رمضان المبارک کا مہینہ مسلمانوں کے لیے رحمت، مغفرت اور نجات کا پیغام لے کر آتا ہے۔ اس مہینے کی فضا میں ایک خاص روحانیت، سکون اور بندگی کا احساس شامل ہوتا ہے۔ جب یہ مہینہ شروع ہوتا ہے تو دلوں میں عبادت کا شوق بڑھ جاتا ہے مساجد آباد ہو جاتی ہیں اور لوگ اپنے رب کے قریب ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی بابرکت مہینے کی ایک نہایت خوبصورت اور با معنی عبادت اعتکاف ہے۔
لفظ اعتکاف عربی زبان کے لفظ “عکف” سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں کس جگہ ٹھہر جانا، یکسوئی کے ساتھ کسی کام میں لگ جانا یا اپنے آپ کو کسی مقصد کے لیے مخصوص کر لینا۔ اسلامی اصطلاح میں اعتکاف کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مسلمان اللہ کی رضا کے لیے کچھ دنوں کے لیے دنیاوی مصروفیات سے الگ ہو کر عبادت کی نیت سے مسجد یا گھر کی مخصوص جگہ میں ٹھہر جائے اور زیادہ سے زیادہ وقت عبادت، ذکر اور دعا میں گزارے۔
اعتکاف عام طور پر رمضان کے آخری عشرے یعنی آخری دس دنوں میں کیا جاتا ہے۔ مسلمان مرد حضرات عموماً مسجد میں اعتکاف کرتے ہیں جبکہ خواتین اپنے گھر میں کسی صاف اور پرسکون جگہ کو عبادت کے لیے مخصوص کر کے اعتکاف کرتی ہیں۔ رمضان کے بیسویں روزے کے بعد جب سورج غروب ہو جاتا ہے تو اعتکاف کی نیت کر لی جاتی ہے اور پھر عید کا چاند نظر آنے تک یہ عبادت جاری رہتی ہے۔ اس دوران کوشش کی جاتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ وقت اللہ کی عبادت میں گزارا جائے اور دنیاوی مشغولیات کو کم سے کم کر دیا جائے جب کوئی شخص اعتکاف کی نیت کرتا ہے تو گویا وہ اپنے دل میں یہ عہد کرتا ہے کہ اب چند دن اس کی توجہ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف ہوگی وہ مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کرتا ہے ذکر کرتا ہے دعا مانگتا ہے اور اپنے دل کی باتیں اپنے رب کے سامنے رکھتا ہے عام دنوں میں انسان کے پاس بہت سی مصروفیات ہوتی ہیں گھر، کام، ذمہ داریاں اور دنیاوی فکر اسے ہر وقت گھیرے رکھتی ہیں اعتکاف اس بھاگ دوڑ سے ایک وقفہ ہے ایک ایسا موقع جس میں انسان اپنے دل کو پرسکون کر کے اپنے خالق سے تعلق مضبوط کرتا ہے۔
اعتکاف کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ انسان کو تنہائی میں اللہ سے بات کرنے کا موقع دیتا ہے مسجد کا ماحول خاموش اور روحانی ہوتا ہے رات کے وقت جب سب لوگ سو رہے ہوتے ہیں اور مسجد میں صرف چند معتکفین عبادت میں مصروف ہوتے ہیں تو ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اس وقت انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ واقعی اپنے رب کے بہت قریب ہے اس خاموشی میں کی گئی دعا دل کی گہرائیوں سے نکلتی ہے اور انسان کے آنسو بھی اس کی دعا کا حصہ بن جاتے ہیں۔اعتکاف ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ انسان کو کبھی کبھی اپنی زندگی کا جائزہ لینا چاہیے ہم سب اپنی روزمرہ زندگی میں بہت سی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں کبھی کسی کا دل دکھا دیتے ہیں کبھی کسی کے ساتھ ناانصافی ہو جاتی ہے اور کبھی اپنے رب کے احکام کو نظر انداز کر دیتے ہیں اعتکاف کے دن دراصل اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کے دن ہوتے ہیں۔ انسان بیٹھ کر سوچتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں کیا اچھا کیا اور کیا غلطی کی وہ اپنے گناہوں پر نادم ہوتا ہے اور اللہ سے معافی مانگتا ہے۔
رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کی سنت اس لیے بھی اہم ہے کہ ان ہی راتوں میں وہ عظیم رات آتی ہے جسے لیلۃ القدر کہا جاتا ہے یہ وہ رات ہے جس کے بارے میں قرآن میں بتایا گیا ہے کہ یہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس رات کی عبادت کا اجر بے حد و حساب ہے۔ اعتکاف کرنے والے لوگ انہی راتوں میں پوری لگن کے ساتھ عبادت کرتے ہیں تاکہ وہ اس بابرکت رات کو پا سکیں وہ زیادہ سے زیادہ قرآن پڑھتے ہیں درود شریف کا ورد کرتے ہیں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں۔
