نیوٹرینٹس کیا ہوتے ہیں؟
انسانوں کو صحت مند رہنے کے لیے خوراک چاہیے، اسی طرح پودوں کو بھی مختلف قسم کے نیوٹرینٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔
نیوٹرینٹس وہ غذائی اجزاء ہیں جو پودے اپنی زندگی اور بڑھوتری کے لیے مٹی، پانی، یا ہوا سے حاصل کرتے ہیں۔ یہ اجزاء پودے کے مختلف حصوں (پتے، جڑیں، تنے، پھول، پھل) کی نشوونما کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
پودوں کے لیے نیوٹرینٹس کی اہمیت کیوں ہے؟
:پودے کی نشوونما (Growth) کے لیے
کلوروفل بنانے کے لیے (پتوں کا سبز رنگ) پھول اور پھل بنانے کے لیے،جڑوں کو مضبوط بنانے کے لیے ،بیماریوں سے بچاؤ اور پودے کو متوازن رکھنے کے لیے
نیوٹرینٹس کی اقسام
نیوٹرینٹس کو پودے کی ضرورت کی مقدار کے لحاظ سے دو بڑے گروپوں میں تقسیم کیا جاتا ہے
:
A) میکرونیوٹرینٹس (Macronutrients)
یہ وہ غذائی اجزاء ہیں جن کی پودے کو زیادہ مقدار میں ضرورت ہوتی ہے۔
1. پرائمری میکرونیوٹرینٹس
نائٹروجن (N)
پتے، تنے اور شاخوں کی بڑھوتری کے لیے سب سے اہم۔
کلوروفل (سبز رنگ) بنانے میں مدد دیتا ہے۔
کمی کی علامت: پتے زرد ہونا۔
فاسفورس (P)
جڑوں کی نشوونما، پھول اور بیج بنانے میں اہم۔توانائی فراہم کرتا ہے۔
کمی کی علامت: پودے کا قد چھوٹا رہنا، پتے جامنی یا گہرے سبز ہو جانا۔
پوٹاشیم (K)
پھول اور پھل بنانے، بیماریوں سے بچاؤ، اور پانی کے توازن کے لیے ضروری۔
کمی کی علامت: پتوں کے کنارے جلنا، پتے مڑنا۔
2. سیکنڈری میکرونیوٹرینٹس
کیلشیم (Ca)
خلیوں کی مضبوطی اور جڑوں کی صحت کے لیے۔
کمی: پودا کمزور اور نرم ہو جاتا ہے، پھل پر سڑن۔
میگنیشیم (Mg)
کلوروفل کا حصہ ہے (سبز رنگ)۔
کمی: پتوں کی رگیں سبز رہتی ہیں لیکن بیچ میں پیلا پن آ جاتا ہے۔
سلفر (S)
پروٹین اور کلوروفل بنانے میں مددگار۔
کمی: پودا پیلا اور کمزور ہو جاتا ہے۔
B) مائیکرونیوٹرینٹس (Micronutrients)
یہ وہ غذائی اجزاء ہیں جن کی پودے کو کم مقدار میں ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ بھی بہت ضروری ہیں۔
آئرن (Fe) – کلوروفل بنانے کے لیے۔ (کمی: نئے پتے پیلے ہو جاتے ہیں)
بوران (B) – پھول اور بیج بنانے کے لیے۔ (کمی: پھول گر جانا)
زنک (Zn) – پتے اور شاخوں کی بڑھوتری کے لیے۔ (کمی: پتے چھوٹے رہنا)
کاپر (Cu) – اینزائمز کے لیے ضروری۔ (کمی: پتے جھک جانا)
مولبڈینم (Mo) – نائٹروجن کو پودے میں فعال بناتا ہے۔
مینگانیز (Mn) – فوٹو سنتھیسس میں مدد دیتا ہے۔
4. پودے نیوٹرینٹس کہاں سے حاصل کرتے ہیں؟
مٹی سے – زیادہ تر منرلز اور پانی کے ذریعے۔
ہوا سے – کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂)۔
پانی سے – ہائیڈروجن اور آکسیجن۔
5. پودوں میں نیوٹرینٹس کی کمی کے اثرات
پتے پیلے پڑ جانا
پودے کا قد چھوٹا رہنا
پھول اور پھل کم لگنا
پودا بیماریوں کا شکار ہونا
6. نیوٹرینٹس کو متوازن رکھنے کے ذرائع (گھریلو اور قدرتی طریقے)
کمپوسٹ اور گوبر کی کھاد – یہ مٹی میں میکرونیوٹرینٹس اور مائیکرونیوٹرینٹس دونوں فراہم کرتے ہیں۔
ورمی کمپوسٹ – کیچوؤں کی کھاد نیوٹرینٹس سے بھرپور ہوتی ہے۔
لکڑی کی راکھ – پوٹاشیم اور مائیکرونیوٹرینٹس کا بہترین ذریعہ۔
گھریلو اسپرے (Epsom Salt، راکھ، سرکہ وغیرہ) – میگنیشیم اور زنک وغیرہ کے لیے۔
قدرتی مائع کھادیں – گوبر یا سبزیوں کا پانی خمیر کر کے استعمال کریں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں