نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

پودوں کو شدید گرمی سے کیسے بچا ئیں

 


پودوں کو شدید گرمی سے کیسے بچائیں ۔

گرمی کا موسم انسانوں کے ساتھ ساتھ پودوں کے لیے بھی ایک امتحان ہوتا ہے خاص طور پر وہ پودے جو گھروں کی چھتوں، بالکونیوں، آنگنوں یا گملوں میں لگے ہوتے ہیں شدید دھوپ اور تیز گرم ہواؤں سے بہت جلد متاثر ہوجاتے ہیں۔ کئی بار صبح تک ہرے بھرے نظر آنے والے پودے شام تک مرجھائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ پتے جلنے لگتے ہیں مٹی خشک ہوکر پتھر جیسی ہوجاتی ہے کلیاں گرنے لگتی ہیں اور بعض اوقات پورا پودا سوکھ جاتا ہے۔ لیکن اگر چند اہم باتوں کا خیال رکھا جائے تو سخت گرمی میں بھی پودوں کو تروتازہ، ہرا بھرا اور صحت مند رکھا جاسکتا ہے۔



سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ گرمی میں پودے صرف دھوپ سے نہیں مرتے بلکہ اصل نقصان “ہیٹ اسٹریس” یعنی حد سے زیادہ حرارت اور پانی کی کمی سے ہوتا ہے۔ جب گملے کی مٹی بہت گرم ہوجاتی ہے تو جڑیں پانی جذب کرنا کم کردیتی ہیں اوپر سے تیز دھوپ پتوں سے نمی کھینچتی رہتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پودا اندر سے کمزور ہونے لگتا ہے۔ اس لیے گرمی میں پودوں کی حفاظت کا سب سے اہم اصول “جڑوں کو ٹھنڈا رکھنا” ہے۔

بہت سے لوگ گرمی میں بار بار پانی دے کر سمجھتے ہیں کہ پودا محفوظ ہوگیا حالانکہ غلط وقت پر دیا گیا پانی نقصان بھی کرسکتا ہے۔ دوپہر کے وقت جب گملہ آگ کی طرح گرم ہو تو ٹھنڈا پانی ڈالنے سے جڑوں کو جھٹکا لگتا ہے۔ اسی طرح پتوں پر تیز دھوپ میں پانی ڈالنے سے پتے جل سکتے ہیں۔ بہترین وقت صبح سویرے سورج نکلنے سے پہلے ہے اگر کسی وجہ سے صبح پانی نہ دے سکیں تو  شام چار بجے کے بعد دے سکتے ہیں لیکن شام کو پانی دینا معمول نہ بنائیں کیونکہ یہ میرا سالوں کا تجربہ ہے جب بھی شام میں پانی دیا پودوں پر بیماریوں اور کیڑوں نے حملہ کردیا  اس وقت مٹی آہستہ آہستہ پانی جذب کرتی ہے اور پودا پورا دن نمی برقرار رکھتا ہے زیادہ نمی کی وجہ سے مسائل بھی ہوتے ہیں ۔ 

گرمی میں پانی دینے کا طریقہ بھی اہم ہے صرف اوپر سے ہلکا سا پانی ڈالنا کافی نہیں ہوتا پانی اتنا دیں کہ گملے کے نیچے سوراخ سے نکلنے لگے۔ اس کا مطلب ہے کہ جڑوں تک نمی پہنچ گئی ہے لیکن اگر گملے میں پانی کھڑا رہنے لگے تو جڑیں گل سکتی ہیں  اس لیے اچھا ڈرینیج بہت ضروری ہے۔ گملے کے نیچے سوراخ بند نہیں ہونے چاہئیں۔

شدید گرمی میں مٹی بہت جلد خشک ہوجاتی ہے، اس لیے ملچ کا استعمال بے حد فائدہ مند ہوتا ہے۔ ملچ یعنی مٹی کے اوپر خشک پتے، بھوسہ، ناریل کا چھلکا، لکڑی کا برادہ یا گھاس بچھا دینا اس سے سورج کی تپش سیدھی مٹی پر نہیں پڑتی اور نمی زیادہ دیر برقرار رہتی ہے۔ جو لوگ روز بار بار پانی نہیں دے سکتے ان کے لیے ملچنگ کسی نعمت سے کم نہیں۔شدید گرمی دھوپ سے چھت پر رکھے گملے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ اوپر سے دھوپ اور نیچے سے گرم فرش دونوں مل کر گملے کو تندور بنا دیتے ہیں اگر ممکن ہو تو گملوں کے نیچے لکڑی، اینٹ یا اسٹینڈ رکھیں تاکہ گملہ براہ راست گرم فرش کو نہ چھوئے اس چھوٹی سی احتیاط سے جڑیں کافی حد تک محفوظ رہتی ہیں۔

