نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

رمضان آپ کی زندگی بدل سکتا ہے

 



رمضان المبارک وہ بابرکت مہینہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں عطا کیا گیا ایک عظیم تحفہ ہے۔ یہ مہینہ صرف کیلنڈر کا ایک حصہ نہیں بلکہ ہماری زندگی کو سنوارنے، دلوں کو جگانے اور روح کو تازگی بخشنے کا ایک سنہری موقع ہے۔ رمضان آتے ہی فضا بدل جاتی ہے، دلوں میں نرمی آ جاتی ہے، عبادت کی طرف رغبت بڑھ جاتی ہے اور انسان خود کو اللہ کے قریب محسوس کرنے لگتا ہے



اکثر ہم روزے کو صرف بھوک اور پیاس تک محدود کر دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ روزہ ایک مکمل تربیت ہے روزہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی خواہشات پر قابو کیسے پائیں اپنے نفس کو کیسے کنٹرول کریں اور صبر کو اپنی زندگی کا حصہ کیسے بنائیں ۔روزے کے ذریعے ہمیں بھوک کا احساس ہوتا ہے اور یہ ہی احساس ہمیں ان لوگوں کے قریب لے جاتا ہے جو روزانہ اس تکلیف سے گزرتے ہیں  اس سے دل میں ہمدردی، رحم اور سخاوت پیدا ہوتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ رمضان میں صدقہ و خیرات بڑھ جاتی ہے لوگ دوسروں کا خیال رکھنے لگتے ہیں اور معاشرے میں محبت اور بھائی چارہ مضبوط ہوتا ہے۔رمضان المبارک قرآنِ مجید سے خاص تعلق رکھتا ہے کیونکہ اسی مہینے میں قرآن نازل ہوا یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قرآن صرف پڑھنے کی کتاب نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل ضابطہ ہے جب ہم رمضان میں قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس پر عمل کرنے کا عزم کرتے ہیں تو ہماری سوچ، ہمارے فیصلے اور ہمارا کردار بدلنے لگتا ہے۔ اگر رمضان کے بعد بھی ہمارا قرآن سے تعلق قائم رہے تو یہی اس مہینے کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

یہ مہینہ ہمیں اخلاقی اصلاح کا بھی درس دیتا ہے روزہ صرف معدے کا نہیں بلکہ آنکھوں، کانوں اور زبان کا بھی ہوتا ہے۔ سچ بولنا، غیبت سے بچنا، غصے پر قابو رکھنا، دوسروں کو تکلیف نہ دینا  یہ سب روزے کی روح ہیں اگر کوئی شخص روزہ رکھ کر بھی بدکلامی کرے یا دوسروں کے حقوق پامال کرے تو وہ روزے کے اصل مقصد سے دور ہو جاتا ہے۔ رمضان ہمیں بہتر انسان بننے کی دعوت دیتا ہے۔رمضان صرف روحانی فوائد ہی نہیں دیتا بلکہ جسمانی صحت کے لیے بھی بے شمار نعمتیں رکھتا ہے۔ روزہ رکھنے سے ہمارے نظامِ ہضم کو آرام ملتا ہے جسم کو خود کو صاف کرنے کا موقع ملتا ہے اور میٹابولزم بہتر ہونے لگتا ہے۔ جب ہم ایک خاص وقت میں کھانا کھاتے ہیں تو جسم میں توازن پیدا ہوتا ہے شوگر لیول، کولیسٹرول اور وزن کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے بشرطیکہ ہم افطارو سحر میں اسراف نہ کریں۔آج کی سائنسی تحقیق بھی یہ بتاتی ہے کہ وقفے وقفے سے روزہ رکھنے سے جسم میں سوزش کم ہو سکتی ہے اور خلیات کی مرمت کا عمل بہتر ہو جاتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ صحت کے فوائد تب ہی حاصل ہوتے ہیں جب ہم سادہ، متوازن غذا کھائیں پانی زیادہ پئیں اور اعتدال اختیار کریں۔ رمضان ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ کم میں برکت ہے اور اعتدال ہی صحت کا راز ہے۔رمضان کی راتیں خاص طور پر دعا کے لیے بہترین وقت ہیں۔ یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب انسان دل سے اللہ کے سامنے جھک جاتا ہے اپنے گناہوں پر نادم ہوتا ہے اور ایک نئی شروعات کی امید لے کر دعا کرتا ہے اس سکون کا کوئی نعم البدل نہیں جو دعا کے بعد دل میں اترتا ہے یہ مہینہ رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا پیغام لے کر آتا ہے۔

آخر میں یہ بات بہت اہم ہے کہ رمضان کو صرف ایک مہینے تک محدود نہ کریں اگر ہم اس مہینے میں سیکھے گئے سبق  صبر، شکر، سچائی، ہمدردی اور اعتدال  کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیں تو ہماری زندگی واقعی بدل سکتی ہے۔ رمضان ہمیں ایک بہتر انسان بننے کی تربیت دیتا ہے اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اس تربیت کو کتنا اپناتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس رمضان کی قدر کرنے اس کے پیغام کو سمجھنے اور اس کے اثرات کو سال بھر اپنی زندگی میں قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گملوں میں آسانی سے سبزیاں اگائیں ۔