اعتکاف کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں سادگی اور قناعت کا درس ملتا ہے مسجد میں رہتے ہوئے انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی گزارنے کے لیے زیادہ چیزوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ چند ضروری اشیاء اور سادہ سا کھانا بھی کافی ہوتا ہے یہ احساس انسان کے دل میں شکرگزاری پیدا کرتا ہے۔ وہ سمجھ جاتا ہے کہ اصل خوشی زیادہ مال و دولت میں نہیں بلکہ دل کے سکون میں ہے۔
اعتکاف کے دوران انسان کو دوسروں کے لیے دعا کرنے کا بھی موقع ملتا ہے وہ اپنے والدین، بہن بھائیوں، دوستوں اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے خیر مانگتا ہے۔ یہ دعائیں انسان کے دل کو نرم بناتی ہیں اور اس میں ہمدردی کے جذبات پیدا کرتی ہیں۔ جب کوئی شخص اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی دعا کرتا ہے تو اس کے دل میں محبت اور اخوت کے جذبات مضبوط ہو جاتے ہیں۔
مسجد کا ماحول بھی اعتکاف کو خاص بناتا ہے وہاں مختلف لوگ جمع ہوتے ہیں لیکن سب کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے کہ اللہ کی رضا حاصل کی جائے کوئی قرآن پڑھ رہا ہوتا ہے کوئی ذکر میں مصروف ہوتا ہے اور کوئی خاموشی سے دعا کر رہا ہوتا ہے یہ منظر انسان کے دل میں عبادت کا شوق مزید بڑھا دیتا ہے ایک دوسرے کو دیکھ کر بھی انسان نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے۔
اعتکاف کے دنوں میں وقت کی قدر بھی سمجھ میں آتی ہے۔ عام دنوں میں ہم اکثر وقت کو ضائع کر دیتے ہیں لیکن جب کوئی شخص اعتکاف میں ہوتا ہے تو وہ کوشش کرتا ہے کہ ہر لمحہ عبادت میں گزرے وہ قرآن پڑھتا ہے، دینی کتابیں پڑھتا ہے یا خاموشی سے ذکر کرتا رہتا ہے۔ اس طرح اسے احساس ہوتا ہے کہ وقت کتنی قیمتی چیز ہے اور اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
جب اعتکاف کے دن ختم ہوتے ہیں اور عید کا چاند نظر آتا ہے تو معتکف کے دل میں ایک عجیب سی کیفیت ہوتی ہے۔ ایک طرف خوشی ہوتی ہے کہ رمضان مکمل ہوا اور عید کی خوشیاں آنے والی ہیں لیکن دوسری طرف مسجد کے اس پرسکون ماحول کو چھوڑنے کا دکھ بھی ہوتا ہے۔ ان چند دنوں میں انسان کا دل عبادت سے اتنا مانوس ہو جاتا ہے کہ اسے لگتا ہے جیسے وہ کسی خاص روحانی دنیا سے واپس جا رہا ہو۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ اعتکاف کے بعد بھی انسان اپنی زندگی میں وہی روحانیت برقرار رکھنے کی کوشش کرے۔ اگر اعتکاف کے دنوں میں اس نے قرآن پڑھنے کی عادت ڈالی ہے تو اسے رمضان کے بعد بھی جاری رکھے اگر اس نے دعا اور ذکر کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا ہے تو اسے ہمیشہ کے لیے اپنا معمول بنا لے۔ اعتکاف کا اصل مقصد یہی ہے کہ انسان کی زندگی میں مستقل نیکی پیدا ہو۔
اعتکاف ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ دنیا کی دوڑ دھوپ میں بھی ہمیں اپنے رب کو نہیں بھولنا چاہیے زندگی کی اصل کامیابی اللہ کی رضا میں ہے۔ جب انسان خلوص دل کے ساتھ اللہ کے گھر میں بیٹھ کر عبادت کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک نئی روشنی پیدا ہوتی ہے۔ یہی روشنی اسے آئندہ زندگی میں بھی سیدھے راستے پر چلنے کی طاقت دیتی ہے۔ رمضان کے آخری دنوں میں مسجد کے کسی کونے میں بیٹھا ہوا ایک معتکف دراصل ہمیں یہ سبق دے رہا ہوتا ہے کہ انسان اگر چاہے تو اپنی زندگی کو اللہ کی محبت اور عبادت سے بھر سکتا ہے، اور یہی زندگی کی اصل خوبصورتی ہے۔
(Dr.Alia Khan)


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں