انہیں صبر، شکر، خدمت، اور قربانی جیسی اقدار بچپن سے سکھائی جاتی ہیں۔
قرآنِ مجید میں والدین اور بڑوں کے احترام کے بارے میں فرمایا گیا:
(سورۃ الإسراء: 23)
ترجمہ: اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔
جب خاندان ایک چھت کے نیچے رہتا ہے تو والدین کا احترام عملی طور پر سکھایا جاتا ہے بچے دیکھتے ہیں کہ والدین اور بزرگوں سے محبت و خدمت کیسے کی جاتی ہے یہی وہ تربیت ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہے لیکن ہر نظام کے فائدے کے ساتھ کچھ برائیاں بھی آ جاتی ہیں جب سب ایک ساتھ رہتے ہوں اگر دل بڑے نہ ہوں تو جھگڑے مداخلت اور انا کے مسائل بڑھ جاتے ہیں اگر ہر فرد صرف اپنی سوچ درست سمجھے اور دوسروں کو کم تر جانے تو محبت کی جگہ حسد لے لیتا ہے ایسی صورت میں یہی نظام جو برکت کا باعث ہونا چاہیے تھا الجھن اور تکلیف بن جاتا ہے۔ بعض گھروں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ایک بہو پر زیادہ بوجھ ڈال دیا جاتا ہے یا کسی ایک بیٹے کی آمدنی پورے خاندان پر خرچ ہونے لگتی ہے۔ ایسے حالات میں دلوں میں رنجش پیدا ہوتی ہے۔ قرآنِ مجید میں عدل و انصاف پر بہت زور دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
(سورۃ النحل: 90)
ترجمہ: “بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔”
مشترکہ خاندانی نظام اس وقت تک بہتر ہے جب تک اس میں انصاف، احترام، اور دل کی وسعت قائم رہے۔ اگر وہاں ناانصافی، دباؤ، یا حق تلفی ہو تو یہ نظام اپنی روح کھو دیتا ہے۔اب اگر ہم علیحدہ خاندانی نظام کی بات کریں تو اس کی بنیاد آزادی اور سکون پر ہے۔ الگ گھر میں میاں بیوی اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرتے ہیں بچوں کی تربیت میں مکمل توجہ دے سکتے ہیں اور گھر کا ماحول اپنی پسند سے ترتیب دے سکتے ہیں۔ اسلام نے بھی کسی پر یہ لازم نہیں کیا کہ وہ زبردستی ایک ہی گھر میں رہے۔ بلکہ قرآن کہتا ہے
(سورۃ البقرہ: 286)
ترجمہ: اللہ کسی جان پر اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔
یعنی اگر مشترکہ خاندانی نظام میں رہنا کسی کے لیے دباؤ یا ظلم بن جائے تو الگ رہنا گناہ نہیں بلکہ ایک جائز اور بہتر حل ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ الگ رہنے سے دلوں میں دوری نہ آئے رشتوں میں کٹاؤ نہ ہو بلکہ تعلقات پہلے سے زیادہ عزت اور سمجھ بوجھ کے ساتھ قائم رہیں والدین کے حقوق بھول جانا یا رشتہ داروں سے کٹ جانا ایک غلط طرزِ عمل ہے قرآن میں فرمایا گیا ہے
(سورۃ الإسراء: 26)
ترجمہ: اور قرابت دار کو اس کا حق دو۔
ہم الگ رہیں یا ساتھ، رشتہ داروں کے حقوق، عزت، اور تعلق ہمیشہ قائم رہنے چاہئیں۔بچوں کی تربیت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو دونوں نظاموں کے اثرات مختلف ہوتے ہیں۔ جہاں سب خاندان ایک ہی گھر میں رہتا ہے وہاں بچے مل جل کر رہنا سیکھتے ہیں بڑوں کی موجودگی میں ادب اور ضبط پیدا ہوتا ہے۔ وہ خاندانی بہن بھائیوں کے ساتھ کھیل کر جھگڑ کر اور سیکھ کر زندگی کی عملی حقیقتوں سے واقف ہوتے ہیں۔ انہیں تعلقات کی قیمت سمجھ آتی ہے۔ لیکن اگر گھر میں بڑوں کے درمیان جھگڑے، موازنہ، یا بدگمانی کا ماحول ہو تو یہی بچے نفسیاتی دباؤ میں آ جاتے ہیں۔ وہ سیکھتے ہیں کہ اختلاف کا مطلب دشمنی ہے جو ان کی شخصیت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔
دوسری طرف علیحدہ گھر میں رہنے والے بچے والدین کی مکمل توجہ پاتے ہیں، مگر انہیں خاندان کے دوسرے بچوں کے ساتھ رہنے بانٹنے یا برداشت کرنے کا موقع کم ملتا ہے وہ اکثر تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں اس لیے اگر والدین علیحدہ رہیں تو انہیں چاہیے کہ بچوں کو رشتہ داروں سے جوڑے رکھیں تاکہ ان کی شخصیت میں توازن پیدا ہو۔
دونوں نظاموں کا اصل مقصد محبت سکون اور انصاف پر مبنی گھر بنانا ہے۔ اسلام نے کسی خاص نظام کو لازم نہیں کیا بلکہ اصول دیے ہیں ۔ والدین کی خدمت، رشتہ داروں کے حقوق، عدل، اور باہمی احترام جو گھر ان اصولوں پر چلتا ہے وہی اللہ کے نزدیک بہتر ہے نہ مشترکہ خاندانی نظام بذاتِ خود بہترین ہے اور نہ علیحدہ رہنا اصل خوبی نیت، عمل، اور رویے میں ہے۔ اگر دل بڑے ہوں زبان نرم ہو اور عدل قائم رہے تو مشترکہ خاندانی نظام رحمت بن جاتا ہے اور اگر احترام اور تعلق برقرار رہے تو الگ گھر بھی محبت سے بھرپور جنت بن سکتا ہے۔ خاندان وہ درخت ہے جس کی جڑیں رشتے ہیں تنے پر اعتماد ہے اور پھل محبت ہے اگر ہم اسے محبت اور برداشت کے پانی سے سینچتے رہیں تو چاہے شاخیں الگ الگ ہوں درخت ہمیشہ سرسبز رہے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
(سورۃ الرعد: 21)
ترجمہ: ۔اور وہ لوگ جو ان رشتوں کو جوڑے رکھتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا، اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔
گھر الگ ہوں یا ایک دل جڑے رہیں محبت قائم رہے اور ہر تعلق اللہ کی رضا کے لیے نبھایا جائے ایک چھت تلے رہنا محبت، برکت اور سپورٹ کا ذریعہ بن سکتا ہے وہیں حدود کی کمی اور انا کے ٹکراؤ سے یہ نظام بوجھ بھی بن جاتا ہے۔
قرآن ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کرو مگر عدل اور حدود قائم رکھو، تاکہ خاندان جمع بھی رہے اور دلوں میں تقسیم نہ ہو۔
(عالیہ خان )

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں