ہم سب خوش رہنا چاہتے ہیں کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ مجھے غم چاہیے لیکن سوال یہ ہے کہ پھر بھی اتنے لوگ اداس کیوں ہیں؟ اس کا جواب جو میں اب تک سمجھ سکی ہوں وہ ہے کہ ہم نے خوشی کو غلط جگہ تلاش کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں خوشی پیسے سے آئے گی، کسی کے بدل جانے سے آئے گی، کسی ایک دن سے آئے گی، شادی کے بعد، کامیابی کے بعد، یا کسی خاص لمحے کے بعد اور جب وہ لمحہ آ بھی جاتا ہے تو خوشی چند دن کی مہمان بن کر چلی جاتی ہے دراصل خوشی کوئی واقعہ نہیں یہ ایک کیفیت ہے یہ باہر سے نہیں آتی یہ ہمارے اندر سے جاگتی ہے۔
جب میں نے خوشی کے لفظی معنی سمجھے ان کی تفصیل جانی تو حیرت انگیز طور پر مجھے معلوم ہوا کہ
خوشی کا مطلب
خ و ش ی
خ سے خوف چھوڑ دینا
ہم میں سے بہت سے لوگ خوف میں جیتے ہیں کل کا خوف، لوگوں کی باتوں کا خوف،لوگ کیا کہیں گے یہ خوف ، ناکامی کا خوف، تنہائی کا خوف۔
جب دل خوف سے بھرا ہو تو خوشی کے لیے جگہ کہاں بچے گی ؟
جس دن انسان یہ فالتو کے خوف دل سے نکال دیتا ہے اسی دن خوشی کا پہلا دروازہ کھلتا ہے۔
و سے وسعتِ دل
وسعتِ دل کا مطلب ہے دل بڑا کرنا ہر بات دل پر نہ لینا۔ ہر بات کو اپنی انا سے نہ جوڑنا۔
لوگ کچھ کہیں گے، حالات کچھ کریں گے، لیکن اگر دل وسیع ہو تو انسان ٹوٹتا نہیں۔ یاد رکھیں تنگ دل انسان کو خوشی کم ہی نصیب ہوتی ہے کیونکہ وہ ہر وقت خود کو ثابت کرنے میں لگا رہتا ہے۔
ش سے شکر
شکر خوشی کی بنیاد ہے جو انسان ہر وقت اس بات پر روتا ہے کہ اس کے پاس کیا نہیں ہے وہ کبھی اُس چیز کو نہیں دیکھ پاتا جو اس کے پاس ہے۔اور جو انسان شکر کرنا سیکھ لیتا ہے اُس کے لیے چھوٹی چیزیں بھی بڑی نعمت بن جاتی ہیں۔ پرندوں کا چہچہانا ڈالی پر کھلتا پھول چائے کا کپ سب سے بڑھ کر سانس لینا کسی کا حال پوچھ لینا کسی کی مدد کرنا یہ سب خوشی کے بیج ہیں بس دیکھنے والی نظر اور محسوس کرنے والا دل چاہیے۔ تحقیق اور عملی تجربات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ روزانہ اپنی زندگی کی چھوٹی بڑی نعمتوں کے لیے شکر گزار ہونا دماغ میں خوشی کے ہارمونز بڑھاتا ہے اور منفی سوچوں کو کم کرتا ہے۔ شکرگزاری کے ذریعے انسان زندگی کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کی قدر کرنا سیکھتا ہے چاہے وہ ایک خوبصورت دن کی شروعات ہو یا کسی دوست کی ہنسی
ی سے یقین
یقین اس بات کا کہ جو ہو رہا ہے وہ بے وجہ نہیں ہے کچھ چیزیں ہمیں فوراً سمجھ نہیں آتیں لیکن وقت بتا دیتا ہے کہ وہی ہمارے لیے بہتر تھیں جب دل میں یقین آ جاتا ہے تو بے چینی کم ہو جاتی ہے اور خوشی کو ٹھہرنے کی جگہ مل جاتی ہے۔