بہت سے نئے باغبان گرمی میں پودوں کو مکمل دھوپ میں ہی چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ ہر پودا ایک جیسی دھوپ برداشت نہیں کرسکتا کچھ پودے جیسے گلاب، بوگن ویلیا اور سن فلاور دھوپ پسند ہوتے ہیں جبکہ منی پلانٹ، اسنیک پلانٹ، پوتھوس، فرن، پیس للی اور کئی انڈور پودے شدید دھوپ میں جل جاتے ہیں۔ گرمیوں میں خاص طور پر دوپہر 12 بجے سے 4 بجے تک کی دھوپ بہت خطرناک ہوتی ہے اس وقت شیڈ نیٹ، سبز جالی، پردہ یا کسی بڑے پودے کا سایہ چھوٹے پودوں کو بچا سکتا ہے۔


اگر پتوں کے کنارے بھورے ہونے لگیں، پتے لٹک جائیں یا رنگ پھیکا پڑنے لگے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ پودا گرمی سے پریشان ہے۔ ایسے وقت میں فوراً کھاد ڈالنے کے بجائے پہلے پودے کو آرام دیں۔ بہت سے لوگ کمزور پودے کو طاقت دینے کے لیے کھاد ڈال دیتے ہیں لیکن شدید گرمی میں زیادہ کھاد جڑوں کو جلا سکتی ہے خاص طور پر یوریا یا تیز کیمیکل والی کھادیں گرمی میں احتیاط سے استعمال کرنی چاہئیں۔ گرمیوں میں ہلکی نامیاتی کھاد جیسے ورمی کمپوسٹ، گوبر کی پرانی کھاد یا کیلے کے چھلکوں کی کھاد بہتر رہتی ہے۔


پودوں کی صفائی بھی ضروری ہے۔ گرد اور مٹی پتوں پر جم جائے تو پودا صحیح طریقے سے سانس نہیں لے پاتا۔ صبح کے وقت نرم پانی کے اسپرے سے پتے صاف کیے جاسکتے ہیں اس سے نمی بھی ملتی ہے اور پودا تازہ محسوس کرتا ہے۔ لیکن رات میں پتوں کو گیلا چھوڑنا بعض بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔

گرمی میں ہوا کا گزر بہت اہم ہے بعض لوگ پودوں کو بچانے کے لیے انہیں مکمل بند جگہ پر رکھ دیتے ہیں جہاں ہوا نہیں پہنچتی اس سے نمی اور گرمی مل کر فنگس اور کیڑوں کو دعوت دیتی ہیں۔ پودوں کو ایسی جگہ رکھیں جہاں روشنی بھی ہو اور ہوا بھی چلتی رہے۔

چھوٹے گملے جلد خشک ہوجاتے ہیں جبکہ بڑے گملے زیادہ دیر نمی رکھتے ہیں۔ اس لیے اگر کوئی پودا بار بار مرجھاتا ہو تو اسے بڑے گملے میں منتقل کرنا فائدہ مند ہوسکتا ہے۔ مٹی میں کوکوپیٹ، کمپوسٹ اور باغ کی مٹی کا مناسب امتزاج گرمی میں نمی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

کچن ویسٹ کمپوسٹ استعمال کرنے والے باغبانوں کو گرمی میں خاص احتیاط کرنی چاہیے کیونکہ بہت زیادہ گیلی یا تازہ کمپوسٹ مٹی کو گرم کرسکتی ہے اور کیڑے بھی پیدا کرسکتی ہے۔ ہمیشہ اچھی طرح تیار شدہ کمپوسٹ استعمال کریں۔اگر آپ روزانہ مصروف رہتے ہیں تو خودکار طریقے بھی اپنا سکتے ہیں بوتل کو الٹا کرکے گملے میں لگانا، ڈرپ سسٹم جیسے آسان طریقے مٹی کو مسلسل نم رکھتے ہیں۔ بعض لوگ پرانے کپڑے کی پٹی ایک برتن کے پانی میں ڈال کر دوسرا سرا گملے میں رکھتے ہیں اس سے آہستہ آہستہ نمی جڑوں تک پہنچتی رہتی ہے۔

شدید گرمی میں کچھ پودوں کا مرجھانا عارضی بھی ہوتا ہےکئی پودے دوپہر میں جھک جاتے ہیں مگر شام میں دوبارہ تازہ ہوجاتے ہیں۔ اس لیے فوراً گھبرا کر زیادہ پانی نہ دیں پہلے مٹی چیک کریں اگر مٹی اندر سے نم ہے تو صرف پودا گرمی کی وجہ سے وقتی دباؤ میں ہے۔پودوں سے محبت صرف پانی دینے کا نام نہیں بلکہ ان کی زبان سمجھنے کا نام ہے ہر پتا، ہر رنگ، ہر جھکاؤ ایک پیغام دیتا ہے۔ جو باغبان روزانہ اپنے پودوں کو غور سے دیکھتا ہے، وہ جلد سمجھ جاتا ہے کہ کون سا پودا پیاسا ہے کس کو سایہ چاہیے اور کون گرمی برداشت کر رہا ہے۔ گرمی چاہے کتنی بھی شدید ہو، تھوڑی سی توجہ، صحیح وقت پر پانی، مناسب سایہ اور محبت بھرے خیال سے گھر کے پودے نہ صرف زندہ رہتے ہیں بلکہ پوری گرمی میں خوبصورت اور سرسبز بھی دکھائی دیتے ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گملوں میں آسانی سے سبزیاں اگائیں ۔

