کسی بھی مشکل صورتحال کا سامنا کیسے کریں ؟
سن زو کی کتاب The Art of War یعنی ’’فنِ جنگ‘‘ دنیا کی مشہور ترین حکمتِ عملی کی کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ کتاب ہزاروں سال پہلے قدیم چین میں لکھی گئی تھی۔ اس کے مصنف سن زو ایک فوجی مفکر اور حکمتِ عملی کے ماہر تھے۔ انہوں نے اس کتاب میں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ کسی مشکل صورتِ حال کا سامنا کیسے کیا جائے اپنے وسائل کو کس طرح استعمال کیا جائے مخالف کی طاقت اور کمزوری کو کیسے سمجھا جائے صحیح وقت کا انتخاب کیسے کیا جائے اور کم سے کم نقصان کے ساتھ کامیابی کیسے حاصل کی جائے۔
اگرچہ یہ کتاب جنگ کے بارے میں ہے لیکن اس میں بیان کیے گئے بہت سے اصول عام زندگی میں بھی مفید ہو سکتے ہیں۔ انسان کی زندگی میں کئی قسم کے مقابلے ہوتے ہیں۔ کبھی اسے کاروبار میں مقابلہ کرنا پڑتا ہے کبھی خاندان میں اختلافات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کبھی لوگوں کے درمیان اپنی بات سمجھانی ہوتی ہے اور کبھی اپنے ہی غصے، خوف، سستی اور کمزوریوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ اس کتاب کو صرف دوسروں کو شکست دینے کی کتاب سمجھنے کے بجائے اپنی سوچ، فیصلوں اور طرزِ عمل کو بہتر بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر پڑھنا زیادہ فائدہ مند ہے۔
اس کتاب کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ کامیابی صرف طاقت سے حاصل نہیں ہوتی۔ طاقت کے ساتھ علم، تیاری، صبر، مشاہدہ، وقت کی پہچان اور حالات کو سمجھنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔ ایک شخص جسمانی طور پر بہت طاقتور ہو سکتا ہے لیکن اگر وہ جلد بازی کرتا ہے اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھتا اور حالات کو سمجھے بغیر فیصلے کرتا ہے تو وہ اپنی طاقت کے باوجود ناکام ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس ایک سمجھ دار انسان محدود وسائل کے باوجود بہتر نتائج حاصل کر سکتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اسے اپنی توانائی کہاں استعمال کرنی ہے اور کہاں رک جانا ہے۔
کسی بھی بڑے کام کو شروع کرنے سے پہلے اس کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ اکثر لوگ کسی کام کی خواہش تو رکھتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ اس کے لیے ان کے پاس وقت، وسائل، علم اور مناسب حالات موجود بھی ہیں یا نہیں۔ وہ جذبات میں آکر فیصلہ کر لیتے ہیں اور بعد میں مشکلات سامنے آنے پر پریشان ہوتے ہیں۔ سن زو کی حکمتِ عملی اس کے برعکس ہے۔ پہلے حالات کا جائزہ لیا جائے پھر ممکنہ مشکلات کو سمجھا جائے اس کے بعد منصوبہ بنایا جائے اور آخر میں عمل شروع کیا جائے۔
