نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

موسم سرما کی سبزیاں اپنے کچن گارڈن میں اگائیں

 سردیوں کی سبزیاں  گھر میں اگائیں اپنا کچن گارڈن بنائیں ۔


کچن گارڈننگ ایک ایسا شوق ہے جو انسان کو نہ صرف تازہ سبزیاں دیتا ہے بلکہ  خوشی، سکون اور صحت بھی دیتا ہے۔ گھر کی بالکونی، چھت، صحن میں   گملوں میں  سردیوں میں بہترین سبزیاں اگائی جا سکتی ہیں۔ سردی کے موسم کی سبزیوں کی  خاص بات یہ ہے کہ ان کو زیادہ گرمی، زیادہ پانی یا بہت زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت نہیں ہوتی یہ ٹھنڈے موسم کو پسند کرتی ہیں اور ذرا سی محنت کے ساتھ بہت اچھی پیداوار دیتی ہیں۔کچن گارڈننگ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کے سامنے ہر چیز صاف ستھری اگتی ہے نہ کیمیکل کا خوف نہ گندے پانی کا یہ ہی وجہ ہے  جب آپ خود اپنی اگائی ہوئی  سبزی توڑ کر کھانے میں ڈالیں تو اس کا ذائقہ بھی الگ ہوتا ہے ۔سردیوں کی سبزیوں میں زیادہ تر پتے والی اور جڑ والی سبزیاں اگائی جاتی ہیں  جیسے پالک، میتھی، دھنیا، سلاد پتا، گاجر، مولی، شلجم، بند گوبھی، پھول گوبھی، بروکلی، پنیر گوبھی، مٹر، چقندر وغیرہ۔ ان سب کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ٹھنڈے موسم میں بہت تیزی سے بڑھتی ہیں  سوکھتی نہیں اور کیڑے کم لگتے ہیں۔ پالک اور میتھی کو کوئی بھی چھوٹا گملا بھی کافی ہوتا ہے۔ بس مٹی نرم اور زرخیز ہو۔ مثال کے طور پر اگر آپ گھر میں موجود پرانی مٹی میں آدھی بالٹی گوبر کی کھاد، تھوڑی سی باری ریت اور تھوڑا سا کمپوسٹ ملا دیں تو ایک بہترین مکسچر بن جاتا ہے۔ اس میں بیج ڈالیں اور اوپر سے ہلکا سا پانی دے دیں۔ چند دنوں میں پتیاں نکل آتی ہیں اور آہستہ آہستہ پورے گملے میں بھر جاتی ہیں۔گاجر اور مولی کے لیے   گہری مٹی یا لمبائی میں زیادہ گملہ کی ضرورت ہوتی ہے ان کا گملہ لمبائی میں ہو اور جتنا زیادہ چوڑا ہوگا اتنی ہی مقدار میں سبزی ملے گی ان کی جڑیں نیچے جاتی ہیں، اس لیے اگر آپ کے پاس 12 انچ کا گملا یا باکس ہو تو بہترین سبزی ملتی ہے۔ جب بیج بوئیں تو ان پر بہت زیادہ مٹی نہ ڈالیں، صرف ہلکی سی تہہ کافی ہوتی یے  بہت سے لوگ پہلی دفعہ گاجر یا مولی  اگاتے ہیں تو  گاجر کی شکل ٹیڑھی نکلی ہوئی دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں۔ اصل میں اس کا سبب سخت مٹی، زیادہ پتھر یا کیچڑ ہوتا ہے۔ اگر مٹی نرم ہو تو گاجر مولی  سیدھی بنتی ہیں بند گوبھی اور پھول گوبھی درمیانے سائز کے گملے میں بھی بہت اچھی پیداوار دیتی ہیں اگر سردی زیادہ ہو تو یہ خوشی خوشی بڑھتی ہیں  بس ان کو  دھوپ اور مناسب پانی ملتا رہے جیسے جیسے پودا بڑا ہوتا ہے اس کی جڑیں گملے کو بھر دیتی ہیں اور اس کی گوبھی بنتی نظر آتی ہے۔ بند گوبھی کچھ وقت لیتی ہے لیکن جب تیار ہوتی ہے تو ایک ہی گوبھی کئی دن کے کھانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ پھول گوبھی کبھی کبھی چھوٹی رہ جاتی ہے  اگر کھاد صحیح دی گئی ہو اور پانی مناسب رہے تو بہت خوبصورت پھول نکلتاہے۔



مٹر سردیوں کی سب سے آسان اور خوشبودار فصل ہے۔ اس کا پودا ہلکی سی بیل کی طرح بڑھتا ہے اگر آپ اسے کسی جالی یا لکڑی کے سہارے لگا دیں تو پودا اوپر چڑھ جاتا ہے۔ جب پہلی پھلیاں لگتی ہیں تو ایسی خوشی ہوتی ہے جیسے بچپن میں پہلی بار کوئی پودا اگایا ہو۔ مٹر مٹی کو بھی بہتر کرتی ہے اور ایک ہی پودا کئی پھلیاں دیتا رہتا ہے۔

پودوں کو ٹھنڈے موسم میں پانی تھوڑا کم دینا چاہیے کیونکہ مٹی دیر سے خشک ہوتی ہے۔ صبح کے وقت ہلکی دھوپ میں پانی دینا بہتر ہوتا ہے۔ رات کو پانی دینے سے ٹھنڈ میں مٹی نم رہتی ہے جس سے جڑیں سردی پکڑ سکتی ہیں۔ اگر دھند زیادہ ہو تو کبھی کبھی پتے گیلی ہوا سے مرجھا بھی جاتے ہیں اس لیے بہتر ہے کہ کبھی کبھار پودے کو ہاتھ لگا کر دیکھیں کہ مٹی واقعی خشک ہے یا بس اوپر سے کئی لوگ سردیوں میں زیادہ پانی دے دیتے ہیں جس سے مٹی میں گلاؤ شروع ہوتا ہے اور جڑیں خراب ہو جاتی ہیں۔

کھاد کے لیے سردیوں میں گوبر کی کھاد یا کمپوسٹ بہترین رہتی ہے۔ کیمیائی کھادیں بھی دی جا سکتی ہیں مگر کم مقدار میں ورنہ پتے بہت نرم اور باریک ہو جاتے ہیں۔ ہر دس دن بعد  ہلکا سا پانی کھاد کے ساتھ دینا کافی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر گاجر یا چقندر میں نائٹروجن کم اور فاسفورس و پوٹاش زیادہ فائدہ دیتی ہے تاکہ جڑیں مضبوط ہوں۔ عام گھریلو کمپوسٹ جو کچن ویسٹ سے تیار کی گئی ہو اس  میں یہ سب قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے اس لیے الگ سے کچھ دینے کی ضرورت نہیں ہوتی  ہے ۔سردیوں کی سبزیوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں کیڑے کم ہوتے ہیں۔ اگر کبھی کبھار کیڑے لگ بھی جاتے ہیں تو پانی کا اسپرے یا نیم کے پتوں کا پانی ان کو ختم کر دیتا ہے۔ اگر پتے پیلے ہوں تو اکثر وجہ پانی کی زیادتی ہوتی ہے۔ اس لیے پہلے مٹی دیکھیں پھر پانی دیں۔ اگر دھوپ کم ہو تو پودے لمبے پتلے ہو جاتے ہیں اس لیے کوشش کریں کہ روزانہ کم از کم چار سے پانچ گھنٹے دھوپ ضرور ملتی ہو ۔

کچن گارڈننگ کا مشغلہ نہ صرف گھر کو خوبصورت بناتا ہے بلکہ گھر کی خواتین کو بھی ایک مثبت مصروفیت دیتا@ ہے۔ ذہنی سکون، ہلکی سی ورزش، تازہ ہوا، اپنے اگائے ہوئے کھانے کا لطف  یہ سب خوش  نصیبی کی بات ہے  ۔ سردیوں میں چائے لے کر پودوں کے پاس بیٹھنے کا الگ ہی مزہ ہوتا ہے۔ اگر گھر میں بچے ہوں تو اُن کو روزانہ پودے دکھانا اور سمجھانا بہترین سیکھنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ پودا انسان کو صبر سکھاتا ہے، محنت کا پھل دکھاتا ہے اور یہ احساس دیتا ہے کہ زمین میں زندگی ہے جو ہماری چھوٹی سی توجہ سے بھی پلتی ہے۔

 سردیوں کی سبزیاں اگانا نہ مشکل ہے نہ مہنگا۔ چند گملے، تھوڑی سی مٹی، بیج اور روزانہ چند منٹ کی توجہ اور آپ کا گھر چھوٹا سا کچن گارڈن بن جاتا ہے، جہاں سے نہ صرف سبزیاں بلکہ خوشی اور صحت بھی پیدا ہوتی ہے۔

(عالیہ خان)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گملوں میں آسانی سے سبزیاں اگائیں ۔

    گھر بیٹھےمدافعتی نظام کو متحرک   رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ گھریلو باغبانی نہ صرف ایک   صحت مند سرگرمی ہے بلکہ ہم اپنے   گھر میں ہی آلودگی اور کیمیکل کے اثرات سے پاک سبزیوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اگر شوق ہے تو اس مضمون کے ذریعے موسم گرما میں سبزیوں کی   گھریلو سطح پر بوائی کی معلومات حاصل کریں۔اور حقیقت میں   مدافعتی نظام کو متحرک رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ موسم گرما کی سبزیاں اگانے کے لیے پندرہ فروری سے بہترین وقت شروع ہوجاتا ہے فروری سے مارچ اپریل تک سبزیوں کے بیج بوئے جاسکتے ہیں کچھ علاقوں میں اپریل کے بعد بھی بیج بوسکتے ہیں لیکن سخت گرمی اور لو میں بیجوں سے پودے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔جن گملوں میں سبزی اگائی جائے وہ گملہ بارہ انچ سے بڑا ہو۔   گملہ جتنا بڑا ہوگا پودے کی نشوونما بھی اچھی ہوگی اور سبزی بھی وافر مقدار میں میسر آسکے گی سبزیوں کے لیے موسم گرما میں صبح کی پانچ سے چھ گھنٹے کی دھوپ لازمی ہوتی ہے۔ سبزی کے پودے کو صبح ایک بار پانی لازمی دیں تیز دھوپ اور لو سے بچاؤ کے   لیے گرین نیٹ کا استعمال بھی کرسکتے ہیں پودے کو گ...

معیاری سبزی کے لیے نامیاتی کھاد کی تیاری

زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے مختلف قسم کی کھاد کا  استعمال ضروری ہوتا ہے۔کھاد میں دیگر کار آمد اشیا کے علاوہ نائٹروجن کے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔ جب پودوں کو پانی دیا جاتا ہے تو یہ مرکبات پانی میں حل ہو جاتے ہیں اور پھر پودے کی جڑیں اُن کو چوس کر تنے، شاخوں اور پتوں وغیرہ تک پہنچا دیتی ہیں۔ جانوروں کے فضلے سے جو کھاد خود بخود بن جاتی ہے اُس کی مقدار محدود ہے اور تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ۔ لہٰذا بعض کیمیائی مرکبات مصنوعی کھاد کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں  جن کے ذیلی اثرات انسانی جسم پر مضر ردعمل  پیدا کرسکتے ہیں۔ البتہ نامیاتی کھاد  کی تیاری سے اس خرابی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جس میں قدرتی طور پر  نائٹروجن کے مرکبات حل ہوجاتے ہیں اور پودوں کو غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ گھریلو باغبانی کے لیے  کھاد اپنے گھر میں  خودہی  تیار کریں ہمارے گھروں میں روزانہ ہی مختلف قسم کا کچرا جمع ہوجاتا ہے اس کچرے کی ایک بڑی مقدار کچن سے نکلنے والا  کچرا ہے اگر ہم اس کچرے کو ضائع کرنے کی بجائے اس سے اپنے گھر میں ہی  اپنے پودوں کے لئے کھ...

مثبت سوچ سے زندگی سدھاریں

انسانی ذہن پر سوچ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے ز ندگی کا ہر منظر سوچ سے ہی جنم لیتا ہے۔ سوچ سے انسانی جذبات بنتے ہیں اور اس سے عمل وجود میں آتا ہے سوچ دو طرح کی ہوتی ہے۔ مثبت سوچ اور منفی سوچ یعنی اچھی اور بری سوچ کامیابی اور ناکامی ان ہی دو سوچوں کا نتیجہ ہے۔  خیالات کا ذ ہن میں پیدا ہونا ایک قدرتی رجحان ہے مگر خیال کو سوچ میں تبدیل کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ انسان کے خیالات ہی اس کی شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے کا موجب ہے مثبت خیالات مثبت سوچ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں مثبت سوچ کامیابی کی طرف لے جانے والی وہ سڑک ہے جس پر چلنے والا اپنی منزل کو پالیتا ہے ۔ہماری تمام حرکات  ہماری سوچ کے زیراثرہوتی ہیں یعنی یہ ہماری سوچ ہی ہےجو ہم سے عوامل سرزد کراتی ہے مثبت سوچ دراصل اچھی اور صحیح سوچ ھےایک مثبت سوچ کا حامل انسان یقیناً مثبت خیالات اور تخلیقات کو ہی منظر عام پر لائے گا۔مثبت سوچ اچھے خیالات کی وجہ بنتی ھے جس کے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔زندگی میں کامیابی کا اسی فیصد انحصار  ہمارے رویے پر ہے   اور رویہ  سوچ سے جنم لیتا ہےمثبت سوچ سے مثبت ...