زندگی کا سفر عجیب بھی ہے اور خوبصورت بھی۔ بچپن میں ہمیں جلدی بڑی عمر تک پہنچنے کی خواہش ہوتی ہے۔ لگتا ہے کہ بڑے ہو کر آزادی ہوگی اپنی مرضی کے فیصلے ہوں گے اور زندگی آسان ہوجائے گی۔ لیکن وقت کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ عمر تو بڑھتی ہے مگر اس کے ساتھ ذمہ داریاں بھی بڑھتی چلی جاتی ہیں۔
بچپن کھیل کود، خوابوں اور بے فکری میں گزر جاتا ہے۔ پھر تعلیم کا مرحلہ آتا ہے، اچھے نمبروں کی فکر، مستقبل بنانے کی دوڑ، نوکری حاصل کرنے کی جدوجہد اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی خواہش جوانی کا بڑا حصہ اسی بھاگ دوڑ میں گزر جاتا ہے۔ انسان سوچتا ہے کہ بس ایک اچھی نوکری مل جائے تو سکون آجائے گا مگر جیسے ہی ایک منزل ملتی ہے زندگی ایک نئی ذمہ داری سامنے لا کھڑی کرتی ہے۔
شادی کے بعد زندگی کا رخ مکمل طور پر بدل جاتا ہے۔ اب انسان صرف اپنی ذات کے لیے نہیں جیتا بلکہ ایک نئے رشتے اور نئے گھر کی ذمہ داریاں اس کے کاندھوں پر آجاتی ہیں۔ میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، محدود آمدنی میں بھی گھر چلانا ہوتا ہے مہنگائی کا مقابلہ بھی کرنا پڑتا ہے کبھی کرائے کی فکر ہوتی ہے، کبھی اپنا گھر بنانے کا خواب، کبھی بجلی، گیس، تعلیم اور علاج کے اخراجات انسان دن رات محنت کرتا ہے تاکہ گھر والوں کو کسی چیز کی کمی نہ ہو۔
پھر اللہ اولاد کی نعمت عطا کرتا ہے اور زندگی کا ایک اور باب شروع ہوجاتا ہے راتوں کی نیند بچوں کے لیے قربان ہوجاتی ہے ان کی صحت، دودھ، خوراک، کپڑے، اسکول، پڑھائی، اخلاق، تربیت اور مستقبل کی فکر ہر وقت دل و دماغ پر چھائی رہتی ہے۔ والدین اپنی بہت سی خواہشات خاموشی سے قربان کر دیتے ہیں۔ وہ اپنی ضروریات مؤخر کر دیتے ہیں تاکہ بچوں کی ضروریات پوری ہوسکیں۔ ان کی خوشی میں اپنی خوشی تلاش کرتے ہیں اور ان کی تکلیف میں خود بے چین ہوجاتے ہیں۔
وقت خاموشی سے گزرتا رہتا ہے اور وہی ننھے ننھے بچے جوان ہونے لگتے ہیں۔ اب فکر بدل جاتی ہے۔ اچھی تعلیم، بہتر کیریئر، اچھی صحبت، صحیح فیصلے، شادی، روزگار اور مستقبل کی پریشانیاں والدین کے دل میں جگہ بنا لیتی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد وہ مشکلات نہ دیکھے جو انہوں نے خود دیکھی تھیں اس لیے وہ اپنی پوری طاقت سے ان کا سہارا بنے رہتے ہیں۔
پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب بچے اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ کسی کی ملازمت، کسی کی شادی، کسی کا اپنا گھر، اور پھر ان کے بچوں کی پرورش والدین کی ذمہ داریاں کم تو ہوجاتی ہیں مگر فکر کبھی ختم نہیں ہوتی فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ اب وہ دور بیٹھ کر دعائیں زیادہ کرتے ہیں اور فیصلے کم کرتے ہیں۔
اس دوران انسان خود بھی ادھیڑ عمر کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ ایک دن اچانک احساس ہوتا ہے کہ بچپن سے لے کر آج تک زندگی مسلسل دوڑتی ہی رہی پہلے تعلیم کی فکر، پھر روزگار، پھر شادی، پھر بچوں کی پرورش، پھر ان کے مستقبل کی فکر۔ ایک ذمہ داری ختم ہونے سے پہلے دوسری سامنے آتی رہی۔ اپنی پسند، اپنے شوق، اپنی صحت اور اپنے آرام کو اکثر بعد کے لیے ٹالتے ٹالتے عمر کا بڑا حصہ گزر گیا۔
پچاس سال کی عمر تک پہنچ کر انسان کے جسم کی رفتار بھی بدلنے لگتی ہے۔ پہلے جیسی طاقت نہیں رہتی جلد تھکن محسوس ہونے لگتی ہے نیند پہلے جیسی گہری نہیں رہتی گھٹنوں اور کمر کی تکلیف یاد دلاتی ہے کہ اب جسم بھی آرام مانگ رہا ہے ایسے میں انسان کو پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ شاید اس نے پوری زندگی دوسروں کے لیے گزاری، مگر اپنے لیے بہت کم وقت نکالا۔
تب سمجھ میں آتا ہے کہ سکون نہ کسی بڑے گھر میں ہے نہ زیادہ دولت میں، نہ لوگوں کی تعریف میں اصل سکون دل کے اطمینان میں ہے یہ احساس کہ ہر بات پر پریشان ہونا ضروری نہیں، ہر بحث جیتنا ضروری نہیں، ہر کسی کو خوش کرنا ضروری نہیں، اور ہر وقت خود کو ثابت کرنا بھی ضروری نہیں۔
اب انسان چھوٹی چھوٹی چیزوں میں خوشی تلاش کرنے لگتا ہے۔ صبح کی تازہ ہوا، پرندوں کی آواز، اپنے ہاتھوں سے لگائے ہوئے پودے، ایک اچھی کتاب، سکون سے پیا گیا چائے کا کپ، بچوں اور پوتے پوتیوں کی ہنسی، کسی اپنے کے ساتھ خاموش بیٹھنا، اور اللہ کے حضور چند لمحے گزارنا، یہ سب دل کو وہ سکون دیتے ہیں جو دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابی بھی کبھی نہیں دے پاتی۔
زندگی آخرکار یہی سکھاتی ہے کہ انسان ہمیشہ دوڑنے کے لیے پیدا نہیں ہوا رکنا بھی ضروری ہے خود کو وقت دینا بھی ضروری ہے اپنے جسم کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے اور اپنے دل کو سکون دینا بھی ضروری ہے۔ اگر ہم نے بچپن سے لے کر ادھیڑ عمر تک اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری سے نبھائی ہیں تو اب اپنے لیے چند پرسکون لمحے مانگنا کوئی خود غرضی نہیں بلکہ زندگی کا حق ہے۔
اور یہی وہ نعمت ہے جس کی تلاش میں وہ پوری زندگی سفر کرتا رہتا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں