نومبر کا مہینہ آتے ہی فضا بدل جاتی ہے ہوا میں نرمی اترتی ہے دھوپ کا مزاج بھی ٹھہرا ہوا ہو جاتا ہےاور پودے جیسے آہستہ آہستہ مسکرانے لگتے ہیں۔ نومبر کے مہینے میں درختوں کے پتوں کا زرد اور سرخ ہونا فطرت کے نئے چکر کی علامت ہے گویا زمین خود کو سردیوں کے لیے تیار کر رہی ہو نومبر کا موسم ٹھنڈی ہوا نرم دھوپ اور راتوں کی ہلکی خنکی کے ساتھ ایک ایسا ماحول بناتا ہے جس میں پودے اپنی اگلی نشوونما کے مرحلے کی تیاری کرتے ہیں یہ وقت باغبانوں کے لیے نہ صرف صفائی اور تیاری کا ہے بلکہ غور و فکر کا بھی کہ کون سے پودے سردیوں میں رہیں گے اور کن پودوں کو آرام دیا جائے گا یہ وہ وقت ہے جب پودوں کو بہت زیادہ پانی کی ضرورت نہیں ہوتی ہوا ٹھنڈی ہونے لگتی ہے اور مٹی میں نمی دیر تک رہتی ہے اس لیے پانی روز نہ دیں بس مٹی کو دیکھ کر ضرورت کے مطابق پانی دیں گرمیوں کے مقابلے میں اب پودوں کو کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ بخارات کم بنتے ہیں۔ تاہم مٹی کو خشک نہیں ہونے دینا چاہیے باغبانوں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ پانی جڑوں تک پہنچ رہا ہے یا نہیں کیونکہ سردیوں میں زیادہ پانی دینا بھی نقصان د...
پاکستان میں بڑھتی ہوئی آلودگی پر قابو پانے کے لیے شجرکاری کی حقیقی ضرورت ہے۔شجرکاری نہ صرف شہر کو خوبصورت بناتی ہے بلکہ اس سے آلودگی اور ماحولیاتی بگاڑ کا بھی مقابلہ ہوتا ہے۔ پودے لگانے سے کاربن کے ذخیر ے، گرمی اور شور کی آلودگی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