نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بنیادی معدنی جز میگنیشیم

 

جسم کے اندر بے شمار ایسے خاموش عناصر کام کر رہے ہوتے ہیں جن کی موجودگی کا احساس تب تک نہیں ہوتا جب تک ان میں کمی پیدا نہ ہو جائے  انہی پوشیدہ مگر انتہائی اہم عناصر میں ایک معدنی جز میگنیشیم بھی شامل ہے جو نہ صرف جسمانی طاقت بلکہ ذہنی سکون، اعصابی توازن اور دل کی دھڑکن تک کو منظم رکھتا ہے جب اس کی مقدار کم ہونے لگتی ہے تو جسم چیخ کر نہیں بلکہ آہستہ آہستہ اشاروں میں اپنی کمزوری ظاہر کرتا ہے اور یہی خاموش علامات اکثر نظر انداز ہو کر بڑے مسائل میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔
میگنیشیم انسانی جسم کے لیے ایک بنیادی معدنی جز ہے جو جسم کے تقریباً ہر اہم نظام میں   شامل ہوتا ہے  یہ اعصاب کو پرسکون رکھنے، پٹھوں کو متوازن کرنے، دل کی دھڑکن کو درست رکھنے اور توانائی پیدا کرنے کے عمل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ جسم خود میگنیشیم پیدا نہیں کر سکتا اس لیے اسے روزمرہ خوراک سے حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر اس کی مقدار کم ہو جائے تو تھکن، پٹھوں میں کھچاؤ، نیند کی خرابی اور ذہنی بے چینی جیسے مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں۔
ایک عام بالغ انسان کو روزانہ تقریباً 300 سے 400 ملی گرام میگنیشیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ مردوں کے لیے یہ مقدار عموماً تھوڑی زیادہ یعنی 400 ملی گرام تک ہو سکتی ہے جبکہ خواتین کے لیے 300 سے 320 ملی گرام کافی سمجھی جاتی ہے۔ حاملہ خواتین یا زیادہ جسمانی یا ذہنی محنت کرنے والے افراد کو اس سے کچھ زیادہ ضرورت ہو سکتی ہے یہ مقدار کسی ایک چیز سے پوری کرنا مشکل ہوتا ہےاس لیے مختلف غذاؤں کو ملا کر استعمال کرنا ضروری ہے روزمرہ خوراک میں اگر مناسب منصوبہ بندی کی جائے تو میگنیشیم آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک پلیٹ دال (مسور، مونگ یا ماش) میں اچھا خاصا میگنیشیم موجود ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک اور میتھی، خشک میوہ جات جیسے بادام اور اخروٹ، اور بیج جیسے کدو اور السی بھی بہترین ذرائع ہیں۔ اگر کوئی شخص روزانہ ان میں سے تھوڑی تھوڑی چیزیں اپنی خوراک میں شامل کرے تو جسم کی ضرورت قدرتی طور پر پوری ہو سکتی ہے۔پنک سالٹ (ہمالین نمک) میں بھی میگنیشیم سمیت کچھ دیگر معدنیات پائی جاتی ہیں مگر ان کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اس لیے اسے صرف عام نمک کے متبادل یا ذائقے کے لیے استعمال کرنا بہتر ہے نہ کہ میگنیشیم کا بنیادی ذریعہ سمجھنا  اگر صرف پنک سالٹ پر انحصار کیا جائے تو جسم کی ضرورت پوری نہیں ہو سکتی
ایک آسان روزمرہ طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ ناشتہ یا دن کے کسی بھی وقت کچھ بادام، دوپہر میں دال یا سبزی، اور رات کو ہلکی دال یا سبز سبزی شامل کر لی جائے اس کے ساتھ پانی مناسب مقدار میں پینا اور پراسیسڈ فوڈ سے پرہیز کرنا بھی بہت ضروری ہے کیونکہ یہ جسم سے معدنیات کم کر دیتے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ میگنیشیم کوئی ایسی چیز نہیں جو ایک دن میں حاصل ہو جائے بلکہ یہ ایک مسلسل غذائی ضرورت ہے  اگر روزمرہ خوراک کو متوازن رکھا جائے اور قدرتی چیزوں کو ترجیح دی جائے تو نہ صرف میگنیشیم کی کمی پوری ہو سکتی ہے بلکہ جسمانی طاقت، ذہنی سکون اور مجموعی صحت میں بھی واضح بہتری آ سکتی ہے۔