    گھر بیٹھےمدافعتی نظام کو متحرک   رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ گھریلو باغبانی نہ صرف ایک   صحت مند سرگرمی ہے بلکہ ہم اپنے   گھر میں ہی آلودگی اور کیمیکل کے اثرات سے پاک سبزیوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اگر شوق ہے تو اس مضمون کے ذریعے موسم گرما میں سبزیوں کی   گھریلو سطح پر بوائی کی معلومات حاصل کریں۔اور حقیقت میں   مدافعتی نظام کو متحرک رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ موسم گرما کی سبزیاں اگانے کے لیے پندرہ فروری سے بہترین وقت شروع ہوجاتا ہے فروری سے مارچ اپریل تک سبزیوں کے بیج بوئے جاسکتے ہیں کچھ علاقوں میں اپریل کے بعد بھی بیج بوسکتے ہیں لیکن سخت گرمی اور لو میں بیجوں سے پودے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔جن گملوں میں سبزی اگائی جائے وہ گملہ بارہ انچ سے بڑا ہو۔   گملہ جتنا بڑا ہوگا پودے کی نشوونما بھی اچھی ہوگی اور سبزی بھی وافر مقدار میں میسر آسکے گی سبزیوں کے لیے موسم گرما میں صبح کی پانچ سے چھ گھنٹے کی دھوپ لازمی ہوتی ہے۔ سبزی کے پودے کو صبح ایک بار پانی لازمی دیں تیز دھوپ اور لو سے بچاؤ کے   لیے گرین نیٹ کا استعمال بھی کرسکتے ہیں پودے کو گ...

معیاری سبزی کے لیے نامیاتی کھاد کی تیاری

زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے مختلف قسم کی کھاد کا  استعمال ضروری ہوتا ہے۔کھاد میں دیگر کار آمد اشیا کے علاوہ نائٹروجن کے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔ جب پودوں کو پانی دیا جاتا ہے تو یہ مرکبات پانی میں حل ہو جاتے ہیں اور پھر پودے کی جڑیں اُن کو چوس کر تنے، شاخوں اور پتوں وغیرہ تک پہنچا دیتی ہیں۔ جانوروں کے فضلے سے جو کھاد خود بخود بن جاتی ہے اُس کی مقدار محدود ہے اور تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ۔ لہٰذا بعض کیمیائی مرکبات مصنوعی کھاد کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں  جن کے ذیلی اثرات انسانی جسم پر مضر ردعمل  پیدا کرسکتے ہیں۔ البتہ نامیاتی کھاد  کی تیاری سے اس خرابی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جس میں قدرتی طور پر  نائٹروجن کے مرکبات حل ہوجاتے ہیں اور پودوں کو غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ گھریلو باغبانی کے لیے  کھاد اپنے گھر میں  خودہی  تیار کریں ہمارے گھروں میں روزانہ ہی مختلف قسم کا کچرا جمع ہوجاتا ہے اس کچرے کی ایک بڑی مقدار کچن سے نکلنے والا  کچرا ہے اگر ہم اس کچرے کو ضائع کرنے کی بجائے اس سے اپنے گھر میں ہی  اپنے پودوں کے لئے کھ...

مثبت سوچ سے زندگی سدھاریں

انسانی ذہن پر سوچ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے ز ندگی کا ہر منظر سوچ سے ہی جنم لیتا ہے۔ سوچ سے انسانی جذبات بنتے ہیں اور اس سے عمل وجود میں آتا ہے سوچ دو طرح کی ہوتی ہے۔ مثبت سوچ اور منفی سوچ یعنی اچھی اور بری سوچ کامیابی اور ناکامی ان ہی دو سوچوں کا نتیجہ ہے۔  خیالات کا ذ ہن میں پیدا ہونا ایک قدرتی رجحان ہے مگر خیال کو سوچ میں تبدیل کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ انسان کے خیالات ہی اس کی شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے کا موجب ہے مثبت خیالات مثبت سوچ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں مثبت سوچ کامیابی کی طرف لے جانے والی وہ سڑک ہے جس پر چلنے والا اپنی منزل کو پالیتا ہے ۔ہماری تمام حرکات  ہماری سوچ کے زیراثرہوتی ہیں یعنی یہ ہماری سوچ ہی ہےجو ہم سے عوامل سرزد کراتی ہے مثبت سوچ دراصل اچھی اور صحیح سوچ ھےایک مثبت سوچ کا حامل انسان یقیناً مثبت خیالات اور تخلیقات کو ہی منظر عام پر لائے گا۔مثبت سوچ اچھے خیالات کی وجہ بنتی ھے جس کے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔زندگی میں کامیابی کا اسی فیصد انحصار  ہمارے رویے پر ہے   اور رویہ  سوچ سے جنم لیتا ہےمثبت سوچ سے مثبت ...