نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

پودا انڈور رکھیں یا آؤٹ ڈور

  آئیے باغبانی سیکھیے

نئے باغبان اپنے پودوں کی ضرورت کو سمجھیں سب سے اہم مسئلہ ہم پودے کو کہاں رکھیں  پودا انڈور ہے یا آؤٹ ڈور ۔

گھر یا باغ میں پودے لگانے کا شوق بہت خوبصورت ہے لیکن اکثر نئے باغبان ایک بڑی الجھن کا شکار ہوتے ہیں کہ کون سا پودا کم دھوپ میں رہے گا اور کون سا کھلی دھوپ میں رہے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر پودے کی اپنی “روشنی کی زبان” ہوتی ہے اگر آپ اسے سمجھ لیں تو باغبانی بہت آسان ہو جاتی ہے۔ کم دھوپ والے پودے دراصل وہ ہوتے ہیں جو قدرتی طور پر جنگل میں درختوں کے سائے تلے اگتے ہیں یعنی جنگل کے فرش پر جہاں سورج کی روشنی براہِ راست نہیں بلکہ چھن کر آتی ہے ایسے پودے نرم، ٹھنڈی اور ہلکی روشنی میں بہتر بڑھتے ہیں اور تیز دھوپ انہیں نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔



گھر کے اندر رکھے جانے والے زیادہ تر پودے اسی قسم کے ہوتے ہیں جیسے اسنیک پلانٹ، منی پلانٹ (پوتھوس)، پیس للی، زی زی پلانٹ اور فرنز وغیرہ۔ ان پودوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان کے پتے عموماً گہرے سبز، نرم اور چوڑے ہوتے ہیں کیونکہ وہ کم روشنی کو بھی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس جو پودے زیادہ دھوپ پسند کرتے ہیں جیسے گلاب، سورج مکھی اور دوسرے پھولوں کے پودے  یا سبزیوں کے پودے  ان کے پتے نسبتاً سخت، ہلکے سبز یا باریک ہو سکتے ہیں اور انہیں روزانہ کئی گھنٹے کی براہ راست دھوپ چاہیے ہوتی ہے۔

نئے  باغبان کو سب سے پہلے روشنی کو سمجھنا سیکھنا چاہیے ۔ اگر آپ کے گھر میں ایسی جگہ ہے جہاں سورج کی روشنی سیدھی نہیں آتی مگر کمرہ روشن رہتا ہے تو یہ کم دھوپ یا “انڈائریکٹ لائٹ” کہلاتی ہے اور یہ انڈور پودوں کے لیے بہترین ہوتی ہے۔ اگر دھوپ کھڑکی سے سیدھی آکر پودے پر پڑ رہی ہے تو یہ براہ راست روشنی ہے جو ہر پودے کے لیے مناسب نہیں ہوتی۔ ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنا ہاتھ دھوپ میں رکھ کر دیکھیں اگر سایہ بہت تیز اور واضح بن رہا ہے تو روشنی زیادہ ہے اگر سایہ ہلکا اور دھندلا ہے تو یہ کم روشنی ہے۔یہ پہچاننا بھی ضروری ہے کہ کون سا پودا انڈور ہے اور کون سا آؤٹ ڈور۔ عام طور پر انڈور پودے وہ ہوتے ہیں جو کم روشنی، کم ہوا اور نسبتاً کم درجہ حرارت میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ ان کے پتے نازک ہوتے ہیں اور وہ تیز دھوپ یا تیز ہوا برداشت نہیں کر پاتے۔ آؤٹ ڈور پودے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں، انہیں کھلی ہوا، بارش اور دھوپ کی عادت ہوتی ہے۔ اگر آپ کسی پودے کو گھر کے اندر رکھیں اور وہ آہستہ آہستہ مرجھانے لگے پتے پیلے ہوں یا گرنے لگیں تو اس کا مطلب ہے کہ شاید اسے زیادہ روشنی یا کھلی جگہ چاہیے۔ اسی طرح اگر کوئی پودا باہر رکھ کر جلنے لگے پتوں پر بھورے دھبے آ جائیں یا وہ سکڑنے لگے تو سمجھ لیں اسے کم روشنی چاہیے۔

نئے باغبان کے لیے ایک اور آسان اصول یہ ہے کہ پودے کے پتے دیکھ کر اندازہ لگائیں۔ بڑے، نرم اور گہرے سبز پتے والے پودے عموماً کم روشنی پسند کرتے ہیں جبکہ چھوٹے، موٹے یا کھردرے پتے والے پودے زیادہ دھوپ کے عادی ہوتے ہیں۔ اسی طرح اگر پودے کے پتے چمکدار اور مومی ہوں تو وہ روشنی کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ دھندلے اور نرم پتے حساس ہوتے ہیں۔

پودے کو پانی کیسے اور کتنا دیں  یہ بھی اہم ہے کم دھوپ والے پودے آہستہ بڑھتے ہیں اس لیے انہیں کم پانی چاہیے ہوتا ہے۔ زیادہ پانی دینے سے ان کی جڑیں گل سکتی ہیں۔ اس کے برعکس دھوپ والے پودے زیادہ پانی مانگتے ہیں کیونکہ دھوپ میں مٹی جلدی خشک ہو جاتی ہے۔ نئے لوگ اکثر یہی غلطی کرتے ہیں کہ ہر پودے کو ایک جیسا پانی دیتے ہیں، جبکہ اصل راز پودے کی روشنی اور ضرورت کو سمجھنا ہے۔

ایک سمجھدار باغبان وقت کے ساتھ اپنے پودوں کی “باڈی لینگویج” پڑھنا سیکھ جاتا ہے۔ پتے جھک جائیں تو پانی یا روشنی کی کمی ہو سکتی ہے، پتے جل جائیں تو دھوپ زیادہ ہے، اور اگر پودا لمبا تو ہو رہا ہو مگر کمزور لگے تو روشنی کم ہے۔ یہ سب اشارے ہیں جو پودا خود دیتا ہے بس آپ کو غور کرنا ہے۔شروع میں بہتر یہی ہے کہ آپ آسان اور برداشت والے کم دھوپ کے پودوں سے آغاز کریں جیسے سنیک پلانٹ یا منی پلانٹ، کیونکہ یہ نئے لوگوں کی چھوٹی موٹی غلطیاں بھی برداشت کر لیتے ہیں۔ جیسے جیسے آپ کا تجربہ بڑھے گا آپ خود سمجھ جائیں گے کہ کون سا پودا کہاں خوش رہے گا۔ باغبانی دراصل کتابوں سے زیادہ مشاہدے کا کھیل ہے جتنا آپ اپنے پودوں کو دیکھیں گے اتنا ہی وہ آپ کو اپنی ضرورت خود بتاتے جائیں گے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گملوں میں آسانی سے سبزیاں اگائیں ۔

    گھر بیٹھےمدافعتی نظام کو متحرک   رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ گھریلو باغبانی نہ صرف ایک   صحت مند سرگرمی ہے بلکہ ہم اپنے   گھر میں ہی آلودگی اور کیمیکل کے اثرات سے پاک سبزیوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اگر شوق ہے تو اس مضمون کے ذریعے موسم گرما میں سبزیوں کی   گھریلو سطح پر بوائی کی معلومات حاصل کریں۔اور حقیقت میں   مدافعتی نظام کو متحرک رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ موسم گرما کی سبزیاں اگانے کے لیے پندرہ فروری سے بہترین وقت شروع ہوجاتا ہے فروری سے مارچ اپریل تک سبزیوں کے بیج بوئے جاسکتے ہیں کچھ علاقوں میں اپریل کے بعد بھی بیج بوسکتے ہیں لیکن سخت گرمی اور لو میں بیجوں سے پودے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔جن گملوں میں سبزی اگائی جائے وہ گملہ بارہ انچ سے بڑا ہو۔   گملہ جتنا بڑا ہوگا پودے کی نشوونما بھی اچھی ہوگی اور سبزی بھی وافر مقدار میں میسر آسکے گی سبزیوں کے لیے موسم گرما میں صبح کی پانچ سے چھ گھنٹے کی دھوپ لازمی ہوتی ہے۔ سبزی کے پودے کو صبح ایک بار پانی لازمی دیں تیز دھوپ اور لو سے بچاؤ کے   لیے گرین نیٹ کا استعمال بھی کرسکتے ہیں پودے کو گ...

