نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

رمضان المبارک میں کی جانے والی عام غلطیاں

 رمضان المبارک میں کی جانے والی عام غلطیاں 

کہیں آپ تو یہ غلطی نہیں کرتے ہیں ۔

رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے عبادت، صبر، شکرگزاری اور روحانی تربیت کا بابرکت مہینہ ہے۔ اس مہینے کی اصل روح صرف بھوکا اور پیاسا رہنے میں نہیں بلکہ اپنے اخلاق و کردار کو بہتر بنانے، عادات کی اصلاح کرنے اور زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے میں ہے۔ رمضان انسان کو اپنے نفس پر قابو پانے، دوسروں کے دکھ درد کو سمجھنے اور اللہ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ اس مبارک مہینے کی اصل حقیقت کو سمجھے بغیر ایسی غلطیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے رمضان کی برکتیں اور اس کے روحانی فوائد کم ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے بعض غلطیاں لاعلمی کے باعث ہوتی ہیں اور بعض ایسی عادتوں کا نتیجہ ہوتی ہیں جن پر انسان غور ہی نہیں کرتا حالانکہ یہی عادتیں اسے رمضان کے اصل مقصد سے دور کر دیتی ہیں۔




ان غلطیوں میں ایک اہم غلطی سحری کو اہمیت نہ دینا ہے  بہت سے لوگ نیند کی وجہ سے سحری چھوڑ دیتے ہیں یا صرف پانی پی کر دوبارہ سو جاتے ہیں، حالانکہ سحری نہ صرف سنت ہے بلکہ صحت کے لحاظ سے بھی بے حد اہم ہے۔ سحری چھوڑ دینے سے دن بھر جسم میں کمزوری، سستی اور چکر جیسی کیفیت محسوس ہو سکتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ سحری میں ہلکی مگر غذائیت سے بھرپور غذا لی جائے جیسے انڈا، دہی، دلیہ، پھل یا روٹی کے ساتھ ہلکی سبزی اس طرح جسم کو دن بھر کے روزے کے لیے ضروری توانائی مل جاتی ہے اور انسان نسبتاً بہتر طور پر روزہ گزار سکتا ہے۔افطار کے وقت ضرورت سے زیادہ کھانا بھی ایک عام غلطی ہے پورا دن بھوکا رہنے کے بعد بعض لوگ افطار کے وقت مختلف تلی ہوئی اشیاء مثلاً سموسے، پکوڑے، رول اور دیگر بھاری غذائیں ضرورت سے زیادہ مقدار میں کھا لیتے ہیں اس طرح نہ صرف معدہ بوجھل ہو جاتا ہے بلکہ تیزابیت، بدہضمی اور وزن بڑھنے جیسی شکایات بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ حالانکہ افطار کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ پہلے کھجور اور پانی سے روزہ کھولا جائے اور اس کے بعد اعتدال کے ساتھ ہلکی غذا استعمال کی جائے۔ تلی ہوئی اور بھاری غذائیں اگر لی بھی جائیں تو محدود مقدار میں لی جائیں تاکہ صحت متاثر نہ ہو۔