ہم اکثر کہتے ہیں “میں خوش کیوں نہیں ہوں؟” لیکن ہم یہ نہیں پوچھتے کہ “میں ہر وقت شکوہ کیوں کر رہا ہوں؟”
خوشی شور نہیں کرتی یہ آہستہ سے آتی ہے یہ اُس لمحے میں ہوتی ہے جب آپ نے کسی سے غیر ضروری بحث نہیں کی
جب آپ نے کسی دوسرے سے خود کو نہیں پرکھا کسی سے مقابلہ نہیں کیا اپنی اہمیت کو سمجھا جو انسان ہر وقت دوڑ رہا ہو وہ رک کر خوشی محسوس ہی نہیں کر پاتا۔
ایک لمحے کے لیے رکیں سانس لیں اور خود سے پوچھیں کیا واقعی میری زندگی میں کچھ بھی اچھا نہیں؟
یا میں نے صرف اچھا دیکھنا چھوڑ دیا ہے؟
خوشی کوئی بڑی چیز نہیں۔
یہ چھوٹے چھوٹے لمحوں میں چھپی ہوتی ہے۔
خاموشی میں، دعا میں، بچوں کی ہنسی میں، کسی پودے کو پانی دیتے ہوئے، کوئی نئی ڈش بناتے ہوئے اپنے لگائے ہوئے پودے سے پھل اتارتے ہوئے۔
آپ کو معلوم ہے جو انسان شکوہ کم اور شکر زیادہ کرتا ہے وہی اصل میں امیر ہوتا ہے اور جو خود سے لڑنا چھوڑ دیتا ہے، خوشی خود اس کے پاس آ جاتی ہے۔
خوشی ایک ایسا احساس ہے جو ہر انسان کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ صرف لمحاتی خوشی نہیں بلکہ ایک گہرا، مسلسل اور داخلی سکون پیدا کرنے والا جذبہ ہے۔ خوشی کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ نہ صرف ہمارے دماغی اور جذباتی توازن کو برقرار رکھتی ہے بلکہ جسمانی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے۔
خوشی کے کچھ چھوٹے چھوٹے راز بھی ہیں جو روزمرہ زندگی میں آسانی سے اپنائے جا سکتے ہیں:
مسکرانا ایک آسان مگر طاقتور عمل ہے جو فوری خوشی دیتا ہے۔
اچھے کام کرنا دماغ میں خوشی بڑھاتا ہے۔ خوشی کے لیے محبت اور تعلقات بھی بہت اہم ہیں۔ اپنے خاندان،دوستوں، اور قریبی لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں، اور ان کے ساتھ مثبت اور حوصلہ افزا بات چیت کریں مراقبہ اور سانس کی مشقیں ذہنی تناؤ کم کرتی ہیں اور اندرونی سکون دیتی ہیں۔فطرت کے ساتھ وقت گزارنا جیسے باغ میں چلنا یا سمندر کنارے بیٹھنا، خوشی بڑھاتا ہے۔
عملی طور پر خوش رہنے کے لیے یہ چھوٹے چھوٹے اصول اپنائیں۔
ہر صبح تین چیزوں کے لیے شکر گزار ہوں دن میں کم از کم دس منٹ اپنے آپ کے لیے خوشی کا وقت نکالیں ہر ہفتے کسی کے لیے اچھا کام کریں اور اپنی سوچ کو مثبت رکھیں۔
خوشی ایک انتخاب ہےیہ حالات یا لوگوں پر منحصر نہیں بلکہ ہماری سوچ، رویہ، اور روزمرہ کی عادات پر منحصر ہے۔ جو لوگ خوشی کو چھوٹے چھوٹے لمحوں میں تلاش کرنا جانتے ہیں، وہ زندگی میں زیادہ اطمینان، سکون اور سکونت محسوس کرتے ہیں۔ یاد رکھیں، خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے، تو دوسروں کے ساتھ اپنی خوشی بھی شیئر کریں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں