نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

2026 آئیے باغبانی سیکھیں

 



آج کے دور میں گھریلوباغبانی بہت ضروری ہے جہاں ماحولیاتی مسائل پریشانی کا باعث ہیں وہیں گھریلوباغبانی کے ذریعے بہت سے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ اگر گھر میں سبزیاں بھی  اگی ہوں تو گھر کے  بجٹ میں کمی لائی جاسکتی ہے مہنگائی کے اس دور میں گھر میں سبزیاں اگانا بہت ضروری ہے۔


 آج کچن گارڈننگ یا سبزیاں اگانے کے بارے میں بات کریں گے۔کچن گارڈننگ کی اہمیت و فوائد کے ساتھ ساتھ یہ بھی جانیے گا کہ  سبزیاں اگانے کے لیے کتنی جگہ کی ضرورت ہے کون سی سبزی کتنے بڑے گملے میں اگائی جاسکتی ہے  ۔بیج لگانے سے سبزیاں آنے تک کون سی سبزی کتنا ٹائم لیتی ہے کس موسم میں کون سی سبزی اگائی جائے اور بھی بہت کچھ اس مضمون میں شامل ہے ۔



۔اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کہ جب سبزیاں مارکیٹ سے مل جاتی ہیں تو گھر میں کچن گارڈننگ کیوں کرتے ہیں۔؟

سبزیوں کے باغیچے میں ہم  اپنی پسند کی سبزیاں اگا سکتے ہیں۔گھر بیٹھے تازہ سبزی حاصل ہوسکتی ہیں ۔گھر میں آرگنک طریقے سے کیمیکل سے پاک سبزیاں اگاتے ہیں جو غذائیت سے بھرپور ہوتی ہیں اور صحت کے لیے بہترین ہیں کچن گارڈننگ سے ماحول کو بھی فائدہ پہنچتا ہے ۔ آکسیجن کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے کاربن ڈائی آکسائیڈ کم ہوتی ہے ۔گھر میں گارڈن بنانے سے گھر کے دوسرے افراد بھی پودوں کے پاس وقت گزارنا چاہیں گے اس طرح خاندان کے لوگوں کو آپس میں وقت گزارنے کا بھی موقع ملتا ہے گھر کی فضا خوشگوار ہوتی ہے۔

جیسے جیسے پودے اگاتے جائیں گے پودوں کے متعلق تجربات و مشاہدات بڑھتے جاتے ہیں اور علم میں اضافہ ہوتا ہے ۔جب پودوں پر محنت کے بعد سبزیاں نکلتی ہیں تو وہ خوشی بہت زیادہ ہوتی ہے ۔کچن گارڈن میں ہربل پودے بھی اگاسکتے ہیں ان پودوں کا استعمال کرکے صحت بہتر بنائی جاسکتی ہے ۔ کچن گارڈن میں مختلف پھلوں کے گرافٹڈ پودے بھی رکھ لیے جائیں تو بہت جلد پھل بھی گھر کے پودوں سے ہی حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔محلے پڑوس کے لوگوں اور اپنے دوستوں کو کچن گارڈن میں بلاسکتے ہیں انھیں سبزیوں پھلوں کا تحفہ دیں اس طرح ان میں بھی باغبانی کا شوق پیدا ہوگا ۔کچن گارڈن  گھر کی خوبصورتی کو بڑھاتا ہے۔ 

کچن گارڈننگ کے لیے سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ جگہ کتنی ہے اس کے مطابق پلان بنائیں کتنا بڑا باغ بنانا چاہتے ہیں زمین میں سبزیاں اگانا ہیں یا گملوں میں ٹیرس گارڈن بنانا ہے کون کون سی سبزیاں اگانے کا ارادہ ہے ایک فیملی کے لیے کتنی سبزیاں کافی ہونگی جتنی آپ کے پاس جگہ ہے اس کے مطابق ہی پلان بنائیں اگر کچی زمین ہے تو وہاں زیادہ تعداد میں پودے لگائے جاسکتے ہیں سبزیوں کی بیلوں کو دیوار پر چڑھا دیں یا کسی لکڑی کے سہارے اوپر چڑھاتے جائیں کچی زمین نہیں ہے تو گملوں میں پودے لگائیں دیواروں کا استعمال کرکے ورٹیکل گارڈن بنائیں بڑے گملوں میں ایک سے زیادہ سبزیاں اگائی جاسکتی ہیں ۔پتوں والے ساگ کے لیے بہت گہرے گملے کی ضرورت نہیں ہوتی ان کے لیے چوڑائی میں گملا زیادہ ہو وہ گملے لیں ۔ٹماٹر مرچ بینگن دس سے بارہ انچ میں ایک ہی پودا لگائیں گملہ جتنا بڑا ہوگا پودے کی نشوونما اتنی ہی اچھی ہوگی پندرہ انچ کا گملہ ہے تو گملے میں جو جگہہ خالی ہو اس میں سلاد پتہ پالک ہرا دھنیاں پودینہ سویا وغیرہ لگالیں مختلف ہربل پودے چھوٹے گملے میں بھی لگائے جاسکتے ہیں ۔

بیج لگانے کے ایک سے ڈیڑھ ماہ میں ہی پھول آنے لگتا ہے دو ماہ میں سبزی نکل آتی ہے دو سے ڈھائی ماہ میں ہارویسٹ کے قابل ہوجاتی ہے لیکن اچھی نشوونما کے لیے کھاد اور فرٹیلائزر دینا ضروری ہے ورنہ صرف پودے کی نشوونما ہوگی سبزی نہیں بنے گی ۔پتوں والی سبزیاں ایک ماہ میں ہی ہارویسٹ کرسکتے ہیں ۔

فروری سے مارچ اپریل میں گرمیوں کی سبزیوں کے بیج ۔لگائے جاتے ہیں

ستمبر اکتوبر میں سردیوں کی سبزیوں کے بیج لگائے جاتے ہیں ۔اپنے علاقے کے ٹمپریچر کو دیکھتے ہوئے ان مہینوں میں بیج لگائے جاسکتے ہیں ۔

موسم گرما کی سبزیوں کے بیج لگانے کا وقت  پندرہ فروری کے بعد شروع ہوجاتا ہے گرمی کے موسم میں جو سبزی اگاسکتے ہیں اس میں بھنڈی، کریلا، کھیرا، ککڑی، پالک ،ہرا دھنیاں،اور مرچوں کی تمام اقسام ٹنڈا، توری ،ٹماٹر بینگن ،اروی شکرقند ادرک اور بہت سی سبزیوں کے بیجوں کو براہ راست مٹی میں لگاتے ہیں آر بہت سے پودوں کی پنیری بنتی ہے ۔بیس سے پچیس دن کا پودا پنیری کہلاتاہے بعدمیں  پودے کو دوسری جگہہ منتقل کرتے ہیں ۔

بھنڈی کے بیج گول چھوٹے ہوتے ہیں بیج لگانے سے پہلے بیجوں کو دس منٹ کے لیے پانی میں بھگو دیں پھر مٹی میں بیج لگائیں صرف بالو مٹی میں بیج لگائیں بیج لگا کر گملے کو صبح کی دھوپ میں رکھیں ایک ہفتے میں پودے نکل اتے ہیں ڈیڑھ سے دو مہینے میں پھول آ جاتا ہے اور دو سے ڈھائی مہینے میں بھنڈیاں نکل اتی ہیں۔