معیاری سبزی کے لیے نامیاتی کھاد کی تیاری

زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے مختلف قسم کی کھاد کا  استعمال ضروری ہوتا ہے۔کھاد میں دیگر کار آمد اشیا کے علاوہ نائٹروجن کے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔ جب پودوں کو پانی دیا جاتا ہے تو یہ مرکبات پانی میں حل ہو جاتے ہیں اور پھر پودے کی جڑیں اُن کو چوس کر تنے، شاخوں اور پتوں وغیرہ تک پہنچا دیتی ہیں۔ جانوروں کے فضلے سے جو کھاد خود بخود بن جاتی ہے اُس کی مقدار محدود ہے اور تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ۔ لہٰذا بعض کیمیائی مرکبات مصنوعی کھاد کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں  جن کے ذیلی اثرات انسانی جسم پر مضر ردعمل  پیدا کرسکتے ہیں۔ البتہ نامیاتی کھاد  کی تیاری سے اس خرابی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جس میں قدرتی طور پر  نائٹروجن کے مرکبات حل ہوجاتے ہیں اور پودوں کو غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ گھریلو باغبانی کے لیے  کھاد اپنے گھر میں  خودہی  تیار کریں ہمارے گھروں میں روزانہ ہی مختلف قسم کا کچرا جمع ہوجاتا ہے اس کچرے کی ایک بڑی مقدار کچن سے نکلنے والا  کچرا ہے اگر ہم اس کچرے کو ضائع کرنے کی بجائے اس سے اپنے گھر میں ہی  اپنے پودوں کے لئے کھ...

مثبت سوچ سے زندگی سدھاریں

انسانی ذہن پر سوچ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے ز ندگی کا ہر منظر سوچ سے ہی جنم لیتا ہے۔ سوچ سے انسانی جذبات بنتے ہیں اور اس سے عمل وجود میں آتا ہے سوچ دو طرح کی ہوتی ہے۔ مثبت سوچ اور منفی سوچ یعنی اچھی اور بری سوچ کامیابی اور ناکامی ان ہی دو سوچوں کا نتیجہ ہے۔  خیالات کا ذ ہن میں پیدا ہونا ایک قدرتی رجحان ہے مگر خیال کو سوچ میں تبدیل کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ انسان کے خیالات ہی اس کی شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے کا موجب ہے مثبت خیالات مثبت سوچ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں مثبت سوچ کامیابی کی طرف لے جانے والی وہ سڑک ہے جس پر چلنے والا اپنی منزل کو پالیتا ہے ۔ہماری تمام حرکات  ہماری سوچ کے زیراثرہوتی ہیں یعنی یہ ہماری سوچ ہی ہےجو ہم سے عوامل سرزد کراتی ہے مثبت سوچ دراصل اچھی اور صحیح سوچ ھےایک مثبت سوچ کا حامل انسان یقیناً مثبت خیالات اور تخلیقات کو ہی منظر عام پر لائے گا۔مثبت سوچ اچھے خیالات کی وجہ بنتی ھے جس کے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔زندگی میں کامیابی کا اسی فیصد انحصار  ہمارے رویے پر ہے   اور رویہ  سوچ سے جنم لیتا ہےمثبت سوچ سے مثبت ...