میگنیشیم جسم میں سینکڑوں حیاتیاتی عمل میں حصہ لیتا ہے اور خاص طور پر توانائی بنانے، اعصاب کو کنٹرول کرنے اور پٹھوں کی حرکت کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب اس کی کمی پیدا ہوتی ہے تو سب سے پہلے اس کا اثر پٹھوں پر ظاہر ہوتا ہے عام طور پر لوگ محسوس کرتے ہیں کہ ٹانگوں میں کھچاؤ بڑھ گیا ہےخاص طور پر رات کے وقت پنڈلیوں میں درد یا اچانک اکڑاؤ آ جاتا ہے جو نیند خراب کر دیتا ہے ایک گھریلو خاتون جو دن بھر کام کرتی ہے وہ اسے تھکن سمجھتی ہے لیکن درحقیقت یہ میگنیشیم کی کمی کا واضح اشارہ ہو سکتا ہے۔اسی طرح کچھ افراد کو ہاتھوں اور پیروں میں جھنجھناہٹ یا سن ہونے کا احساس ہوتا ہے یہ کیفیت اعصاب کی حساسیت بڑھنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ایک عام مثال یہ ہے کہ کوئی شخص تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد اٹھے تو پاؤں سوئے ہوئے محسوس ہوتے ہیں یا بار بار سوئیاں چبھنے جیسا احساس ہوتا ہے اگر یہ کیفیت بار بار ہو تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ اعصابی کمزوری کی علامت ہو سکتی ہے۔
ذہنی اور جذباتی سطح پر بھی اس کمی کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں ایک شخص جو بظاہر ٹھیک نظر آتا ہے اندر سے بے چینی، گھبراہٹ اور چڑچڑاپن محسوس کر رہا ہوتا ہے رات کو نیند نہیں آتی یا بار بار آنکھ کھل جاتی ہے اور صبح اٹھ کر بھی تازگی محسوس نہیں ہوتی یہ سب اس لیے ہوتا ہے کیونکہ میگنیشیم دماغ کے سکون دینے والے نظام کو متوازن رکھتا ہے اور جب یہ کم ہو جائے تو دماغ مسلسل تناؤ کی حالت میں رہتا ہے۔
طبی نقطۂ نظر سے میگنیشیم توانائی پیدا کرنے والے نظام کا بنیادی حصہ ہے یہ ATP کی تیاری میں شامل ہوتا ہے جو جسم کی ہر حرکت اور ہر عمل کے لیے ضروری ہے اس کے علاوہ یہ دل کے پٹھوں کو ریلیکس رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر اس کی کمی ہو جائے تو دل کی دھڑکن تیز یا بے ترتیب ہو سکتی ہے جسے بعض لوگ محض گھبراہٹ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں حالانکہ یہ ایک اہم طبی علامت ہو سکتی ہے۔ بلڈ پریشر کا بڑھنا بھی اسی کمی سے جڑا ہوا ہو سکتا ہے کیونکہ خون کی نالیاں سخت ہونے لگتی ہیں۔
ہاضمے کا نظام بھی اس سے متاثر ہوتا ہے۔ بھوک کم لگنا، متلی محسوس ہونا، یا معدے میں بے سکونی رہنا عام علامات ہیں۔ بعض افراد کو قبض یا بدہضمی بھی ہو سکتی ہے اگر یہ کمی طویل عرصے تک جاری رہے تو پٹھوں میں مسلسل جھٹکے، شدید کمزوری، اور حتیٰ کہ دورے پڑنے جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں جو فوری توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں۔
آج کے دور میں اس کمی کی بڑی وجہ ہماری خوراک اور طرز زندگی ہے۔ پراسیسڈ فوڈ، فاسٹ فوڈ اور سفید آٹے کی اشیاء کا زیادہ استعمال جسم کو ضروری معدنیات سے محروم کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ چائے، کافی اور کولڈ ڈرنکس کا زیادہ استعمال بھی میگنیشیم کو جسم سے کم کر دیتا ہے۔ ذہنی دباؤ اور مسلسل ٹینشن بھی اس کی سطح کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ہومیوپیتھک علاج میں اس مسئلے کو علامات کے مطابق حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں Magnesia Phosphorica ایک معروف دوا ہے جو خاص طور پر پٹھوں کے کھچاؤ، اعصابی درد اور کرامپس میں مفید سمجھی جاتی ہےخاص طور پر جب درد گرمائش سے کم ہو جائے۔ اسی طرح Calcarea Phosphorica جسمانی کمزوری اور ہڈیوں کی تھکن میں دی جاتی ہے۔