    گھر بیٹھےمدافعتی نظام کو متحرک   رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ گھریلو باغبانی نہ صرف ایک   صحت مند سرگرمی ہے بلکہ ہم اپنے   گھر میں ہی آلودگی اور کیمیکل کے اثرات سے پاک سبزیوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اگر شوق ہے تو اس مضمون کے ذریعے موسم گرما میں سبزیوں کی   گھریلو سطح پر بوائی کی معلومات حاصل کریں۔اور حقیقت میں   مدافعتی نظام کو متحرک رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ موسم گرما کی سبزیاں اگانے کے لیے پندرہ فروری سے بہترین وقت شروع ہوجاتا ہے فروری سے مارچ اپریل تک سبزیوں کے بیج بوئے جاسکتے ہیں کچھ علاقوں میں اپریل کے بعد بھی بیج بوسکتے ہیں لیکن سخت گرمی اور لو میں بیجوں سے پودے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔جن گملوں میں سبزی اگائی جائے وہ گملہ بارہ انچ سے بڑا ہو۔   گملہ جتنا بڑا ہوگا پودے کی نشوونما بھی اچھی ہوگی اور سبزی بھی وافر مقدار میں میسر آسکے گی سبزیوں کے لیے موسم گرما میں صبح کی پانچ سے چھ گھنٹے کی دھوپ لازمی ہوتی ہے۔ سبزی کے پودے کو صبح ایک بار پانی لازمی دیں تیز دھوپ اور لو سے بچاؤ کے   لیے گرین نیٹ کا استعمال بھی کرسکتے ہیں پودے کو گ...

معیاری سبزی کے لیے نامیاتی کھاد کی تیاری

زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے مختلف قسم کی کھاد کا  استعمال ضروری ہوتا ہے۔کھاد میں دیگر کار آمد اشیا کے علاوہ نائٹروجن کے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔ جب پودوں کو پانی دیا جاتا ہے تو یہ مرکبات پانی میں حل ہو جاتے ہیں اور پھر پودے کی جڑیں اُن کو چوس کر تنے، شاخوں اور پتوں وغیرہ تک پہنچا دیتی ہیں۔ جانوروں کے فضلے سے جو کھاد خود بخود بن جاتی ہے اُس کی مقدار محدود ہے اور تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ۔ لہٰذا بعض کیمیائی مرکبات مصنوعی کھاد کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں  جن کے ذیلی اثرات انسانی جسم پر مضر ردعمل  پیدا کرسکتے ہیں۔ البتہ نامیاتی کھاد  کی تیاری سے اس خرابی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جس میں قدرتی طور پر  نائٹروجن کے مرکبات حل ہوجاتے ہیں اور پودوں کو غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ گھریلو باغبانی کے لیے  کھاد اپنے گھر میں  خودہی  تیار کریں ہمارے گھروں میں روزانہ ہی مختلف قسم کا کچرا جمع ہوجاتا ہے اس کچرے کی ایک بڑی مقدار کچن سے نکلنے والا  کچرا ہے اگر ہم اس کچرے کو ضائع کرنے کی بجائے اس سے اپنے گھر میں ہی  اپنے پودوں کے لئے کھ...

مثبت سوچ سے زندگی سدھاریں

انسانی ذہن پر سوچ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے ز ندگی کا ہر منظر سوچ سے ہی جنم لیتا ہے۔ سوچ سے انسانی جذبات بنتے ہیں اور اس سے عمل وجود میں آتا ہے سوچ دو طرح کی ہوتی ہے۔ مثبت سوچ اور منفی سوچ یعنی اچھی اور بری سوچ کامیابی اور ناکامی ان ہی دو سوچوں کا نتیجہ ہے۔  خیالات کا ذ ہن میں پیدا ہونا ایک قدرتی رجحان ہے مگر خیال کو سوچ میں تبدیل کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ انسان کے خیالات ہی اس کی شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے کا موجب ہے مثبت خیالات مثبت سوچ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں مثبت سوچ کامیابی کی طرف لے جانے والی وہ سڑک ہے جس پر چلنے والا اپنی منزل کو پالیتا ہے ۔ہماری تمام حرکات  ہماری سوچ کے زیراثرہوتی ہیں یعنی یہ ہماری سوچ ہی ہےجو ہم سے عوامل سرزد کراتی ہے مثبت سوچ دراصل اچھی اور صحیح سوچ ھےایک مثبت سوچ کا حامل انسان یقیناً مثبت خیالات اور تخلیقات کو ہی منظر عام پر لائے گا۔مثبت سوچ اچھے خیالات کی وجہ بنتی ھے جس کے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔زندگی میں کامیابی کا اسی فیصد انحصار  ہمارے رویے پر ہے   اور رویہ  سوچ سے جنم لیتا ہےمثبت سوچ سے مثبت ...