رمضان کے روزے اور انٹرمیٹینٹ فاسٹنگ
جدید میڈیکل سائنس جس طرزِ زندگی کو انٹرمیٹینٹ فاسٹنگ (Intermittent Fasting) کے نام سے متعارف کرا رہی ہےاس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جسم کو مخصوص وقفوں کے لیے خوراک سے روک کر اسے فاسٹنگ اسٹیٹ میں داخل کیا جائے۔ اس عمل کے نتیجے میں جسم میں متعدد مثبت تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، جن میں وزن میں کمی، انسولین کی بہتر کارکردگی، دل اور دماغ کی صحت میں بہتری، اور خلیات کی صفائی (آٹو فیجی) شامل ہیں۔ دنیا بھر کے ماہر ڈاکٹر اور محققین اس طریقۂ کار کو ایک مؤثر اور صحت بخش لائف اسٹائل کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔
اگر غور کیا جائے تو رمضان المبارک کے روزے عملی طور انٹرمیٹینٹ فاسٹنگ کی سب سے متوازن، فطری اور مکمل صورت ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ انٹرمیٹینٹ فاسٹنگ کا مقصد محض جسمانی صحت تک محدود ہوتا ہے، جبکہ رمضان کے روزے جسم کے ساتھ ساتھ روح کی تربیت اور اخلاق کی اصلاح بھی کرتے ہیں۔ طبی اعتبار سے دیکھا جائے تو رمضان کے روزوں سے وہی تمام فوائد حاصل ہوتے ہیں جن کا ذکر جدید میڈیکل سائنس انٹرمیٹینٹ فاسٹنگ کے ضمن میں کرتی ہے، جیسے انسولین لیول میں بہتری، چربی کا مؤثر طور پر جلنا، آٹو فیجی کا فعال ہونا، دل اور دماغ کا تحفظ، نظامِ ہاضمہ کو آرام ملنا اور مدافعتی نظام کا مضبوط ہونا۔
رمضان کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں یہ تمام سائنسی اور طبی فوائد عبادت کے ساتھ جُڑ جاتے ہیں۔ یوں جو عمل دنیا محض صحت کے حصول کے لیے اختیار کرتی ہےوہ ہی عمل رمضان میں ثواب، روحانی سکون، ضبطِ نفس اور اخلاقی تربیت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان کا روزہ میڈیکل سائنس کی نگاہ میں بھی ایک مکمل ہیلتھ پیکج ہے اور دینی اعتبار سے بھی ایک عظیم اور بابرکت عبادت ہے۔
(Dr.Alia Khan)

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں