نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

جنگل میں چلیں

 

جنگل میں چلیں
Shinrin-yoku یا Forest Bathing
آج ہم ایک ایسے موضوع پر بات کریں گے جو نہ صرف ہماری ذہنی صحت بلکہ ہمارے روزمرہ کے سکون اور خوشی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ اکثر ہم سوچتے ہیں کہ کسی سرسبز جگہہ کسی کھیت باغ میں وقت گزارنا یا فطرت کے قریب ہونا ہمارے لیے ممکن نہیں کیونکہ ہم شہر میں رہتے ہیں  لیکن حقیقت یہ ہے کہ اصل مقصد صرف  فطرت کے ساتھ جڑنا ہے۔ چاہے وہ چھوٹا سا پارک ہو، ایک باغیچہ ہو، یا آپ کی بالکونی میں رکھے گملوں کے  پودے ہوں ۔
سب سے پہلے کہ ہم اپنے دن کی رفتار کو سست کریں اور موجودہ لمحے میں جئیں۔ ہم عموماً دوڑتی زندگی میں رہتے ہیں ذہن مسلسل ماضی یا مستقبل کے بارے میں سوچتا رہتا ہے اور اسی وجہ سے تناؤ، اداسی اور اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم پارک یا باغیچے میں چلتے ہیں ہم قدم قدم پر ماحول کو دیکھنا، سونگھنا اور محسوس کرنا سیکھتے ہیں۔ ہم درختوں کی چھال کو چھو کر دیکھتے ہیں پتوں کی سرسراہٹ سنتے ہیں گھاس کی ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں اور ہوا میں خوشبو کے مختلف ذرات کو محسوس کرتے ہیں۔ اس خاموش مشاہدے کے ذریعے ہمارا ذہن پرسکون ہو جاتا ہے

 اور غیر ضروری سوچیں خود بخود کم ہو جاتی ہیں۔
ایک عملی مشق یہ ہے کہ پارک میں چند قدم چلنے کے بعد رک جائیں اور صرف خاموشی میں بیٹھیں۔ اپنی سانسوں پر توجہ دیں ہر سانس کے ساتھ جسم کو زمین یا پودوں سے جڑا ہوا محسوس کریں۔ آپ اپنے ہاتھوں سے گھاس، پودوں یا درختوں کو چھو سکتے ہیں یا صرف دیکھ کر، خوشبو لے کر اور آوازیں سنتے ہوئے بھی اس عمل میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس مشق کو پانچ سے دس منٹ تک جاری رکھیں  اور ہر بار ختم ہونے پر محسوس کریں کہ آپ کا ذہن کس طرح زیادہ پرسکون اور موجودہ لمحے میں مرکوز ہو گیا ہے۔

شہر میں یہ تجربہ نہ صرف ذاتی سکون کے لیے مفید ہے بلکہ یہ جسمانی صحت پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ سانس لینے کے دوران درختوں اور پودوں سے پیدا ہونے والے کیمیائی اجزاء  ہمارے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں  بلڈ پریشر کم کرتے ہیں اور دل کی دھڑکن کو معمول پر لاتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے قدرتی  عمل ہے جو بغیر کسی دوائی یا مشق کے جسم اور دماغ کو بہتر بناتا ہے۔

ایک اور عملی مشق یہ ہے کہ آپ پارک یا باغیچے میں چلتے وقت  پہلے صرف دیکھیں، درختوں اور پودوں کی شکل، رنگت، روشنی میں فرق محسوس کریں۔ پھر سونگھیں، ہوا، زمین اور پودوں کی خوشبو پر دھیان دیں۔ پھر سنیں، پرندوں کی آواز، پتوں کی سرسراہٹ، ہوا کا شور سب کچھ محسوس کریں۔ اگر ممکن ہو تو اپنے ہاتھ سے مٹی کو چھوئیں، پتوں کو ہاتھ لگائیں، اور زمین کی ساخت محسوس کریں۔ یہ چھوٹے چھوٹے عمل دماغ کو مکمل طور پر موجودہ لمحے میں لے آتے ہیں اور غیر ضروری سوچوں کو ختم کر دیتے ہیں۔

روزانہ یا ہفتے میں کچھ دن مختص کریں۔ شہر میں صرف پانچ سے دس منٹ بھی کافی ہیں۔ پارک میں یا چھوٹے باغیچے میں قدم قدم چلیں خاموشی میں بیٹھیں، سانس لیں، ہر لمحے کو محسوس کریں اور اپنے ذہن کی کیفیت نوٹ کریں۔ ہر بار آپ دیکھیں گے کہ آپ زیادہ پرسکون، موجودہ لمحے میں مرکوز اور ذہنی دباؤ سے آزاد محسوس کریں گے۔

Shinrin-yoku یا Forest Bathing
کا اصل مقصد جنگل میں ہونا نہیں بلکہ  چھوٹا باغیچہ ہو، یا گھر کی بالکونی میں کچھ پودے، اصل چیز یہ ہے کہ آپ خاموشی سے وقت گزاریں  اپنے حواس کو کھولیں، سانس لیں اور موجودہ لمحے میں رہیں  یہی عمل جسم، دماغ اور روح کو متوازن کرتا ہے، اور انسانی زندگی میں سکون اور خوشی لاتا ہے۔
یہ عمل نہ مہنگا ہے نہ کسی مہارت کا محتاج بس اپنی رفتار سست کریں اپنے حواس استعمال کریں اور فطرت کے ساتھ تعلق قائم کریں۔ اگر آپ یہ معمول بنا لیں چاہے صرف چھوٹے چھوٹے لمحات کے لیے تو یہ عمل آپ کی زندگی میں مسلسل ذہنی سکون، توازن اور خوشی لاتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ خوشی اور سکون ہمیشہ ہمارے قریب موجود ہیں، بس ہمیں اسے محسوس کرنا آنا چاہیے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گملوں میں آسانی سے سبزیاں اگائیں ۔

    گھر بیٹھےمدافعتی نظام کو متحرک   رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ گھریلو باغبانی نہ صرف ایک   صحت مند سرگرمی ہے بلکہ ہم اپنے   گھر میں ہی آلودگی اور کیمیکل کے اثرات سے پاک سبزیوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اگر شوق ہے تو اس مضمون کے ذریعے موسم گرما میں سبزیوں کی   گھریلو سطح پر بوائی کی معلومات حاصل کریں۔اور حقیقت میں   مدافعتی نظام کو متحرک رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ موسم گرما کی سبزیاں اگانے کے لیے پندرہ فروری سے بہترین وقت شروع ہوجاتا ہے فروری سے مارچ اپریل تک سبزیوں کے بیج بوئے جاسکتے ہیں کچھ علاقوں میں اپریل کے بعد بھی بیج بوسکتے ہیں لیکن سخت گرمی اور لو میں بیجوں سے پودے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔جن گملوں میں سبزی اگائی جائے وہ گملہ بارہ انچ سے بڑا ہو۔   گملہ جتنا بڑا ہوگا پودے کی نشوونما بھی اچھی ہوگی اور سبزی بھی وافر مقدار میں میسر آسکے گی سبزیوں کے لیے موسم گرما میں صبح کی پانچ سے چھ گھنٹے کی دھوپ لازمی ہوتی ہے۔ سبزی کے پودے کو صبح ایک بار پانی لازمی دیں تیز دھوپ اور لو سے بچاؤ کے   لیے گرین نیٹ کا استعمال بھی کرسکتے ہیں پودے کو گ...

معیاری سبزی کے لیے نامیاتی کھاد کی تیاری

زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے مختلف قسم کی کھاد کا  استعمال ضروری ہوتا ہے۔کھاد میں دیگر کار آمد اشیا کے علاوہ نائٹروجن کے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔ جب پودوں کو پانی دیا جاتا ہے تو یہ مرکبات پانی میں حل ہو جاتے ہیں اور پھر پودے کی جڑیں اُن کو چوس کر تنے، شاخوں اور پتوں وغیرہ تک پہنچا دیتی ہیں۔ جانوروں کے فضلے سے جو کھاد خود بخود بن جاتی ہے اُس کی مقدار محدود ہے اور تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ۔ لہٰذا بعض کیمیائی مرکبات مصنوعی کھاد کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں  جن کے ذیلی اثرات انسانی جسم پر مضر ردعمل  پیدا کرسکتے ہیں۔ البتہ نامیاتی کھاد  کی تیاری سے اس خرابی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جس میں قدرتی طور پر  نائٹروجن کے مرکبات حل ہوجاتے ہیں اور پودوں کو غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ گھریلو باغبانی کے لیے  کھاد اپنے گھر میں  خودہی  تیار کریں ہمارے گھروں میں روزانہ ہی مختلف قسم کا کچرا جمع ہوجاتا ہے اس کچرے کی ایک بڑی مقدار کچن سے نکلنے والا  کچرا ہے اگر ہم اس کچرے کو ضائع کرنے کی بجائے اس سے اپنے گھر میں ہی  اپنے پودوں کے لئے کھ...

مثبت سوچ سے زندگی سدھاریں

انسانی ذہن پر سوچ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے ز ندگی کا ہر منظر سوچ سے ہی جنم لیتا ہے۔ سوچ سے انسانی جذبات بنتے ہیں اور اس سے عمل وجود میں آتا ہے سوچ دو طرح کی ہوتی ہے۔ مثبت سوچ اور منفی سوچ یعنی اچھی اور بری سوچ کامیابی اور ناکامی ان ہی دو سوچوں کا نتیجہ ہے۔  خیالات کا ذ ہن میں پیدا ہونا ایک قدرتی رجحان ہے مگر خیال کو سوچ میں تبدیل کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ انسان کے خیالات ہی اس کی شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے کا موجب ہے مثبت خیالات مثبت سوچ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں مثبت سوچ کامیابی کی طرف لے جانے والی وہ سڑک ہے جس پر چلنے والا اپنی منزل کو پالیتا ہے ۔ہماری تمام حرکات  ہماری سوچ کے زیراثرہوتی ہیں یعنی یہ ہماری سوچ ہی ہےجو ہم سے عوامل سرزد کراتی ہے مثبت سوچ دراصل اچھی اور صحیح سوچ ھےایک مثبت سوچ کا حامل انسان یقیناً مثبت خیالات اور تخلیقات کو ہی منظر عام پر لائے گا۔مثبت سوچ اچھے خیالات کی وجہ بنتی ھے جس کے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔زندگی میں کامیابی کا اسی فیصد انحصار  ہمارے رویے پر ہے   اور رویہ  سوچ سے جنم لیتا ہےمثبت سوچ سے مثبت ...