گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی آلودگی سے سب واقف ہیں اج پوری دنیا ماحولیاتی آلودگی کی لپیٹ میں آ چکی ہے پوری دنیا میں حیاتیات اور ماحول کا توازن بگڑتا جارہا ہے اور زمین کا درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے مٹی اپنی ذرخیزیت کھوتی جا رہی ہے ہوائیں لطیف سے کثیف ہوتی جا رہی ہیں دریا اور سمندر آلودہ ہوتے جا رہے ہیں ، نباتات و حیوانات سب کے لیے پریشان کن صورتحال ہے ۔دنیا کے تقریبا تمام ممالک ہی ماحولیاتی مسائل کا شکار ہیں گلوبل وارمنگ کے لیے عالمی سطح پر جامع حل کی ضرورت ہے۔ گلوبل وارمنگ کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنے کے لیے پائیدار زرعی طریقوں پر عمل درآمد جنگلات کی بحالی کی کوشش اور صنعتی اخراج کو کم کرنے جیسے بڑے پیمانے پر عوامل پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔
سب سے پہلے تو ہم یہ جان لیں کہ آلودگی کیا ہے اس کی کتنی اقسام ہیں
ماحولیاتی آلودگی کی نمایاں اقسام ہیں
پانی کی آلودگی
فضائی آلودگی
زمینی آلودگی
شور کی آلودگی
1_پانی کی آلودگی
اس وقت ملک میں پائی جانے والی ماحولیاتی آلودگی کی ایک اہم قسم ہے۔ جس کے حوالے سے ابھی تک کسی قسم کا کوئی اقدام نہیں کیا جاسکا اور اسی وجہ سے پاکستان کی آبی مخلوق بہت حد تک نقصان اٹھا چکی ہیں۔ پانی کی آلودگی کی بڑی وجہ کارخانوں سے نکلتا گندہ تیل اور زہریلا مادہ ہے۔جنہیں پانی میں بہا دیا جاتا ہے اور پھر وہی آبی مخلوق اور سی فوڈ کی تباہی کا سبب بنتے ہیں۔
فضائی آلودگی2 ـ
فضائی آلودگی بھی ساری دنیا کے لیے مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اِضافہ جو کہ ایندھن کے جلنے سے کوئلہ ،پٹرول کے جلنے سے اور کارخانوں اور گاڑیوں سے خا رج شدہ دھویں کی وجہ سے ہے ۔ گرین ہاؤس گیس کا باعث بنا ہوا ہے۔ کوڑے کرکٹ کو گلی محلوں میں سرِراہ پھینک کر اور کوڑے کے ڈھیر کو آگ لگا کر ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کیا جاتا ہے درخت لگانے کی بجائے انھیں کاٹ دیا گیا ہے درختوں کی کمی بھی فضائی آلودگی کا سبب ہے ۔
3_ زمینی آلودگی
اس قسم کی آلودگی میں مٹی اور غذا کی آلودگی شامل ہیں مٹی کو آلودہ کرنے میں بھی انسان کا ہی سب سے زیادہ ہاتھ ہے۔جو ہر گندہ مادہ اور کیمیائی تغیرات مٹی میں شامل کر دیتا ہے۔ پھر کھانے کی آلودگی تو آج سب سے زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء میں کھلم کھلی ملاوٹ کر کے کھانے کو خوراک کو انسانی صحت کے لیے زہر آلود بنادیا گیا ہے ۔
4_شور کی آلودگی
یہ بھی ماحولیاتی آلودگی کی ایک قسم ہے جس کی وجہ سے معاشرہ اچھا خاصا بے سکونی کا شکار ہے۔ شور کی آلودگی کی وجوہات میں بڑی گاڑیوں پر لگا اونچا ہارن جس کے بجنے سے ہر انسان اپنے کانوں پر ہاتھ رکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے آج کل لوگ بہت تیزی سے ذہنی دباؤ کا شکار ہورہے ہیں اس ہی طرح اور دوسری مختلف تیز آوازیں اس کا سبب ہیں۔
آلودگی کو ختم کرنے کے انفرادی طور پر جو ہم کرسکتے ہیں وہ ضرور کریں سب سے پہلے تو ہمیں اپنے ماحول کو صاف رکھنے کی ضرورت ہے ضروری ہے کہ ہر جگہ کچرا نہ پھینکیں لیکن اس کے ساتھ ہی کچرے کو ٹھکانے لگانے کا صحیح انتظام بھی ضروری ہے یہ صرف ایک دو شخص سے ممکن نہیں اس کے لیے پوری قوم کو ایک ہونا ہوگا ماحول کو بہتر بنانے اور آلودگی کو دور کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں کیونکہ درخت ہی ایسا قدرتی ذریعہ ہیں جو ہر قسم کی آلودگی کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
