نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اتوار کا دن نیا اغاز

  اتوار کا دن ☀️ توانائی اور نیا آغاز لفظ اتوار  سنسکرت کے لفظ ” آدتیہ وار“ سے آیا ہے جس کا  مطلب ہوا سورج سے منسوب دن انگریزی میں Sunday (Sun + day) فارسی میں  یکشنبه (ہفتے کا پہلا دن) اتوار کو سورج سے منسوب دن سمجھا جاتا ہے اور اسی نسبت سے اسے روشنی، حرارت اور توانائی کا دن کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے سے سورج کو زندگی کی بنیاد مانا گیا ہے کیونکہ زمین پر موجود ہر جاندار بالواسطہ یا بلاواسطہ سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ دن اور رات کا نظام، موسموں کی تبدیلی، فصلوں کی نشوونما اور انسانی جسم کی حرارت سب سورج ہی سے جڑی ہوئی ہیں اس لیے جس دن کو سورج سے نسبت دی گئی وہ دن خود بخود طاقت اور زندگی کی علامت بن گیا۔ اتوار کو اکثر ہفتے کے آغاز کے طور پر دیکھا جاتا ہے اس لیے اسے نئے عزم، تازہ سوچ اور آگے بڑھنے کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے اس دن انسان کے اندر خود اعتمادی اور خود شناسی کا پہلو زیادہ نمایاں مانا جاتا ہے۔ نجومی اور روایتی تصورات میں سورج انسان کی شخصیت، ارادے، وقار اور قیادت کی علامت ہے، اسی وجہ سے اتوار کو اپنے مقاصد پر غور کرنے خود کو منظم کرنے اور آنے والے د...

خاندانی نظام اور جمع تقسیم

  مشترکہ خاندانی نظام آج کے زمانے میں بھی کارآمد ہے یا الگ رہنا زیادہ بہتر اور پرسکون ہے؟ یہ سوال بظاہر سادہ لگتا ہے مگر درحقیقت معاشرتی، نفسیاتی، اور دینی لحاظ سے گہرا مفہوم رکھتا ہے۔ انسان جب سے دنیا میں آیا ہے خاندان اس کی زندگی کی بنیادی اکائی رہا ہے۔ یہی خاندان محبت، تربیت، ذمہ داری، اور احساسِ تعلق کا پہلا درس دیتا ہے اسلام ہمیں خاندان کو محض ایک رہائشی ضرورت نہیں بلکہ عبادت ، رحمت اور تعلق کا مرکز قرار دیتا ہے۔ قرآن میں بارہا رشتہ داری، حسنِ سلوک، اور قرابت داروں سے محبت کی تاکید کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (سورۃ النساء: 1) ترجمہ: اور اللہ سے ڈرو، جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اور رشتہ داریوں کا بھی خیال رکھو۔ یہ آیت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ جڑے رہنا  ان کا خیال رکھنا ان سے تعلقات مضبوط رکھنا اللہ کے نزدیک نیکی ہے۔ یہی وہ روح ہے جس پر مشترکہ خاندانی نظام  قائم ہوتا ہے  ایک ایسا نظام جہاں سب ایک دوسرے کے سہارے بنتے ہیں۔ مشترکہ خاندان کے نظام میں زندگی کا حسن یہ ہے کہ ہر فرد دوسرے کی مدد میں شریک رہتا ہے اگر کسی پر مش...

کیا آپ بھی خوش رہنا چاہتے ہیں ؟

    ہم سب خوش رہنا چاہتے ہیں کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ مجھے غم چاہیے لیکن سوال یہ ہے کہ پھر بھی اتنے لوگ اداس کیوں ہیں؟ اس کا جواب جو میں اب تک سمجھ سکی ہوں وہ ہے  کہ ہم نے خوشی کو غلط جگہ تلاش کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں خوشی پیسے سے آئے گی، کسی کے بدل جانے سے آئے گی، کسی ایک دن سے آئے گی، شادی کے بعد، کامیابی کے بعد، یا کسی خاص لمحے کے بعد اور جب وہ لمحہ آ بھی جاتا ہے تو خوشی چند دن کی مہمان بن کر چلی جاتی ہے دراصل  خوشی کوئی واقعہ نہیں یہ ایک کیفیت ہے یہ باہر سے نہیں آتی یہ ہمارے اندر سے جاگتی ہے۔ جب میں نے خوشی کے لفظی معنی سمجھے ان کی تفصیل جانی  تو حیرت انگیز طور پر مجھے معلوم ہوا کہ خوشی کا مطلب خ و ش ی خ سے خوف چھوڑ دینا ہم میں سے بہت سے لوگ خوف میں جیتے ہیں کل کا خوف، لوگوں کی باتوں کا خوف،لوگ کیا کہیں گے یہ خوف ، ناکامی کا خوف، تنہائی کا خوف۔ جب دل خوف سے بھرا ہو تو خوشی کے لیے جگہ کہاں بچے گی ؟ جس دن انسان یہ فالتو کے خوف دل سے نکال دیتا ہے  اسی دن خوشی کا پہلا دروازہ کھلتا ہے۔ و سے وسعتِ دل وسعتِ دل کا مطلب ہے دل بڑا کرنا  ہر...