کچھ لوگ رمضان کو محض کھانے پینے کا مہینہ بنا لیتے ہیں سارا دن افطار کی تیاریوں اور مختلف پکوانوں کی منصوبہ بندی میں گزر جاتا ہے، جبکہ عبادت، تلاوتِ قرآن، ذکر اور دعا جیسے اہم اعمال کے لیے وقت کم رہ جاتا ہے۔ حالانکہ رمضان دراصل عبادت اور روحانی ترقی کا مہینہ ہے اگر انسان اپنی ساری توجہ صرف کھانے کی تیاریوں پر مرکوز کر دے تو اس مہینے کی اصل برکتیں حاصل نہیں کر پاتا۔روزہ رکھتے ہوئے اخلاق کو بہتر نہ بنانا بھی ایک بڑی کوتاہی ہے۔ بعض لوگ روزے کی حالت میں جلد غصہ کر جاتے ہیں معمولی باتوں پر ناراض ہو جاتے ہیں یا دوسروں کے ساتھ سخت لہجے میں بات کرتے ہیں۔ حالانکہ روزے کا مقصد یہی ہے کہ انسان اپنے غصے، زبان اور رویّے پر قابو پانا سیکھے۔ حدیث میں بھی اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص روزہ دار سے جھگڑا کرے تو اسے نرمی سے یہ کہنا چاہیے کہ میں روزہ دار ہوں۔ اس طرح انسان صبر اور برداشت کی صفت پیدا کرتا ہے۔اسی طرح غیبت، جھوٹ اور فضول گفتگو میں وقت ضائع کرنا بھی رمضان میں ایک عام غلطی ہے بعض محفلوں میں لوگ دوسروں کی برائیاں کرتے یا غیر ضروری باتوں میں مشغول رہتے ہیں حالانکہ روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ اپنی زبان اور اعمال کو بھی برائی سے بچانے کا نام ہے اگر انسان روزہ رکھتے ہوئے بھی غیبت اور جھوٹ سے اجتناب نہ کرے تو روزے کا روحانی فائدہ کم ہو جاتا ہے۔کچھ لوگ رمضان میں دن بھر سوتے رہتے ہیں اور رات کو دیر تک جاگتے ہیں اس طرزِ زندگی کی وجہ سے دن کے قیمتی اوقات ضائع ہو جاتے ہیں اور عبادت کا معمول بھی متاثر ہوتا ہے رمضان میں وقت کی صحیح منصوبہ بندی بہت ضروری ہے تاکہ عبادت، کام کاج اور آرام کے درمیان توازن قائم رہ سکے۔ اگر انسان دن کا بیشتر حصہ سونے میں گزار دے تو نہ صرف صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ عبادت کے مواقع بھی ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔افطار اور سحری کے درمیان پانی کم پینا بھی ایک عام کوتاہی ہے۔ بعض لوگ اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ مناسب مقدار میں پانی نہیں پیتے جس کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ سر درد، تھکن اور کمزوری کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ افطار سے سحری تک وقفے وقفے سے پانی پیا جائے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو اور انسان خود کو تروتازہ محسوس کرے۔اسی طرح کچھ لوگ رمضان میں جسمانی سرگرمی کو بالکل ترک کر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ روزے کے دوران حرکت کرنا مناسب نہیں حالانکہ ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمی جیسے چہل قدمی صحت کے لیے مفید ہوتی ہے۔ افطار کے بعد تھوڑی دیر واک کرنے سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے اور جسم میں چستی بھی برقرار رہتی ہے۔

ایک اور اہم غلطی یہ ہے کہ بعض لوگ رمضان کو صرف ایک رسمی عمل کے طور پر گزارتے ہیں وہ روزہ تو رکھتے ہیں مگر اس مہینے کو اپنی عادات میں مثبت تبدیلی لانے کا موقع نہیں بناتے۔ درحقیقت رمضان تربیت کا مہینہ ہے جو انسان کو صبر، شکر، ضبطِ نفس اور دوسروں کے احساس کا درس دیتا ہے۔ اگر انسان رمضان کے بعد بھی اپنی اچھی عادتوں کو برقرار رکھے تو یہی اس مہینے کی حقیقی کامیابی ہے۔

رمضان ہمیں اعتدال کی تعلیم دیتا ہے۔ کھانے پینے میں اعتدال، گفتگو میں اعتدال اور وقت کے استعمال میں اعتدال۔ جب انسان اپنی زندگی میں اس توازن کو اختیار کر لیتا ہے تو نہ صرف اس کا روزہ زیادہ بامقصد ہو جاتا ہے بلکہ اس کی صحت، اخلاق اور روحانیت بھی بہتر ہو جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم رمضان میں ہونے والی ان عام غلطیوں کو پہچانیں اور ان سے بچنے کی کوشش کریں، تاکہ یہ مبارک مہینہ ہمارے لیے واقعی رحمت، برکت اور مغفرت کا سبب بن سکے۔


(Dr.Alia Khan)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گملوں میں آسانی سے سبزیاں اگائیں ۔

    گھر بیٹھےمدافعتی نظام کو متحرک   رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ گھریلو باغبانی نہ صرف ایک   صحت مند سرگرمی ہے بلکہ ہم اپنے   گھر میں ہی آلودگی اور کیمیکل کے اثرات سے پاک سبزیوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اگر شوق ہے تو اس مضمون کے ذریعے موسم گرما میں سبزیوں کی   گھریلو سطح پر بوائی کی معلومات حاصل کریں۔اور حقیقت میں   مدافعتی نظام کو متحرک رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ موسم گرما کی سبزیاں اگانے کے لیے پندرہ فروری سے بہترین وقت شروع ہوجاتا ہے فروری سے مارچ اپریل تک سبزیوں کے بیج بوئے جاسکتے ہیں کچھ علاقوں میں اپریل کے بعد بھی بیج بوسکتے ہیں لیکن سخت گرمی اور لو میں بیجوں سے پودے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔جن گملوں میں سبزی اگائی جائے وہ گملہ بارہ انچ سے بڑا ہو۔   گملہ جتنا بڑا ہوگا پودے کی نشوونما بھی اچھی ہوگی اور سبزی بھی وافر مقدار میں میسر آسکے گی سبزیوں کے لیے موسم گرما میں صبح کی پانچ سے چھ گھنٹے کی دھوپ لازمی ہوتی ہے۔ سبزی کے پودے کو صبح ایک بار پانی لازمی دیں تیز دھوپ اور لو سے بچاؤ کے   لیے گرین نیٹ کا استعمال بھی کرسکتے ہیں پودے کو گ...

معیاری سبزی کے لیے نامیاتی کھاد کی تیاری

زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے مختلف قسم کی کھاد کا  استعمال ضروری ہوتا ہے۔کھاد میں دیگر کار آمد اشیا کے علاوہ نائٹروجن کے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔ جب پودوں کو پانی دیا جاتا ہے تو یہ مرکبات پانی میں حل ہو جاتے ہیں اور پھر پودے کی جڑیں اُن کو چوس کر تنے، شاخوں اور پتوں وغیرہ تک پہنچا دیتی ہیں۔ جانوروں کے فضلے سے جو کھاد خود بخود بن جاتی ہے اُس کی مقدار محدود ہے اور تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ۔ لہٰذا بعض کیمیائی مرکبات مصنوعی کھاد کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں  جن کے ذیلی اثرات انسانی جسم پر مضر ردعمل  پیدا کرسکتے ہیں۔ البتہ نامیاتی کھاد  کی تیاری سے اس خرابی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جس میں قدرتی طور پر  نائٹروجن کے مرکبات حل ہوجاتے ہیں اور پودوں کو غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ گھریلو باغبانی کے لیے  کھاد اپنے گھر میں  خودہی  تیار کریں ہمارے گھروں میں روزانہ ہی مختلف قسم کا کچرا جمع ہوجاتا ہے اس کچرے کی ایک بڑی مقدار کچن سے نکلنے والا  کچرا ہے اگر ہم اس کچرے کو ضائع کرنے کی بجائے اس سے اپنے گھر میں ہی  اپنے پودوں کے لئے کھ...

مثبت سوچ سے زندگی سدھاریں

انسانی ذہن پر سوچ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے ز ندگی کا ہر منظر سوچ سے ہی جنم لیتا ہے۔ سوچ سے انسانی جذبات بنتے ہیں اور اس سے عمل وجود میں آتا ہے سوچ دو طرح کی ہوتی ہے۔ مثبت سوچ اور منفی سوچ یعنی اچھی اور بری سوچ کامیابی اور ناکامی ان ہی دو سوچوں کا نتیجہ ہے۔  خیالات کا ذ ہن میں پیدا ہونا ایک قدرتی رجحان ہے مگر خیال کو سوچ میں تبدیل کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ انسان کے خیالات ہی اس کی شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے کا موجب ہے مثبت خیالات مثبت سوچ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں مثبت سوچ کامیابی کی طرف لے جانے والی وہ سڑک ہے جس پر چلنے والا اپنی منزل کو پالیتا ہے ۔ہماری تمام حرکات  ہماری سوچ کے زیراثرہوتی ہیں یعنی یہ ہماری سوچ ہی ہےجو ہم سے عوامل سرزد کراتی ہے مثبت سوچ دراصل اچھی اور صحیح سوچ ھےایک مثبت سوچ کا حامل انسان یقیناً مثبت خیالات اور تخلیقات کو ہی منظر عام پر لائے گا۔مثبت سوچ اچھے خیالات کی وجہ بنتی ھے جس کے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔زندگی میں کامیابی کا اسی فیصد انحصار  ہمارے رویے پر ہے   اور رویہ  سوچ سے جنم لیتا ہےمثبت سوچ سے مثبت ...