نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

پودوں کے عام مسائل ۔1.

 آئیے باغبانی سیکھیے ۔(کلاس1)

پودوں کے عام مسائل 

1-پودوں کے پتوں کا پیلا ہونا 

پودوں کے پتوں کا پیلا ہونا گھریلو باغبانی میں پیش آنے والے عام مسائل میں سے ایک ہے۔ باغبان اکثر یہ دیکھ کر پریشان ہوجاتے ہیں کہ ان کا صحت مند پودا اچانک پیلا پڑنے لگا ہے کبھی صرف نچلے پتے پیلے ہوتے ہیں کبھی نئی کونپلیں زرد ہوجاتی ہیں اور کبھی پورا پودا ہی اپنی ہریالی کھونے لگتا ہے۔



سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پتوں کا پیلا ہونا بذاتِ خود کوئی ایک بیماری نہیں، بلکہ ایک علامت ہے۔ اس کی اصل وجہ معلوم کیے بغیر کھاد، اسپرے یا کوئی گھریلو نسخہ استعمال کرنا بعض اوقات مسئلے کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

پتوں کا رنگ  سبز کیوں ہوتاہے؟

پتوں میں کلوروفل (Chlorophyll) نامی سبز مادہ موجود ہوتا ہے۔ یہ پودے کو سورج کی روشنی استعمال کرکے اپنی خوراک بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اس عمل کو Photosynthesis کہتے ہیں۔

جب پودے میں کلوروفل کی مقدار کم ہونے لگتی ہے تو پتے پیلے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ ایسا پانی کی زیادتی، غذائی اجزا کی کمی، جڑوں کی خرابی، نامناسب روشنی یا بعض بیماریوں کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔

پتوں کے پیلے ہونے کی وجوہات  1-ضرورت سے زیادہ پانی دینا

گھریلو باغبانی میں یہ ایک عام وجہ ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ پودے کو جتنا زیادہ پانی دیا جائے گا وہ اتنا ہی تیزی سے بڑھے گا لیکن حقیقت میں پودوں کی جڑوں کو پانی کے ساتھ آکسیجن کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

جب گملے کی مٹی مسلسل پانی سے بھری رہتی ہے تو مٹی میں ہوا کے لیے موجود جگہیں پانی سے بھر جاتی ہیں۔ اس سے جڑوں کو آکسیجن کم ملتی ہے وہ کمزور ہونے لگتی ہیں اور پانی و غذائی اجزا جذب کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

 علامات 

پتے پیلے پڑنے لگتے ہیں، خصوصاً نچلے پتے۔

 مٹی کئی دن تک گیلی رہتی ہے۔

پودا مرجھایا ہوا دکھائی دیتا ہے، حالانکہ مٹی میں پانی موجود ہوتا ہے۔

 جڑیں بھوری یا کالی، نرم اور بعض اوقات بدبودار ہوجاتی ہیں۔

 پودے کی نئی بڑھوتری رک سکتی ہے۔

ارگنک علاج 

اس کا آرگینک سدباب یہ ہے کہ پہلے پانی دینے کا معمول درست کریں۔ گملے کی مٹی کو انگلی سے چیک کریں اور پودے کی ضرورت کے مطابق پانی دیں۔ ہر پودے کو روزانہ پانی دینا ضروری نہیں۔ گملے کے نیچے نکاسی کے سوراخ لازمی ہونے چاہییں اور پلیٹ میں جمع پانی کو خالی کردینا چاہیے۔



اگر جڑیں صحت مند ہوں تو عموماً پانی کا معمول درست کرنے سے پودا بہتر ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر جڑیں سڑ چکی ہوں تو انہیں دیکھ کر متاثرہ حصے صاف قینچی سے ہٹانا اور پودے کو مناسب نکاسی والی تازہ مٹی میں منتقل کرنا پڑسکتا ہے۔

پیلے پتے دوبارہ سبز ہوں گے یا نہیں یہ نقصان کی شدت پر منحصر ہے۔ بعض پتے مکمل طور پر پیلے ہوجانے کے بعد سبز نہیں ہوتے لیکن نئی بڑھوتری صحت مند ہوسکتی ہے۔

#gardeningwithaliakhan 

(عالیہ خان)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گملوں میں آسانی سے سبزیاں اگائیں ۔

