نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

گھر میں دیسی گھی تیار کرنے کا درست طریقہ

 دیسی گھی صدیوں سے برصغیر کے گھروں میں استعمال ہونے والی ایک خالص اور قدرتی غذا ہے۔ پرانے زمانے میں تقریباً ہر گھر میں گھی گھر پر ہی تیار کیا جاتا تھا کیونکہ اسے نہ صرف کھانوں کے ذائقے کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے بلکہ اسے صحت کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔ خالص دیسی گھی کی خوشبو اور ذائقہ بازار میں ملنے والے گھی یا تیل سے بالکل مختلف ہوتا ہے اسی وجہ سے گھریلو طریقے سے بنایا گیا گھی زیادہ پسند کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں خالص پن، صفائی اور قدرتی خوشبو برقرار رہتی ہے۔



گھر میں دیسی گھی بنانے کا ایک روایتی اور درست طریقہ یہ ہے کہ دودھ سے اتری ہوئی ملائی کو روزانہ ایک صاف برتن میں جمع کیا جائے جب مناسب مقدار میں ملائی جمع ہو جائے تو اسے ہلکا سا گرم کر لیا جاتا ہے تاکہ اس میں آسانی سے جاگ یعنی دہی لگایا جا سکے اس کے بعد اس ملائی میں تھوڑی سی دہی شامل کر کے برتن کو ڈھانپ دیا جاتا ہے تاکہ دہی اچھی طرح جم جائے۔

جب ملائی کا دہی تیار ہو جائے تو اسے رات بھر فریج میں رکھ دیا جاتا ہے۔ اس سے دہی اچھی طرح ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور مکھن نکالنا آسان ہو جاتا ہے۔ اگلی صبح اس دہی کو مکھن متھنے کے برتن میں ڈال کر اچھی طرح بلایا یا متھا جاتا ہے اس عمل کے نتیجے میں نرم اور خالص مکھن الگ ہو کر اوپر آ جاتا ہے۔

اس مکھن کو الگ برتن میں نکال کر چولہے پر ہلکی آنچ پر گرم کیا جاتا ہے آہستہ آہستہ مکھن پگھل کر صاف اور خوشبودار گھی میں تبدیل ہو جاتا ہے جب گھی مکمل طور پر تیار ہو جائے اور اس کا رنگ ہلکا سا سنہری یا سبزی مائل ہو جائے تو اسے ٹھنڈا ہونے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے بعد میں اسے چھان کر صاف اور خشک ڈبے میں محفوظ کر لیا جاتا ہے ۔خالص دیسی گھی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اسے صبر، صفائی اور درست طریقے سے تیار کیا جائے کیونکہ جلدی میں ملائی جلا کر بنایا گیا گھی نہ صرف ذائقے میں اچھا نہیں ہوتا بلکہ اس میں اصل خوشبو بھی باقی نہیں رہتی گھریلو طریقے سے تیار کیا گیا دیسی گھی اپنی خوشبو، ذائقے اور خالص پن کی وجہ سے کھانے کے لطف کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔


(Dr۔Alia Khan)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گملوں میں آسانی سے سبزیاں اگائیں ۔

    گھر بیٹھےمدافعتی نظام کو متحرک   رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ گھریلو باغبانی نہ صرف ایک   صحت مند سرگرمی ہے بلکہ ہم اپنے   گھر میں ہی آلودگی اور کیمیکل کے اثرات سے پاک سبزیوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اگر شوق ہے تو اس مضمون کے ذریعے موسم گرما میں سبزیوں کی   گھریلو سطح پر بوائی کی معلومات حاصل کریں۔اور حقیقت میں   مدافعتی نظام کو متحرک رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ موسم گرما کی سبزیاں اگانے کے لیے پندرہ فروری سے بہترین وقت شروع ہوجاتا ہے فروری سے مارچ اپریل تک سبزیوں کے بیج بوئے جاسکتے ہیں کچھ علاقوں میں اپریل کے بعد بھی بیج بوسکتے ہیں لیکن سخت گرمی اور لو میں بیجوں سے پودے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔جن گملوں میں سبزی اگائی جائے وہ گملہ بارہ انچ سے بڑا ہو۔   گملہ جتنا بڑا ہوگا پودے کی نشوونما بھی اچھی ہوگی اور سبزی بھی وافر مقدار میں میسر آسکے گی سبزیوں کے لیے موسم گرما میں صبح کی پانچ سے چھ گھنٹے کی دھوپ لازمی ہوتی ہے۔ سبزی کے پودے کو صبح ایک بار پانی لازمی دیں تیز دھوپ اور لو سے بچاؤ کے   لیے گرین نیٹ کا استعمال بھی کرسکتے ہیں پودے کو گ...