کریلے کے پودے اگانا بہت اسان ہے کریلے کے بیج سخت ہوتے ہیں لیکن بہت آسانی کے ساتھ ان کے پودے نکل اتے ہیں کریلے کے بیجوں کے پودے ایک ہفتے کے اندر نکل اتے ہیں کریلے کے پودوں کی پنیری نہیں بنائی جاتی کیونکہ کریلے کا کیونکہ کریلے کی بیل ہوتی ہے اور بیلوں کی پنیری نہیں بناتے کیونکہ جب پودے کو دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے تو پودا خراب ہو جاتا ہے اگر کریلے کے بہت سارے بیچ ایک ساتھ لگا دیے ہیں تو جلد ہی پودے کو شفٹ کر دیں ورنہ اگر دیر ہو جائے گی تو پودا خراب ہو جائے گا  کریلے کی بیل کو سہارے کی ضرورت ہوتی ہے ڈیڑھ سے دو مہینے میں کریلے نکل اتے ہیں اور ہارویسٹ کے قابل ہو جاتے ہیں۔

لوکی کے بیج بڑے ہوتے ہیں لیکن ان کو بھی اسانی کے ساتھ لگایا جا سکتا ہے لوکی کی بھی بیل ہوتی ہے اس کی بھی پنیری نہیں بناتے ڈائریکٹ ہی لگاتے ہیں لوکی کی بیل کو بھی سہارے کے لیے لکڑی یا جال یا ڈوری لگانا ضروری ہے یہ تمام سبزیاں ڈیڑھ سے دو مہینے میں ہاروسٹ کے قابل ہو جاتے ہیں۔

کھیرے کی بھی بیل ہوتی ہے اس کی بھی پنیری نہیں بنائی جاتی کھیرے کے پودوں کے لیے بھی سپورٹ سسٹم لگانا ضروری ہے ککڑی کے بیچ  کھیرے کے بیجوں کی طرح ہی ہوتے ہیں اور ککڑی کی بھی بیل ہوتی ہے۔

پالک کے بیج چھوٹے اور ہلکے ہوتے ہیں پالک کو پورا سال ہی لگایا جا سکتا ہے پالک کی پنیری نہیں بنائی جاتی پالک کے بیجوں کو تھوڑی دور دور فاصلے سے ڈالیں ایک ساتھ بہت ساری بیج ڈال دیں تمام پودے دو سے تین دن میں نکل اتے ہیں اور ایک مہینے میں ہارویسٹ کے قابل ہو جاتے ہیں جب پالک ہارویسٹ کرنا ہو تمام پودے  کو جڑ سے نہیں نکالیں جو پتے تیار ہو گئے ہیں صرف وہی کاٹ کر نکالیں باقی پودے میں سے دوبارہ پتے نکل ائیں گے ٹماٹر کے بیج گرمیوں اور سردیوں دونوں موسم میں لگا سکتے ہیں ٹماٹر کے بیج بہت چھوٹے ہوتے ہیں ٹماٹر کی پنیری بنائی جاتی ہے تمام بیچ پہلے ایک ساتھ ڈال دیے جاتے ہیں اور جب پودے نکل اتے ہیں اور پودے بیس  سے پچیس  دن کے ہو جاتے ہیں تب انہیں نکال کر مناسب جگہ پر لگایا جاتا ہے جہاں پر پودا بڑا کرنا ہوتا ہے ایک سے ڈیڑھ مہینے میں پھولا آ جاتا ہے اور دو سے ڈھائی مہینے میں ٹماٹر ہارویسٹ کے قابل ہو جاتے ہیں ٹماٹر کے پودے کو بھی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ جب پودے میں ٹماٹر اتے ہیں تو ٹہنی ٹماٹر کے وزن  سے جھکنے لگتی ہے اگر سہارا  نہیں دیں  گے تو پودا ٹوٹ جائے گا۔دھنیاں اگانا بہت اسان ہے دھنیاں اگانے کے لیے بیچ کچن میں سے لے سکتے ہیں دھنیے کے بیجوں کو اگر پوری رات پانی میں بھگو دیا جائے تو بیج نرم ہو جاتے ہیں ان بیجوں کو ہاتھ سے ہی دو حصوں میں تقسیم کر دیں اور پھر انہیں کھاد مٹی میں لگائیں بیجوں کو تھوڑے فاصلے سے ڈالیں اگر بیجوں کو ثابت ہی مٹی میں ڈال دیں گے تو پودے نہیں نکلیں گے بیجوں کو توڑ دینے سے ایک بیج میں سے دو پودے نکلتے ہیں ایک ہفتے کے اندر پودے نکل اتے ہیں اور ایک مہینے کے اندر دھنیا ہارویسٹ کے قابل ہو جاتا ہے دھنیے کو جڑ سے نہیں نکالیں اسے اوپر سے کاٹ دیں جس طرح سے پالک نکالا تھا دوبارہ اس میں نئے پتے ا جائیں گے

بینگن کی بھی پنیری بنائی جاتی ہے بینگن کے بیج بھی بہت چھوٹے ہوتے ہیں انہیں بھی ایک ساتھ ڈال دیا جاتا ہے اور جب پودے نکل اتے ہیں اور پنیری تیار ہو جاتی ہے تو ان پودوں کو نکال کر دوسری جگہ لگایا جاتا ہے ڈیڑھ سے دو ماہ میں ہی بینگن نکل اتے ہیں بینگن کو دھوپ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن گرمیوں میں دوپہر کی دھوپ سےبچائیں

مرچ کے بیچ چھوٹے ہوتے ہیں اسے بھی ٹماٹر اور بینگن کی طرح ہی پنیری بنا کر لگایا جاتا ہے ڈیڑھ سے دو ماہ میں ہی مرچیں نکل اتی ہیں ۔لال مولی کو بھی اس مہینے میں لگا سکتے ہیں تھوڑے فاصلے سے مولی لگائیں تھوڑے تھوڑے فاصلے سے بیج لگائیں ایک مہینے میں ہی مولی تیار ہو جاتی ہے۔توری کے بیج بھی بڑے ہوتے ہیں اور اسے بھی کریلے اور لوکی کی طرح لگایا جاتا ہے توری کی بھی بیل ہوتی ہے اس سے بھی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ادرک لگانا بہت اسان ہے جب گھر میں رکھی ہوئی ادرک میں گرین آنکھ  نظر آئے اسے  مٹی میں لگا دیں بہت جلد اس کے پتے نکل اتے ہیں ادرک کے پتوں کو استعمال کر سکتے ہیں۔

گرمیوں میں اروی کو بھی اگایا جاتا ہے مارکیٹ سے لائی ہوئی اروی کو کھاد مٹی میں لگا دیں کچھ دن میں ہی پودے نکل ائیں گے جب پتے نکل ائے اور پتے تیار ہو جائیں تو ان پتوں کو بھی کاٹ کر کچن  میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور ان سے مختلف قسم کی ڈشز تیار کی جاتی ہیں۔

الو اگانا بھی بہت اسان ہے جب گھر میں رکھے ہوئے آلو میں جڑیں بننے لگیں  تب اسے  مٹی میں لگا دیں ایک ہفتے کے اندر پتے نکل اتے ہیں آلو کو باقی سبزیوں کی طرح نہیں اگاتے ہیں گملے میں تھوڑی کھال مٹی ڈال کر اس میں آلو لگائے جاتے ہیں اور جب پودے چار پانچ انچ کے ہو جاتے ہیں تب اس میں اور کھاد مٹی ڈالی جاتی ہے آلوؤں ں کی تہہ بنائی جاتی ہے جب گملا کھادمٹی سے بھر جاتا ہے اور پودے کافی بڑے ہو جاتے ہیں تقریبا 150 دن میں الو تیار ہو جاتے ہیں ۔کدو کے بیچ بڑے ہوتے ہیں ان بیجوں کو لگانے سے پہلے پانی میں رکھتے ہیں اور پھر انہیں لگایا جاتا ہے کدو کی بھی بیل ہوتی ہے لیکن اس کی بیل کو اوپر سہارا نہیں دیتے بلکہ اسے نیچے ہی پھیلاتے ہیں شملا مرچ کو بھی ان مہینوں میں لگا سکتے ہیں شملا مرچ کو بھی مرچ کی طرح ہی لگایا جاتا ہے اس کی پنیری بنائی جاتی ہے شکرقند کو بھی ان مہینوں میں لگا سکتے ہیں شکرقند کو زمین میں لگا دیں اس کے پودے نکل ائیں گے۔پودینہ گرمیوں میں بھی لگا سکتے ہیں لیکن بہت زیادہ گرمیوں میں پودینہ نہیں لگایا جاتا گرمیوں اور سردیوں دونوں موسم میں پودینے کو لگائے جا سکتا ہے اگر اپ کا علاقہ ٹھنڈا ہے تب اپ اس مہینے میں بھی پودینہ لگا دیں پودینہ لگانے کے لیے مارکیٹ سے ائے ہوئے پودینے کو ڈنڈیاں کھاد مٹی میں لگا دیں جلدی پتے نکل ائیں گے اور نئے پودے تیار ہو جائیں گے۔


موسم سرما کی سبزیاں اگانا۔

 موسم سرما کی سبزیاں اگست ستمبر اکتوبر نومبر میں لگائی جاتی ہیں علاقے کے لحاظ سے کسی علاقے میں اگست میں لگائی جاتی ہیں کہیں  ستمبر اکتوبر میں لگائی جاتی ہیں اور کچھ علاقوں میں نومبر میں لگائی جاتی ہیں موسم سرما میں زیادہ تر جڑوں والی سبزیاں لگائی جاتی ہیں اور ساگ اگائی جاتے ہیں جڑوں والی سبزیوں میں گاجر ،مولی شلجم ،چقندر، آلو شامل ہیں جڑوں والی تمام سبزیوں کو براہ راست بیچ سے ہی لگاتے ہیں ان کی پنیری نہیں بنائی جاتی ہے۔اس کے علاوہ اس موسم میں مختلف قسم کے ساگ بھی اگائے جاتے ہیں ان ساگوں میں سرسوں کا ساگ، میتھی کا ساگ، پالک کا ساگ، سویا ،پودینہ، ہرا دھنیاں ،اور دوسرے ساگ اگائے جاتے ہیں ان ساگوں کو بھی براہ راست ہی لگایا جاتا ہے ان کی پنیری نہیں بنائی جاتی

کچھ پودے بیچ سے تو لگائے جاتے ہیں لیکن ان کی پنیری بنائی جاتی ہے ان میں ٹماٹر مرچ بینگن گوبھی بند گوبھی شامل ہے۔بیلوں والی  سبزیوں کو بھی اس موسم میں لگایا جا سکتا ہے۔ سردیوں میں جو بیلوں کی سبزیوں کے بیچ بوئے جاتے ہیں ان میں مٹر  اور دوسری بیلیں شامل ہیں۔

پیاز اور لہسن کو بھی اس موسم میں لگا سکتے ہیں آلو گرمی سردی دونوں موسم میں لگایا جا سکتا ہے۔
























تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گملوں میں آسانی سے سبزیاں اگائیں ۔

    گھر بیٹھےمدافعتی نظام کو متحرک   رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ گھریلو باغبانی نہ صرف ایک   صحت مند سرگرمی ہے بلکہ ہم اپنے   گھر میں ہی آلودگی اور کیمیکل کے اثرات سے پاک سبزیوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اگر شوق ہے تو اس مضمون کے ذریعے موسم گرما میں سبزیوں کی   گھریلو سطح پر بوائی کی معلومات حاصل کریں۔اور حقیقت میں   مدافعتی نظام کو متحرک رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ موسم گرما کی سبزیاں اگانے کے لیے پندرہ فروری سے بہترین وقت شروع ہوجاتا ہے فروری سے مارچ اپریل تک سبزیوں کے بیج بوئے جاسکتے ہیں کچھ علاقوں میں اپریل کے بعد بھی بیج بوسکتے ہیں لیکن سخت گرمی اور لو میں بیجوں سے پودے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔جن گملوں میں سبزی اگائی جائے وہ گملہ بارہ انچ سے بڑا ہو۔   گملہ جتنا بڑا ہوگا پودے کی نشوونما بھی اچھی ہوگی اور سبزی بھی وافر مقدار میں میسر آسکے گی سبزیوں کے لیے موسم گرما میں صبح کی پانچ سے چھ گھنٹے کی دھوپ لازمی ہوتی ہے۔ سبزی کے پودے کو صبح ایک بار پانی لازمی دیں تیز دھوپ اور لو سے بچاؤ کے   لیے گرین نیٹ کا استعمال بھی کرسکتے ہیں پودے کو گ...

معیاری سبزی کے لیے نامیاتی کھاد کی تیاری

زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے مختلف قسم کی کھاد کا  استعمال ضروری ہوتا ہے۔کھاد میں دیگر کار آمد اشیا کے علاوہ نائٹروجن کے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔ جب پودوں کو پانی دیا جاتا ہے تو یہ مرکبات پانی میں حل ہو جاتے ہیں اور پھر پودے کی جڑیں اُن کو چوس کر تنے، شاخوں اور پتوں وغیرہ تک پہنچا دیتی ہیں۔ جانوروں کے فضلے سے جو کھاد خود بخود بن جاتی ہے اُس کی مقدار محدود ہے اور تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ۔ لہٰذا بعض کیمیائی مرکبات مصنوعی کھاد کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں  جن کے ذیلی اثرات انسانی جسم پر مضر ردعمل  پیدا کرسکتے ہیں۔ البتہ نامیاتی کھاد  کی تیاری سے اس خرابی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جس میں قدرتی طور پر  نائٹروجن کے مرکبات حل ہوجاتے ہیں اور پودوں کو غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ گھریلو باغبانی کے لیے  کھاد اپنے گھر میں  خودہی  تیار کریں ہمارے گھروں میں روزانہ ہی مختلف قسم کا کچرا جمع ہوجاتا ہے اس کچرے کی ایک بڑی مقدار کچن سے نکلنے والا  کچرا ہے اگر ہم اس کچرے کو ضائع کرنے کی بجائے اس سے اپنے گھر میں ہی  اپنے پودوں کے لئے کھ...

مثبت سوچ سے زندگی سدھاریں

انسانی ذہن پر سوچ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے ز ندگی کا ہر منظر سوچ سے ہی جنم لیتا ہے۔ سوچ سے انسانی جذبات بنتے ہیں اور اس سے عمل وجود میں آتا ہے سوچ دو طرح کی ہوتی ہے۔ مثبت سوچ اور منفی سوچ یعنی اچھی اور بری سوچ کامیابی اور ناکامی ان ہی دو سوچوں کا نتیجہ ہے۔  خیالات کا ذ ہن میں پیدا ہونا ایک قدرتی رجحان ہے مگر خیال کو سوچ میں تبدیل کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ انسان کے خیالات ہی اس کی شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے کا موجب ہے مثبت خیالات مثبت سوچ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں مثبت سوچ کامیابی کی طرف لے جانے والی وہ سڑک ہے جس پر چلنے والا اپنی منزل کو پالیتا ہے ۔ہماری تمام حرکات  ہماری سوچ کے زیراثرہوتی ہیں یعنی یہ ہماری سوچ ہی ہےجو ہم سے عوامل سرزد کراتی ہے مثبت سوچ دراصل اچھی اور صحیح سوچ ھےایک مثبت سوچ کا حامل انسان یقیناً مثبت خیالات اور تخلیقات کو ہی منظر عام پر لائے گا۔مثبت سوچ اچھے خیالات کی وجہ بنتی ھے جس کے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔زندگی میں کامیابی کا اسی فیصد انحصار  ہمارے رویے پر ہے   اور رویہ  سوچ سے جنم لیتا ہےمثبت سوچ سے مثبت ...