    گھر بیٹھےمدافعتی نظام کو متحرک   رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ گھریلو باغبانی نہ صرف ایک   صحت مند سرگرمی ہے بلکہ ہم اپنے   گھر میں ہی آلودگی اور کیمیکل کے اثرات سے پاک سبزیوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اگر شوق ہے تو اس مضمون کے ذریعے موسم گرما میں سبزیوں کی   گھریلو سطح پر بوائی کی معلومات حاصل کریں۔اور حقیقت میں   مدافعتی نظام کو متحرک رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ موسم گرما کی سبزیاں اگانے کے لیے پندرہ فروری سے بہترین وقت شروع ہوجاتا ہے فروری سے مارچ اپریل تک سبزیوں کے بیج بوئے جاسکتے ہیں کچھ علاقوں میں اپریل کے بعد بھی بیج بوسکتے ہیں لیکن سخت گرمی اور لو میں بیجوں سے پودے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔جن گملوں میں سبزی اگائی جائے وہ گملہ بارہ انچ سے بڑا ہو۔   گملہ جتنا بڑا ہوگا پودے کی نشوونما بھی اچھی ہوگی اور سبزی بھی وافر مقدار میں میسر آسکے گی سبزیوں کے لیے موسم گرما میں صبح کی پانچ سے چھ گھنٹے کی دھوپ لازمی ہوتی ہے۔ سبزی کے پودے کو صبح ایک بار پانی لازمی دیں تیز دھوپ اور لو سے بچاؤ کے   لیے گرین نیٹ کا استعمال بھی کرسکتے ہیں پودے کو گ...

معیاری سبزی کے لیے نامیاتی کھاد کی تیاری

زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے مختلف قسم کی کھاد کا  استعمال ضروری ہوتا ہے۔کھاد میں دیگر کار آمد اشیا کے علاوہ نائٹروجن کے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔ جب پودوں کو پانی دیا جاتا ہے تو یہ مرکبات پانی میں حل ہو جاتے ہیں اور پھر پودے کی جڑیں اُن کو چوس کر تنے، شاخوں اور پتوں وغیرہ تک پہنچا دیتی ہیں۔ جانوروں کے فضلے سے جو کھاد خود بخود بن جاتی ہے اُس کی مقدار محدود ہے اور تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ۔ لہٰذا بعض کیمیائی مرکبات مصنوعی کھاد کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں  جن کے ذیلی اثرات انسانی جسم پر مضر ردعمل  پیدا کرسکتے ہیں۔ البتہ نامیاتی کھاد  کی تیاری سے اس خرابی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جس میں قدرتی طور پر  نائٹروجن کے مرکبات حل ہوجاتے ہیں اور پودوں کو غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ گھریلو باغبانی کے لیے  کھاد اپنے گھر میں  خودہی  تیار کریں ہمارے گھروں میں روزانہ ہی مختلف قسم کا کچرا جمع ہوجاتا ہے اس کچرے کی ایک بڑی مقدار کچن سے نکلنے والا  کچرا ہے اگر ہم اس کچرے کو ضائع کرنے کی بجائے اس سے اپنے گھر میں ہی  اپنے پودوں کے لئے کھ...

مثبت سوچ سے زندگی سدھاریں

انسانی ذہن پر سوچ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے ز ندگی کا ہر منظر سوچ سے ہی جنم لیتا ہے۔ سوچ سے انسانی جذبات بنتے ہیں اور اس سے عمل وجود میں آتا ہے سوچ دو طرح کی ہوتی ہے۔ مثبت سوچ اور منفی سوچ یعنی اچھی اور بری سوچ کامیابی اور ناکامی ان ہی دو سوچوں کا نتیجہ ہے۔  خیالات کا ذ ہن میں پیدا ہونا ایک قدرتی رجحان ہے مگر خیال کو سوچ میں تبدیل کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ انسان کے خیالات ہی اس کی شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے کا موجب ہے مثبت خیالات مثبت سوچ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں مثبت سوچ کامیابی کی طرف لے جانے والی وہ سڑک ہے جس پر چلنے والا اپنی منزل کو پالیتا ہے ۔ہماری تمام حرکات  ہماری سوچ کے زیراثرہوتی ہیں یعنی یہ ہماری سوچ ہی ہےجو ہم سے عوامل سرزد کراتی ہے مثبت سوچ دراصل اچھی اور صحیح سوچ ھےایک مثبت سوچ کا حامل انسان یقیناً مثبت خیالات اور تخلیقات کو ہی منظر عام پر لائے گا۔مثبت سوچ اچھے خیالات کی وجہ بنتی ھے جس کے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔زندگی میں کامیابی کا اسی فیصد انحصار  ہمارے رویے پر ہے   اور رویہ  سوچ سے جنم لیتا ہےمثبت سوچ سے مثبت ...