Kali Phosphoricum
ذہنی تھکن  چینی اور نیند کے مسائل میں فائدہ دیتی ہے۔ ان ادویات کو عموماً 6X یا 30 potency میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ کسی ماہر سے مشورہ لے کر استعمال کیا جائے۔
قدرتی طور پر اس کمی کو پورا کرنا سب سے مؤثر طریقہ ہے سبز پتوں والی سبزیاں، خشک میوہ جات، بیج، دالیں اور پھل جیسے کیلا اس کے بہترین ذرائع ہیں۔دالیں صدیوں سے ہماری غذا کا بنیادی حصہ رہی ہیں مگر اکثر ہم انہیں صرف ایک عام سالن یا سادہ خوراک سمجھ کر کھا لیتے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ قدرت کا ایک قیمتی خزانہ ہیں۔ خاص طور پر اگر بات میگنیشیم جیسے اہم معدنی جز کی ہو تو دالیں ایک سستا آسان اور انتہائی مؤثر ذریعہ ثابت ہوتی ہیں۔ یہ نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتی ہیں بلکہ اعصاب کو مضبوط، پٹھوں کو متوازن اور دل کو صحت مند رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
میگنیشیم جسم میں انرجی بنانےاعصابی نظام کو متوازن رکھنے اور پٹھوں کی حرکت کو درست رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ دالیں اس منرل کو قدرتی اور متوازن انداز میں فراہم کرتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کا اثر دیرپا اور محفوظ ہوتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ دالوں میں موجود میگنیشیم جسم میں آہستہ آہستہ جذب ہوتا ہے جس سے اچانک کمی یا زیادتی کا خطرہ نہیں ہوتا بلکہ جسم کو مستقل سپورٹ ملتی رہتی ہے۔مسور کی دال اس حوالے سے ایک بہترین انتخاب ہے  یہ نہ صرف جلدی پک جاتی ہے بلکہ اس میں میگنیشیم کے ساتھ آئرن بھی وافر مقدار میں ہوتا ہے جو خون کی کمی کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں اگر کوئی شخص کمزوری یا تھکن محسوس کرتا ہے تو مسور کی دال کا باقاعدہ استعمال اسے آہستہ آہستہ توانائی فراہم کرنا شروع کر دیتا ہے۔
چنے کی دال بھی ایک طاقتور ذریعہ ہے جو خاص طور پر جسمانی کمزوری اور اعصابی تھکن میں مفید ثابت ہوتی ہے۔ اس میں موجود میگنیشیم پٹھوں کو مضبوط بناتا ہے اور جسم کو دیرپا توانائی دیتا ہے۔ اسی طرح ماش کی دال اعصابی نظام کے لیے بہت فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔ اگر کسی کو پٹھوں میں کھچاؤ یا جسم میں اکڑاؤ کی شکایت ہو تو ماش کی دال کا استعمال آہستہ آہستہ بہتری لا سکتا ہے۔
مونگ کی دال اپنی ہلکی اور آسانی سے ہضم ہونے والی خصوصیات کی وجہ سے خاص مقام رکھتی ہے یہ ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جو کمزور معدہ رکھتے ہیں یا بیماری کے بعد صحت بحال کر رہے ہوتے ہیں۔ اس میں موجود میگنیشیم نہ صرف جسم کو طاقت دیتا ہے بلکہ ہاضمے کو بھی بہتر بناتا ہے۔ اسی طرح سفید چنا یا کابلی چنا، اگرچہ روایتی دال نہیں مگر میگنیشیم کا ایک زبردست ذریعہ ہے۔ ابلا ہوا چنا یا چنا چاٹ روزمرہ خوراک میں شامل کر کے جسم کو قدرتی طور پر مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔دالوں کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ یہ صرف میگنیشیم ہی نہیں بلکہ دیگر ضروری غذائی اجزاء جیسے پروٹین، فائبر اور مختلف وٹامنز بھی فراہم کرتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کا استعمال جسم کو مجموعی طور پر مضبوط بناتا ہے۔ تاہم بہتر نتائج کے لیے ضروری ہے کہ دالوں کو متوازن غذا کے طور پر استعمال کیا جائے اگر ان کے ساتھ سبز پتوں والی سبزیاں، بیج اور خشک میوہ جات بھی شامل کر لیے جائیں تو میگنیشیم کی کمی بہت تیزی سے اور قدرتی طریقے سے پوری ہو سکتی ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دالوں کا باقاعدہ استعمال فوری نہیں بلکہ آہستہ آہستہ اثر دکھاتا ہے۔ اگر کوئی شخص روزانہ یا ہفتے میں کئی بار دالوں کو اپنی غذا کا حصہ بنائے تو چند ہفتوں میں ہی جسم میں بہتری محسوس ہونے لگتی ہے جیسے تھکن میں کمی، نیند میں بہتری اور پٹھوں کے درد میں کمی۔
حقیقت یہی ہے کہ دالیں ایک سادہ مگر بے حد طاقتور نعمت ہیں جو نہ صرف ہمارے روایتی کھانوں کا حصہ ہیں بلکہ جدید دور کی غذائی کمی کا بہترین حل بھی  ہیں۔ اگر انہیں سمجھداری سے اپنی روزمرہ خوراک میں شامل کر لیا جائے تو میگنیشیم کی کمی کو بغیر مہنگی ادویات کے بھی پورا کیا جا سکتا ہے اور ایک صحت مند، متوازن زندگی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
اگر روزمرہ خوراک میں ان چیزوں کو شامل کر لیا جائے تو نہ صرف یہ کمی دور ہو سکتی ہے بلکہ جسمانی اور ذہنی صحت میں بھی نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔حقیقت یہی ہے کہ میگنیشیم کی کمی ایک خاموش مگر اثر انگیز مسئلہ ہے جو آہستہ آہستہ جسم کو کمزور کرتا ہے۔ اگر اس کے اشاروں کو وقت پر سمجھ لیا جائے اور سادہ احتیاطی تدابیر اختیار کر لی جائیں تو انسان نہ صرف بیماریوں سے بچ سکتا ہے بلکہ ایک متوازن، پرسکون اور صحت مند زندگی بھی گزار سکتا ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گملوں میں آسانی سے سبزیاں اگائیں ۔

    گھر بیٹھےمدافعتی نظام کو متحرک   رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ گھریلو باغبانی نہ صرف ایک   صحت مند سرگرمی ہے بلکہ ہم اپنے   گھر میں ہی آلودگی اور کیمیکل کے اثرات سے پاک سبزیوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اگر شوق ہے تو اس مضمون کے ذریعے موسم گرما میں سبزیوں کی   گھریلو سطح پر بوائی کی معلومات حاصل کریں۔اور حقیقت میں   مدافعتی نظام کو متحرک رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ موسم گرما کی سبزیاں اگانے کے لیے پندرہ فروری سے بہترین وقت شروع ہوجاتا ہے فروری سے مارچ اپریل تک سبزیوں کے بیج بوئے جاسکتے ہیں کچھ علاقوں میں اپریل کے بعد بھی بیج بوسکتے ہیں لیکن سخت گرمی اور لو میں بیجوں سے پودے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔جن گملوں میں سبزی اگائی جائے وہ گملہ بارہ انچ سے بڑا ہو۔   گملہ جتنا بڑا ہوگا پودے کی نشوونما بھی اچھی ہوگی اور سبزی بھی وافر مقدار میں میسر آسکے گی سبزیوں کے لیے موسم گرما میں صبح کی پانچ سے چھ گھنٹے کی دھوپ لازمی ہوتی ہے۔ سبزی کے پودے کو صبح ایک بار پانی لازمی دیں تیز دھوپ اور لو سے بچاؤ کے   لیے گرین نیٹ کا استعمال بھی کرسکتے ہیں پودے کو گ...