مثلاً آپ اپنے گھر کے لیے کوئی بڑا کام کرنا چاہتے ہیں اگر آپ بغیر منصوبہ بندی کے کام شروع کر دیں تو ممکن ہے درمیان میں پیسوں کی کمی ہو جائے ضروری سامان دستیاب نہ ہو یا ایک کام مکمل ہونے سے پہلے دوسرا کام شروع ہو جائے لیکن اگر آپ پہلے تمام کاموں کی فہرست بنائیں ضروری اخراجات کا اندازہ لگائیں اہم کاموں کو ترجیح دیں اور ان کی ترتیب مقرر کریں تو مشکلات کم ہو سکتی ہیں یہ ہی اصول باغبانی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ پودا لگانے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس جگہ دھوپ کتنی آتی ہے، مٹی کیسی ہے، پانی کی ضرورت کتنی ہوگی اور پودا کتنا بڑا ہو سکتا ہے۔ صرف پودا خرید لینا کامیابی کی ضمانت نہیں اس کی ضروریات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
کامیابی کے لیے اپنے آپ کو سمجھنا بہت اہم ہے۔ اگر انسان اپنی صلاحیتوں اور کمزوریوں سے واقف نہ ہو تو وہ اکثر ایسے کاموں میں اپنی طاقت ضائع کر دیتا ہے جن کے لیے وہ تیار نہیں ہوتا۔ اپنی کمزوری کو پہچاننا کمزوری نہیں بلکہ اسے بہتر بنانے کا پہلا قدم ہے اگر آپ جانتے ہیں کہ کسی نئے شخص سے بات کرتے وقت آپ گھبرا جاتے ہیں تو اس بات کو چھپانے یا خود کو برا سمجھنے کے بجائے گفتگو کی مشق کر سکتے ہیں۔ اگر آپ جانتے ہیں کہ غصے میں آپ سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں تو آپ اپنے ردِعمل کو بہتر بنانے پر کام کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو معلوم ہے کہ آپ کسی کام کو شروع تو کر لیتے ہیں لیکن اسے مکمل کرنے میں مشکل ہوتی ہے تو آپ چھوٹے اہداف بنا کر مستقل مزاجی پیدا کر سکتے ہیں۔
اپنے آپ کو جاننے کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسان اپنی اچھی عادتوں کو پہچانے بعض لوگ مشکل وقت میں بھی پرسکون رہتے ہیں بعض اچھے منصوبہ ساز ہوتے ہیں بعض لوگوں کو سمجھنے میں اچھے ہوتے ہیں اور بعض میں محنت کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے جب آپ کو اپنی خوبیوں کا علم ہو تو آپ انہیں صحیح جگہ استعمال کر سکتےہیں۔ اگر کوئی شخص لوگوں کو سمجھنے میں اچھا ہے تو وہ اختلافات حل کرنے میں اپنی یہ خوبی استعمال کر سکتا ہے اگر کوئی شخص منظم ہے تو وہ گھر، کاروبار یا کسی منصوبے کو بہتر طریقے سے چلا سکتا ہے۔
کتاب کا ایک نہایت اہم اصول یہ ہے کہ اپنے مخالف یا مسئلے کی نوعیت کو سمجھے بغیر قدم نہیں اٹھانا چاہیے ہر مشکل کا حل ایک جیسا نہیں ہوتا بعض مسائل گفتگو سے حل ہوتے ہیں بعض کے لیے وقت درکار ہوتا ہے بعض میں کسی ماہر کی مدد ضروری ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں مسئلے سے دور رہنا زیادہ مناسب ہوتا ہے اگر انسان ہر مسئلے کا ایک ہی طریقے سے مقابلہ کرے تو وہ اکثر ناکام ہو سکتا ہے۔
مثلاً گھر میں کسی فرد کا مزاج سخت ہے۔ اگر آپ بھی اسی سختی سے جواب دیں گے تو اختلاف بڑھ سکتا ہے۔ اگر آپ مناسب وقت پر پرسکون انداز میں بات کریں مسئلے کو واضح کریں اور اپنی بات احترام کے ساتھ پیش کریں تو ممکن ہے گفتگو بہتر ہو جائے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مرتبہ خاموش رہنا یا اپنی بات چھوڑ دینا درست ہے بعض اوقات اپنی حدود واضح کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اصل حکمت یہ ہے کہ آپ جانیں کہ کس وقت بات کرنی ہے کس انداز میں کرنی ہے اور کب گفتگو روک دینا بہتر ہے۔
سن زو کی کتاب کا سب سے مشہور تصور یہ ہے کہ بہترین کامیابی وہ ہے جس میں غیرضروری جنگ کی ضرورت ہی نہ پڑے عام زندگی میں اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آپ ہر شخص کو غلط ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں ہر اختلاف کو اپنی عزت کا مسئلہ نہ بنائیں اور ہر تنقید کا جواب دینا ضروری نہ سمجھیں بعض لوگ صرف بحث کرنا چاہتے ہیں اگر آپ ہر مرتبہ ان کے ساتھ بحث میں شامل ہو جائیں تو آپ کا وقت اور ذہنی سکون ضائع ہو سکتا ہے۔ آپ کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ کون سا معاملہ واقعی اہم ہے اور کون سا نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔
فرض کریں کوئی شخص آپ کی کسی بات سے اتفاق نہیں کرتا۔ آپ اسے اپنی بات سمجھا سکتی ہیں، لیکن اگر وہ سننے کے لیے تیار ہی نہیں تو بار بار سمجھانے سے شاید کوئی فائدہ نہ ہو۔ آپ اختلاف کے باوجود اپنا احترام برقرار رکھ سکتے ہیں۔ ہر اختلاف میں جیتنا ضروری نہیں اور کسی کے اختلاف کرنے سے آپ کی قدر کم نہیں ہو جاتی کبھی کبھی بہترین فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ اپنی بات واضح کر کے معاملہ ختم کر دیا جائے۔اس اصول کو بچوں کی تربیت میں بھی احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر بچہ کسی بات پر ضد کرتا ہے تو ہر مرتبہ غصہ کرنے یا سختی بڑھانے کے بجائے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اس کا رویہ کیوں پیدا ہو رہا ہے۔ کیا اسے بات سمجھ نہیں آئی؟ کیا اسے توجہ چاہیے؟ کیا اسے کوئی کام مشکل لگ رہا ہے؟ یا کیا گھر کے اصول واضح نہیں ہیں؟
جب وجہ سمجھ میں آ جائے تو مناسب حل تلاش کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ بچے کی ہر خواہش پوری کرنا ضروری نہیں لیکن اسے واضح اصول، مناسب وضاحت اور محبت دینا مفید ہے۔
جنگ میں فوجیوں کی طاقت، خوراک، وقت اور دولت خرچ ہوتی ہے اسی طرح عام زندگی میں مسلسل جھگڑے، رنجشیں اور بے مقصد مقابلے انسان کی توانائی ختم کر سکتے ہیں۔ بعض اوقات لوگ برسوں ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ وہ پرانی باتیں یاد رکھتے ہیں ہر نئی گفتگو میں ماضی کے اختلافات لے آتے ہیں اور یوں ایک چھوٹا مسئلہ مسلسل بڑا ہوتا جاتا ہے۔
اگر انسان اس بات پر غور کرے کہ کسی تنازعے پر وہ کتنا وقت اور ذہنی سکون خرچ کر رہا ہے تو اسے اندازہ ہو سکتا ہے کہ بعض معاملات کو چھوڑ دینا زیادہ بہتر ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اہم مسائل سے فرار اختیار کیا جائے۔ اگر کسی معاملے میں آپ کے حقوق، سلامتی یا ضروری ذمہ داریوں کا سوال ہو تو اسے حل کرنا ضروری ہے۔ لیکن معمولی باتوں کو اپنی پوری زندگی پر حاوی کر لینا دانش مندی نہیں۔
اس کتاب میں تیاری کی بہت اہمیت ہے۔ جب کوئی شخص اچانک مشکل میں پھنس جاتا ہے تو اسے فوری فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ اگر اس نے پہلے سے ممکنہ مشکلات پر غور کیا ہو تو وہ زیادہ بہتر طریقے سے صورتِ حال سنبھال سکتا ہے۔صحیح وقت کا انتخاب بھی بہت اہم ہے۔ ہر بات کہنے کا ایک مناسب وقت ہوتا ہے اور ہر کام کے لیے حالات یکساں نہیں ہوتے۔ بعض لوگ اچھا مشورہ بھی ایسے وقت دیتے ہیں جب سامنے والا اسے سننے کے لیے تیار نہیں ہوتا اس صورت میں مشورہ فائدہ دینے کے بجائے اختلاف پیدا کر سکتا ہے۔
مثلاً اگر گھر کا کوئی فرد تھکا ہوا ہے یا پہلے سے پریشان ہے تو اسی وقت کسی بڑے مسئلے پر بحث شروع کرنے کے بجائے مناسب وقت کا انتظار کرنا بہتر ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر آپ کسی شخص سے مدد مانگنا چاہتے ہیں تو یہ دیکھنا مفید ہے کہ وہ اس وقت مصروف تو نہیں لیکن صحیح وقت کا انتظار کرتے رہنا اور کبھی بات ہی نہ کرنا بھی درست نہیں حکمت کا مطلب یہ ہے کہ موقع کو پہچانا جائے اور مناسب وقت پر عملی قدم اٹھایا جائے۔
کتاب میں حالات کے مطابق حکمتِ عملی بدلنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ بعض لوگ ایک طریقے کو اپنا لیتے ہیں اور پھر حالات بدل جانے کے باوجود اسی پر قائم رہتے ہیں۔ اگر انہیں کامیابی نہیں ملتی تو وہ اپنی کوشش مزید بڑھا دیتے ہیں، لیکن یہ نہیں سوچتے کہ شاید طریقہ ہی درست نہیں۔ مقصد اہم ہے، مگر مقصد تک پہنچنے کا طریقہ حالات کے مطابق تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
انسانی تعلقات میں بھی یہی بات درست ہے۔ ایک شخص کے ساتھ کھل کر گفتگو کرنا مناسب ہو سکتا ہے جبکہ دوسرا شخص زیادہ وقت لے سکتا ہے کسی کو فوری جواب پسند ہوتا ہے جبکہ کسی کو سوچنے کے لیے وقت چاہیے ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دوسروں کو خوش کرنے کے لیے اپنی شخصیت بدلتے رہیں بلکہ یہ ہے کہ آپ اپنے مقصد اور اپنی حدود کو برقرار رکھتے ہوئے بات کرنے کا بہتر طریقہ اختیار کریں۔
کتاب میں معلومات اور مشاہدے کو بھی بنیادی اہمیت دی گئی ہے کسی صورتِ حال کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے حقیقت معلوم کرنا ضروری ہے۔ اگر آپ کے پاس نامکمل معلومات ہوں تو آپ کا فیصلہ غلط ہو سکتا ہے۔ اکثر انسان اپنی توقعات اور خوف کی بنیاد پر دوسروں کے ارادوں کے بارے میں نتیجہ نکال لیتا ہے اگر کوئی شخص سلام کا جواب نہ دے تو ہم سوچ سکتے ہیں کہ وہ ہمیں پسند نہیں کرتا حالانکہ ممکن ہے اس نے سلام سنا ہی نہ ہو یا وہ کسی پریشانی میں مبتلا ہو۔
اس لیے مشاہدہ کرنا چاہیے سوال پوچھنے چاہییں اور جہاں ضرورت ہو حقیقت کی تصدیق کرنی چاہیے صرف اندازے کی بنیاد پر کسی کے بارے میں فیصلہ کرنا مناسب نہیں یہ ہی اصول کاروبار میں بھی اہم ہے۔ اگر آپ کوئی چیز فروخت کرنا چاہتے ہیں تو صرف اپنی پسند کی بنیاد پر یہ فرض نہ کریں کہ لوگ اسے خریدیں گے پہلے یہ معلوم کریں کہ خریداروں کو کیا چاہیے ان کا بجٹ کیا ہے اور وہ کس چیز کو ترجیح دیتے ہیں۔ معلومات کی بنیاد پر فیصلہ کرنے سے غلطی کا امکان کم ہو سکتا ہے۔