معیاری سبزی کے لیے نامیاتی کھاد کی تیاری

زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے مختلف قسم کی کھاد کا  استعمال ضروری ہوتا ہے۔کھاد میں دیگر کار آمد اشیا کے علاوہ نائٹروجن کے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔ جب پودوں کو پانی دیا جاتا ہے تو یہ مرکبات پانی میں حل ہو جاتے ہیں اور پھر پودے کی جڑیں اُن کو چوس کر تنے، شاخوں اور پتوں وغیرہ تک پہنچا دیتی ہیں۔ جانوروں کے فضلے سے جو کھاد خود بخود بن جاتی ہے اُس کی مقدار محدود ہے اور تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ۔ لہٰذا بعض کیمیائی مرکبات مصنوعی کھاد کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں  جن کے ذیلی اثرات انسانی جسم پر مضر ردعمل  پیدا کرسکتے ہیں۔ البتہ نامیاتی کھاد  کی تیاری سے اس خرابی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جس میں قدرتی طور پر  نائٹروجن کے مرکبات حل ہوجاتے ہیں اور پودوں کو غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ گھریلو باغبانی کے لیے  کھاد اپنے گھر میں  خودہی  تیار کریں ہمارے گھروں میں روزانہ ہی مختلف قسم کا کچرا جمع ہوجاتا ہے اس کچرے کی ایک بڑی مقدار کچن سے نکلنے والا  کچرا ہے اگر ہم اس کچرے کو ضائع کرنے کی بجائے اس سے اپنے گھر میں ہی  اپنے پودوں کے لئے کھ...

مثبت سوچ سے زندگی سدھاریں

انسانی ذہن پر سوچ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے ز ندگی کا ہر منظر سوچ سے ہی جنم لیتا ہے۔ سوچ سے انسانی جذبات بنتے ہیں اور اس سے عمل وجود میں آتا ہے سوچ دو طرح کی ہوتی ہے۔ مثبت سوچ اور منفی سوچ یعنی اچھی اور بری سوچ کامیابی اور ناکامی ان ہی دو سوچوں کا نتیجہ ہے۔  خیالات کا ذ ہن میں پیدا ہونا ایک قدرتی رجحان ہے مگر خیال کو سوچ میں تبدیل کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ انسان کے خیالات ہی اس کی شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے کا موجب ہے مثبت خیالات مثبت سوچ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں مثبت سوچ کامیابی کی طرف لے جانے والی وہ سڑک ہے جس پر چلنے والا اپنی منزل کو پالیتا ہے ۔ہماری تمام حرکات  ہماری سوچ کے زیراثرہوتی ہیں یعنی یہ ہماری سوچ ہی ہےجو ہم سے عوامل سرزد کراتی ہے مثبت سوچ دراصل اچھی اور صحیح سوچ ھےایک مثبت سوچ کا حامل انسان یقیناً مثبت خیالات اور تخلیقات کو ہی منظر عام پر لائے گا۔مثبت سوچ اچھے خیالات کی وجہ بنتی ھے جس کے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔زندگی میں کامیابی کا اسی فیصد انحصار  ہمارے رویے پر ہے   اور رویہ  سوچ سے جنم لیتا ہےمثبت سوچ سے مثبت ...