معیاری سبزی کے لیے نامیاتی کھاد کی تیاری

زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے مختلف قسم کی کھاد کا  استعمال ضروری ہوتا ہے۔کھاد میں دیگر کار آمد اشیا کے علاوہ نائٹروجن کے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔ جب پودوں کو پانی دیا جاتا ہے تو یہ مرکبات پانی میں حل ہو جاتے ہیں اور پھر پودے کی جڑیں اُن کو چوس کر تنے، شاخوں اور پتوں وغیرہ تک پہنچا دیتی ہیں۔ جانوروں کے فضلے سے جو کھاد خود بخود بن جاتی ہے اُس کی مقدار محدود ہے اور تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ۔ لہٰذا بعض کیمیائی مرکبات مصنوعی کھاد کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں  جن کے ذیلی اثرات انسانی جسم پر مضر ردعمل  پیدا کرسکتے ہیں۔ البتہ نامیاتی کھاد  کی تیاری سے اس خرابی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جس میں قدرتی طور پر  نائٹروجن کے مرکبات حل ہوجاتے ہیں اور پودوں کو غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ گھریلو باغبانی کے لیے  کھاد اپنے گھر میں  خودہی  تیار کریں ہمارے گھروں میں روزانہ ہی مختلف قسم کا کچرا جمع ہوجاتا ہے اس کچرے کی ایک بڑی مقدار کچن سے نکلنے والا  کچرا ہے اگر ہم اس کچرے کو ضائع کرنے کی بجائے اس سے اپنے گھر میں ہی  اپنے پودوں کے لئے کھ...

مثبت سوچ سے زندگی سدھاریں

انسانی ذہن پر سوچ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے ز ندگی کا ہر منظر سوچ سے ہی جنم لیتا ہے۔ سوچ سے انسانی جذبات بنتے ہیں اور اس سے عمل وجود میں آتا ہے سوچ دو طرح کی ہوتی ہے۔ مثبت سوچ اور منفی سوچ یعنی اچھی اور بری سوچ کامیابی اور ناکامی ان ہی دو سوچوں کا نتیجہ ہے۔  خیالات کا ذ ہن میں پیدا ہونا ایک قدرتی رجحان ہے مگر خیال کو سوچ میں تبدیل کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ انسان کے خیالات ہی اس کی شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے کا موجب ہے مثبت خیالات مثبت سوچ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں مثبت سوچ کامیابی کی طرف لے جانے والی وہ سڑک ہے جس پر چلنے والا اپنی منزل کو پالیتا ہے ۔ہماری تمام حرکات  ہماری سوچ کے زیراثرہوتی ہیں یعنی یہ ہماری سوچ ہی ہےجو ہم سے عوامل سرزد کراتی ہے مثبت سوچ دراصل اچھی اور صحیح سوچ ھےایک مثبت سوچ کا حامل انسان یقیناً مثبت خیالات اور تخلیقات کو ہی منظر عام پر لائے گا۔مثبت سوچ اچھے خیالات کی وجہ بنتی ھے جس کے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔زندگی میں کامیابی کا اسی فیصد انحصار  ہمارے رویے پر ہے   اور رویہ  سوچ سے جنم لیتا ہےمثبت سوچ سے مثبت ...