نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

الیکٹرولائٹس کیا ہیں ؟

 الیکٹرو لائٹس کے بارے میں آپ نے سنا ہوگا آج آپ کو بتاتے ہیں کہ الیکٹرولائٹس کیا ہوتے ہیں ؟ہمارے جسم میں ان کی ضرورت اور اہمیت کیا ہے ؟ان کی کمی سے کیا نقصانات ہوتے ہیں ؟ الیکٹرو لائٹس کی کمی کو کس طرح پورا کیا جاسکتا ہے ؟

ہمارا دماغ، پٹھوں، دل، اور جسم کے دوسرے حصوں کو اعصابی پیغامات   بھیجتا ہے۔ یہ سگنلز بجلی کی لہروں جیسے ہوتے ہیں، اور ان کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے۔ یہ سگنلز الیکٹرولائٹس  کے بغیر نہیں چل سکتے۔الیکٹرولائٹس  جسم میں موجود وہ معدنیات ہوتے ہیں جو خون، پیشاب، رطوبتوں اور خلیات میں پائے جاتے ہیں۔ یہ پانی میں گھل کر مثبت یا منفی چارج والے آئنز  بناتے ہیں اور بجلی کی ترسیل   کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ یہ جسم کے اہم افعال جیسے کہ اعصابی پیغامات کی ترسیل، عضلات کی حرکت، ہائیڈریشن اور لیول کو متوازن رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔جب الیکٹرو لائٹس کا توازن بگڑتا ہے، تو سگنل بھی             کمزور یا غلط ہو جاتے ہیں۔ اس بات کو

آپ نے انگلی جلتی چیز پر رکھی دماغ کو پیغام گیا "جل رہا ہے!"

دماغ فوراً کہتا ہے: "ہاتھ ہٹا لو!"

یہ سارا عمل 1 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں بجلی جیسے سگنلز سے ہوتا ہےاگر الیکٹرولائٹس کم ہوں تو سگنلز سست، غلط یا رک سکتے ہیں۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ الیکٹرولائٹس  جسم کا وائرنگ سسٹم درست رکھنے والے منرلز ہیں  یعنی ان کے بغیر نہ سگنل، نہ حرکت، نہ توانائی ۔اہم الیکٹرولائٹس اور ان کے افعال

سوڈیم– پانی کی مقدار کو کنٹرول کرتا ہے، بلڈ پریشر برقرار رکھتا ہے

پوٹاشیم – دل اور پٹھوں کی حرکت میں مدد دیتا ہے

کیلشیم – ہڈیوں کی مضبوطی، دل کی دھڑکن اور اعصاب کے سگنل۔

میگنیشیم  – عضلاتی افعال، توانائی کی پیداوار

کلورائیڈ  – تیزاب-الکلی توازن برقرار رکھتا ہے۔

بائی کاربونیٹ  – جسم کے pH لیول کو برقرار رکھتا ہے۔ا

لیکٹرولائٹس کی کمی کی علامات

تھکن، سستی ،پٹھوں میں کھنچاؤ یا درد

چکر آنا ،دل کی دھڑکن کا غیر متوازن ہونا ،متلی یا قے ،ذہنی الجھن ،بے ہوشی ہاتھ پاؤں سن ہونا ،بار بار پیشاب آنا یا کم آنا۔

الیکٹرولائٹس کی کمی کی  وجوہات

شدید پسینہ آنا ،اسہال یا قے ،پیشاب آور دوائیں ، گردے کے امراض پانی کی زیادتی یا کمی ڈائٹنگ زیادہ ورزش۔

گرمی کے موسم میں زیادہ پسینہ آنے سے الیکٹرو لائٹس کم ہو جاتے ہیں ضروری ہے کہ پانی کا استعمال زیادہ رکھیں ۔ ،ناریل پانی ۔او آر ایس ،لیمن پانی ۔دہی کی لسی  کا استعمال کریں  اس کے علاوہ رسیلے پھل  جیسے تربوز وغیرہ کا استعمال مفید ہے ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گملوں میں آسانی سے سبزیاں اگائیں ۔

    گھر بیٹھےمدافعتی نظام کو متحرک   رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ گھریلو باغبانی نہ صرف ایک   صحت مند سرگرمی ہے بلکہ ہم اپنے   گھر میں ہی آلودگی اور کیمیکل کے اثرات سے پاک سبزیوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اگر شوق ہے تو اس مضمون کے ذریعے موسم گرما میں سبزیوں کی   گھریلو سطح پر بوائی کی معلومات حاصل کریں۔اور حقیقت میں   مدافعتی نظام کو متحرک رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ موسم گرما کی سبزیاں اگانے کے لیے پندرہ فروری سے بہترین وقت شروع ہوجاتا ہے فروری سے مارچ اپریل تک سبزیوں کے بیج بوئے جاسکتے ہیں کچھ علاقوں میں اپریل کے بعد بھی بیج بوسکتے ہیں لیکن سخت گرمی اور لو میں بیجوں سے پودے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔جن گملوں میں سبزی اگائی جائے وہ گملہ بارہ انچ سے بڑا ہو۔   گملہ جتنا بڑا ہوگا پودے کی نشوونما بھی اچھی ہوگی اور سبزی بھی وافر مقدار میں میسر آسکے گی سبزیوں کے لیے موسم گرما میں صبح کی پانچ سے چھ گھنٹے کی دھوپ لازمی ہوتی ہے۔ سبزی کے پودے کو صبح ایک بار پانی لازمی دیں تیز دھوپ اور لو سے بچاؤ کے   لیے گرین نیٹ کا استعمال بھی کرسکتے ہیں پودے کو گ...

معیاری سبزی کے لیے نامیاتی کھاد کی تیاری

زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے مختلف قسم کی کھاد کا  استعمال ضروری ہوتا ہے۔کھاد میں دیگر کار آمد اشیا کے علاوہ نائٹروجن کے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔ جب پودوں کو پانی دیا جاتا ہے تو یہ مرکبات پانی میں حل ہو جاتے ہیں اور پھر پودے کی جڑیں اُن کو چوس کر تنے، شاخوں اور پتوں وغیرہ تک پہنچا دیتی ہیں۔ جانوروں کے فضلے سے جو کھاد خود بخود بن جاتی ہے اُس کی مقدار محدود ہے اور تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ۔ لہٰذا بعض کیمیائی مرکبات مصنوعی کھاد کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں  جن کے ذیلی اثرات انسانی جسم پر مضر ردعمل  پیدا کرسکتے ہیں۔ البتہ نامیاتی کھاد  کی تیاری سے اس خرابی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جس میں قدرتی طور پر  نائٹروجن کے مرکبات حل ہوجاتے ہیں اور پودوں کو غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ گھریلو باغبانی کے لیے  کھاد اپنے گھر میں  خودہی  تیار کریں ہمارے گھروں میں روزانہ ہی مختلف قسم کا کچرا جمع ہوجاتا ہے اس کچرے کی ایک بڑی مقدار کچن سے نکلنے والا  کچرا ہے اگر ہم اس کچرے کو ضائع کرنے کی بجائے اس سے اپنے گھر میں ہی  اپنے پودوں کے لئے کھ...

مثبت سوچ سے زندگی سدھاریں

انسانی ذہن پر سوچ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے ز ندگی کا ہر منظر سوچ سے ہی جنم لیتا ہے۔ سوچ سے انسانی جذبات بنتے ہیں اور اس سے عمل وجود میں آتا ہے سوچ دو طرح کی ہوتی ہے۔ مثبت سوچ اور منفی سوچ یعنی اچھی اور بری سوچ کامیابی اور ناکامی ان ہی دو سوچوں کا نتیجہ ہے۔  خیالات کا ذ ہن میں پیدا ہونا ایک قدرتی رجحان ہے مگر خیال کو سوچ میں تبدیل کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ انسان کے خیالات ہی اس کی شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے کا موجب ہے مثبت خیالات مثبت سوچ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں مثبت سوچ کامیابی کی طرف لے جانے والی وہ سڑک ہے جس پر چلنے والا اپنی منزل کو پالیتا ہے ۔ہماری تمام حرکات  ہماری سوچ کے زیراثرہوتی ہیں یعنی یہ ہماری سوچ ہی ہےجو ہم سے عوامل سرزد کراتی ہے مثبت سوچ دراصل اچھی اور صحیح سوچ ھےایک مثبت سوچ کا حامل انسان یقیناً مثبت خیالات اور تخلیقات کو ہی منظر عام پر لائے گا۔مثبت سوچ اچھے خیالات کی وجہ بنتی ھے جس کے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔زندگی میں کامیابی کا اسی فیصد انحصار  ہمارے رویے پر ہے   اور رویہ  سوچ سے جنم لیتا ہےمثبت سوچ سے مثبت ...