گھریلو باغبانی کرکے انفرادی طور پر بھی ہم ان کوششوں میں حصہ ڈال سکتے ہیں اگر چہ یہ اپنے طور پر کافی نہیں ہیں لیکن پھر بھی گھریلو باغبانی کے ذریعے پائیدار طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی کے حل کا ایک اہم حصہ بن سکتے ہیں۔ ہم اپنے گھر کے اندر پودے لگاسکتے میں ہیں جہاں ماحولیاتی مسائل پریشانی کا باعث ہیں وہیں گھریلو باغبانی کے ذریعے بہت سے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔
پودوں کے قریب ہونا اور باغبانی کا کام کرنا اعصابی نظام کو تسکین دیتا ہے۔ پھولوں کی خوشبو، پودوں کا ہرا رنگ ذہن کو سکون دیتا ہے پھول پودوں کو دیکھ کر خوشی کا احساس پیدا ہوتا ہے ۔پودے گھر کے ماحول میں خوبصورتی بکھیرتے ہیں ان کے پھول اور پتے ہمیں خوشی اور سکون دیتے ہیں انھیں دیکھ کر ذہنی اور روحانی سکون حاصل ہوتا ہے پھول پودے گھر کو دلکش اور خوبصورت بناتے ہیں
پودوں کے ذریعہ ہوا میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار کم ہوتی ہے آکسیجن زیادہ بنتی ہے اس طرح گھر کے اندر کی ہوا صاف اور صحت بخش رہتی ہے۔
گھریلو باغبانی کرکے گھر میں ہی پودوں پر تازہ پھل اور سبزیاں اگاسکتے میں ہیں اس طرح مارکیٹ کی کیمیکل کی سبزی اور پھل سے بچا جاسکتا ہے ۔باغبانی کرنے سے اور پودوں کے مختلف کام کرنے سے جسم حرکت میں رہتا ہے اس طرح ورزش بھی ہوتی ہے صبح نکلتے سورج کے وقت پودوں کا کام کرنے سے وٹامن ڈی کا حصول آسان ہوتا ہے اس طرح کیلشیم کی کمی بھی دور ہوتی ہے ۔
پودے سایہ فراہم کرتے ہیں گرمی کے اثرات کو کم کرتے ہیں گھروں میں پودے اگانے سے سخت گرمی اور لو میں گھر ٹھنڈے رہتے ہیں ۔اگر مختلف قسم کے پودے اگائے جائیں تو مختلف قسم کے پرندے اورپولینیٹرز آئیں گے پودوں اور پھولوں سے انھیں مختلف قسم کی خوراک انھیں ملتی ہے رنگیں تتلیاں بھی پھولوں کا رس چوسنے آتی ہیں ۔اپنے گارڈن میں پرندوں کے رہنے اور کھانے کا بھی بندوبست کریں مختلف قسم کے پرندوں کی تعداد زیادہ ہوگی تو اس طرح بائیوڈائیورسٹی میں اصافہ ہوتا ہے ۔باغبانی کرتے ہوئے کچن کے کچرے کو کھاد بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے فالتو برتنوں ،پلاسٹک بوتلوں ،پولیتھین بیگز میں پودے لگائے جاسکتے ہیں اس طرح ماحول سے کچرا بھی کم سے کم کیا جاسکتا ہے۔
پودوں کے قریب رہنے سے بہت سے ذہنی امراض جیسے غصہ ،چڑچڑاپن ٹینشن سے بھی دور رہا جاسکتا ہے ۔
بچوں کو اپنے ساتھ رکھنے سے بچوں میں بھی باغبانی اور ماحول کو سمجھنے کا شعور پیدا ہوتا ہے ۔اگر گھر میں چھوٹا سا باغیچہ ہو تو گھر میں آئے مہمانوں کے لیے بھی خوشی اور تفریح کا باعث ہوتا ہے ۔
باغبانی کے دوران پودوں کو پانی دینا چلنا پھرنا مٹی کی کھدائی اس طرح کے کام صحت کے لیے بہتر ہیں صاف ہوا سے پھیپھڑے مضبوط ہوتے ہیں موٹاپا ختم ہوتا ہے کولسٹرول کا مسئلہ حل ہوتا ہے اس کے ختم ہونے سے یورک ایسڈ ہائی بلڈ پریشر بھی ٹھیک ہوتا ہے دل صحت مند ہوتا ہے ۔
گھر میں سبزیاں اگی ہوں تو گھر کے بجٹ میں کمی آتی ہے مہنگائی کے اس دور میں گھر میں سبزیاں اگانا بہت ضروری ہے ۔
گھر میں دیواروں کا استعمال کرکے ورٹیکل پلانٹرز لگاسکتے ہیں اس طرح زیادہ سے زیادہ پودے اگائے جاسکتے ہیں ۔
باغبانی نہ صرف زمین کو سبز اور خوبصورت بناتی ہے بلکہ یہ ماحول کو صاف، ہوا کو تازہ اور قدرتی توازن کو برقرار رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔باغبانی کے ذریعے ہم نہ صرف اپنی زمین کو بلکہ اپنی دنیا کو بہتر بناتے ہیں۔
۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں