نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

رمضان اور گھریلو خواتین

 رمضان اور گھریلو خواتین کی ذمہ ذمہ داریاں ۔

رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے رحمت، برکت اور عبادت کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں ہر طرف روحانیت کا ماحول ہوتا ہے، مساجد آباد ہوتی ہیں قرآن کی تلاوت بڑھ جاتی ہے اور لوگ زیادہ سے زیادہ نیکی کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اس خوبصورت منظر کے پیچھے ایک حقیقت ایسی بھی ہے جس پر کم ہی توجہ د ی جاتی ہے اور وہ ہے گھریلو خواتین کی زندگی رمضان کا مہینہ جتنا روحانی اور بابرکت ہوتا ہے گھریلو خواتین کے لیے اتنا ہی مصروف اور محنت طلب بھی ہو جاتا ہے۔ گھر کے تمام افراد کے لیے سحری اور افطار کا اہتمام، روزمرہ کے کام اور گھر کے نظام کو سنبھالنا عموماً ایک عورت ہی کے ذمہ ہوتا ہے۔گھر کے باقی افراد کے لیے رمضان کا آغاز سحری کے وقت ہوتا ہے لیکن ایک گھریلو خاتون کے لیے اس کی تیاری اس سے پہلے شروع ہو جاتی ہے۔ وہ نیند کی قربانی دے کر رات کے آخری پہر اٹھتی ہے اور باورچی خانے میں جا کر سحری تیار کرتی ہے اس دوران وہ اس بات کا بھی خیال رکھتی ہے کہ گھر کے ہر فرد کی پسند کا کھانا موجود ہو کسی کو پراٹھا چاہیے کسی کو ہلکی غذا پسند ہے کسی کے لیے چائے ضروری ہے ان سب چیزوں کا انتظام کرنا اسی کی ذمہ داری ہوتی ہے جب سب لوگ سحری کر کے فارغ ہو جاتے ہیں تو وہ برتن سمیٹتی ہے باورچی خانہ صاف کرتی ہے اور پھر فجر کی نماز ادا کر کے دن کے اگلے مرحلے کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔



دن کے وقت جب گھر کے اکثر افراد آرام کر رہے ہوتے ہیں یا اپنی مصروفیات میں لگے ہوتے ہیں گھریلو خاتون کے لیے گھر کے کام جاری رہتے ہیں گھر کی صفائی، کپڑوں کی دھلائی، بچوں کی ضروریات اور دیگر چھوٹے بڑے کام اس کے معمول کا حصہ ہوتے ہیں روزے کی حالت میں یہ تمام ذمہ داریاں ادا کرنا بظاہر آسان دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں اس کے لیے صبر اور محنت دونوں درکار ہوتے ہیں۔جیسے جیسے دن گزرتا ہے افطار کی تیاریوں کا وقت قریب آنا شروع ہو جاتا ہے بہت سے گھروں میں افطار کو خاص اہمیت دی جاتی ہے اور دسترخوان پر مختلف قسم کی چیزیں رکھی جاتی ہیں۔ پکوڑے، سموسے، فروٹ چاٹ، شربت اور دیگر کئی پکوان تیار کیے جاتے ہیں ان سب چیزوں کی تیاری کے لیے گھریلو خاتون کو محدود وقت میں بہت سے کام نمٹانے پڑتے ہیں گرمی، تھکن اور روزے کی حالت کے باوجود وہ اس کوشش میں لگی رہتی ہے کہ افطار کا دسترخوان خوبصورت اور مکمل ہو۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب افطار کا وقت آتا ہے تو گھر کے اکثر افراد سکون سے بیٹھ کر روزہ کھولتے ہیں مگر بہت سی خواتین اس وقت بھی پوری طرح فارغ نہیں ہوتیں کبھی کسی کے لیے پانی لانا ہے کسی کو پلیٹ دینا ہے کسی کے لیے چائے بنانی ہے یوں وہ اکثر خود اطمینان سے بیٹھ کر افطار بھی نہیں کر پاتیں۔افطار کے بعد بھی ذمہ داریاں ختم نہیں ہوتیں برتن سمیٹنا، باورچی خانے کو دوبارہ ترتیب دینا اور رات کے کھانے کی تیاری شروع کرنا بھی اسی کے حصے میں آتا ہے اس کے بعد تراویح کی نماز اور دیگر عبادات کا وقت ہوتا ہے دل تو یہ چاہتا ہے کہ سکون سے قرآن کی تلاوت کرے اور عبادت میں زیادہ وقت گزارے مگر گھریلو ذمہ داریوں کے باعث اکثر ایسا ممکن نہیں ہو پاتا یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گھریلو خواتین اکثر اپنی تھکن کو نظر انداز کر دیتی ہیں وہ گھر کے ہر فرد کی سہولت اور آرام کا خیال رکھتی ہیں مگر اپنے آرام کے بارے میں کم ہی سوچتی ہیں رمضان کے دنوں میں ان کی مصروفیت اور محنت کئی گنا بڑھ جاتی ہے لیکن اس کے باوجود وہ خاموشی سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتی رہتی ہیں۔اگر غور کیا جائے تو گھر کے رمضان کے ماحول کو خوشگوار اور منظم بنانے میں گھریلو خواتین کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ سحری اور افطار کا اہتمام، گھر کی ترتیب، بچوں اور بزرگوں کی دیکھ بھال اور پورے گھر کا نظام سنبھالنا اسی کی محنت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ گھر کے دوسرے افراد بھی اس حقیقت کو سمجھیں اور گھریلو خواتین کے کام میں ان کا ہاتھ بٹائیں۔رمضان صبر، محبت اور باہمی تعاون کا مہینہ ہے اگر گھر کے افراد ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور ذمہ داریاں بانٹ لیں تو نہ صرف عورت کا بوجھ کم ہو سکتا ہے بلکہ گھر کا ماحول بھی زیادہ خوشگوار ہو سکتا ہے۔ اس طرح ہر فرد کو عبادت کے لیے بھی زیادہ وقت مل سکتا ہے اور رمضان کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

گھریلو خواتین کی محنت اکثر خاموش ہوتی ہے مگر اس کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ رمضان ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے گھر کے ان افراد کی قدر کرنی چاہیے جو دوسروں کی آسانی اور خوشی کے لیے اپنی محنت اور وقت صرف کرتے ہیں اگر ان کی کوششوں کو سراہا جائے اور ان کا ساتھ دیا جائے تو رمضان کا ماحول واقعی سکون، محبت اور برکت سے بھر سکتا ہے۔


(Dr.Alia Khan)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گملوں میں آسانی سے سبزیاں اگائیں ۔

    گھر بیٹھےمدافعتی نظام کو متحرک   رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ گھریلو باغبانی نہ صرف ایک   صحت مند سرگرمی ہے بلکہ ہم اپنے   گھر میں ہی آلودگی اور کیمیکل کے اثرات سے پاک سبزیوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اگر شوق ہے تو اس مضمون کے ذریعے موسم گرما میں سبزیوں کی   گھریلو سطح پر بوائی کی معلومات حاصل کریں۔اور حقیقت میں   مدافعتی نظام کو متحرک رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ موسم گرما کی سبزیاں اگانے کے لیے پندرہ فروری سے بہترین وقت شروع ہوجاتا ہے فروری سے مارچ اپریل تک سبزیوں کے بیج بوئے جاسکتے ہیں کچھ علاقوں میں اپریل کے بعد بھی بیج بوسکتے ہیں لیکن سخت گرمی اور لو میں بیجوں سے پودے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔جن گملوں میں سبزی اگائی جائے وہ گملہ بارہ انچ سے بڑا ہو۔   گملہ جتنا بڑا ہوگا پودے کی نشوونما بھی اچھی ہوگی اور سبزی بھی وافر مقدار میں میسر آسکے گی سبزیوں کے لیے موسم گرما میں صبح کی پانچ سے چھ گھنٹے کی دھوپ لازمی ہوتی ہے۔ سبزی کے پودے کو صبح ایک بار پانی لازمی دیں تیز دھوپ اور لو سے بچاؤ کے   لیے گرین نیٹ کا استعمال بھی کرسکتے ہیں پودے کو گ...

معیاری سبزی کے لیے نامیاتی کھاد کی تیاری

زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے مختلف قسم کی کھاد کا  استعمال ضروری ہوتا ہے۔کھاد میں دیگر کار آمد اشیا کے علاوہ نائٹروجن کے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔ جب پودوں کو پانی دیا جاتا ہے تو یہ مرکبات پانی میں حل ہو جاتے ہیں اور پھر پودے کی جڑیں اُن کو چوس کر تنے، شاخوں اور پتوں وغیرہ تک پہنچا دیتی ہیں۔ جانوروں کے فضلے سے جو کھاد خود بخود بن جاتی ہے اُس کی مقدار محدود ہے اور تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ۔ لہٰذا بعض کیمیائی مرکبات مصنوعی کھاد کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں  جن کے ذیلی اثرات انسانی جسم پر مضر ردعمل  پیدا کرسکتے ہیں۔ البتہ نامیاتی کھاد  کی تیاری سے اس خرابی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جس میں قدرتی طور پر  نائٹروجن کے مرکبات حل ہوجاتے ہیں اور پودوں کو غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ گھریلو باغبانی کے لیے  کھاد اپنے گھر میں  خودہی  تیار کریں ہمارے گھروں میں روزانہ ہی مختلف قسم کا کچرا جمع ہوجاتا ہے اس کچرے کی ایک بڑی مقدار کچن سے نکلنے والا  کچرا ہے اگر ہم اس کچرے کو ضائع کرنے کی بجائے اس سے اپنے گھر میں ہی  اپنے پودوں کے لئے کھ...

مثبت سوچ سے زندگی سدھاریں

انسانی ذہن پر سوچ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے ز ندگی کا ہر منظر سوچ سے ہی جنم لیتا ہے۔ سوچ سے انسانی جذبات بنتے ہیں اور اس سے عمل وجود میں آتا ہے سوچ دو طرح کی ہوتی ہے۔ مثبت سوچ اور منفی سوچ یعنی اچھی اور بری سوچ کامیابی اور ناکامی ان ہی دو سوچوں کا نتیجہ ہے۔  خیالات کا ذ ہن میں پیدا ہونا ایک قدرتی رجحان ہے مگر خیال کو سوچ میں تبدیل کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ انسان کے خیالات ہی اس کی شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے کا موجب ہے مثبت خیالات مثبت سوچ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں مثبت سوچ کامیابی کی طرف لے جانے والی وہ سڑک ہے جس پر چلنے والا اپنی منزل کو پالیتا ہے ۔ہماری تمام حرکات  ہماری سوچ کے زیراثرہوتی ہیں یعنی یہ ہماری سوچ ہی ہےجو ہم سے عوامل سرزد کراتی ہے مثبت سوچ دراصل اچھی اور صحیح سوچ ھےایک مثبت سوچ کا حامل انسان یقیناً مثبت خیالات اور تخلیقات کو ہی منظر عام پر لائے گا۔مثبت سوچ اچھے خیالات کی وجہ بنتی ھے جس کے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔زندگی میں کامیابی کا اسی فیصد انحصار  ہمارے رویے پر ہے   اور رویہ  سوچ سے جنم لیتا ہےمثبت سوچ سے مثبت ...