مصنف قیادت کے بارے میں بھی بات کرتے ہیں اچھا رہنما صرف حکم دینے والا شخص نہیں ہوتا بلکہ اسے اپنی ذمہ داریوں، اپنے لوگوں کی صلاحیتوں اور حالات کو سمجھنا ہوتا ہے۔ اسے نظم و ضبط قائم رکھنا چاہیے اور فیصلے سوچ سمجھ کر کرنے چاہییں۔ اگر رہنما ہر وقت غصے میں رہے اپنی غلطی قبول نہ کرے یا دوسروں کی بات نہ سنے تو اس کی قیادت کمزور ہو سکتی ہے۔
گھر کے ماحول میں بھی قیادت کو حکم چلانے کے بجائے ذمہ داری نبھانے کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر گھر کے افراد کو معلوم ہو کہ کون سا کام کس نے کرنا ہے ایک دوسرے کی محنت کی قدر کی جائے اور مسائل پر احترام سے بات ہو تو گھر کا نظام بہتر ہو سکتا ہے۔ محبت اور نظم و ضبط ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں۔ انسان نرمی کے ساتھ بھی واضح اصول قائم رکھ سکتا ہے۔
اس کتاب کا ایک اور اہم سبق جذبات پر قابو پانا ہے۔ غصہ، خوف، بے صبری اور غرور بعض اوقات انسان کو ایسے فیصلوں کی طرف لے جاتے ہیں جن کے نتائج بعد میں نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ جب کسی کی بات بری لگتی ہے تو فوراً جواب دینے کا دل کرتا ہے۔ جب کوئی کام مشکل ہوتا ہے تو انسان جلدی ہار مان سکتا ہے۔ جب کوئی شخص کامیاب ہوتا ہے تو حسد یا مقابلے کا جذبہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ان جذبات کا پیدا ہونا انسانی فطرت کا حصہ ہے لیکن ہر جذبے کے مطابق عمل کرنا ضروری نہیں۔
جذبات کو قابو کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں دبا دیا جائے یا اپنے دکھ کو اہمیت نہ دی جائے۔ آپ کو تکلیف ہو تو اسے تسلیم کرنا چاہیے اور اگر کوئی مسئلہ بار بار پیش آ رہا ہے تو اس کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ مقصد اپنے جذبات کو سمجھ کر ان کے مطابق سوچ سمجھ کر عمل کرنا ہے۔
اگر آپ کے پاس کسی کام کے لیے محدود وقت ہے تو آپ کو ترجیحات مقرر کرنی ہوں گی۔ اگر کسی کام کے لیے علم درکار ہے تو سیکھنا ہوگا۔ اگر کوئی صورتِ حال آپ کے اختیار میں نہیں تو اپنی توانائی ان چیزوں پر لگانا بہتر ہے جنہیں آپ بدل سکتے ہیں۔
روزمرہ زندگی میں جب بھی آپ کو کوئی مشکل فیصلہ کرنا ہو تو اپنے آپ سے پانچ سوال کریں اصل مسئلہ کیا ہے؟ مجھے حقیقت میں کیا حاصل کرنا ہے؟ میرے پاس کون سے وسائل موجود ہیں؟ اس کام میں کیا مشکلات آ سکتی ہیں؟ اور کیا کوئی ایسا طریقہ ہے جس سے کم نقصان اور کم تنازعے کے ساتھ بہتر نتیجہ حاصل ہو سکے؟
ان سوالات کے جواب ہمیشہ مکمل یقین کے ساتھ نہیں ملیں گے لیکن یہ آپ کو جلد بازی سے بچا سکتے ہیں۔ آہستہ آہستہ آپ یہ سیکھ سکتی ہیں کہ ہر مسئلے کا جواب فوراً دینا ضروری نہیں ہر اختلاف کو لڑائی بنانا ضروری نہیں اور ہر مشکل کا حل صرف زیادہ زور لگانا نہیں ہوتا۔
کامیاب انسان وہ نہیں جو ہر وقت مقابلہ کرتا رہے بلکہ وہ ہے جو جانتا ہو کہ کب کوشش کرنی ہے، کب سیکھنا ہے، کب اپنا طریقہ بدلنا ہے اور کب کسی غیرضروری بحث کو چھوڑ کر اپنی زندگی کے زیادہ اہم مقصد کی طرف بڑھ جانا ہے۔
(عالیہ خان)


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں