نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کنٹینر گارڈننگ کیا ہے ؟

 

کنٹینر گارڈننگ کیا ہے؟
کنٹینر گارڈننگ کا مطلب ہے پودوں کوزمین میں لگانے کے بجائے گملوں، ٹب، ڈبوں یا کسی بھی برتن میں اگانا  یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جن کے پاس باغ یا کھلی زمین نہیں ہے جیسے فلیٹ، اپارٹمنٹ، یا چھوٹی بالکنی میں بھی باغیچہ بنا یا جا سکتا ہے وہاں  آسانی سے دیکھ بھال بھی کی جا سکتی ہے آرائشی اور فنکارانہ انداز سے جگہ کو خوبصورت بھی  بنا سکتے ہیں۔

     یہ کس کے لیے بہترین ہے؟
فلیٹ میں رہنے والےمصروف لوگ جو کم وقت میں باغبانی چاہتے ہیں۔
بزرگ افراد جن کے لیے جھک کر باغبانی مشکل ہونئے سیکھنے والے جو آسان آغاز چاہتے ہیں۔
گملوں میں کون سے پودے اگائے جاسکتے ہیں؟
گملوں میں تمام اقسام کی سبزیاں پھولوں کے پودے ،ہربل پودے ،چھوٹے قد کے بونسائی پودے،انڈور پودے  لگائے جاسکتے ہیں۔
کنٹینر گارڈننگ میں کامیابی کا پہلا قدم ہے صحیح گملے کا انتخاب ہر پودے کی جڑوں کی گہرائی، نمی کی ضرورت، اور بڑھنے کی رفتار مختلف ہوتی ہے اس لیے کنٹینر کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا جانا چاہیے۔
کنٹینر کے نیچے سوراخ ہونا بہت ضروری ہے تاکہ اضافی پانی باہر نکل جائے اور جڑیں گلنے سے بچ سکیں۔
کنٹینر مضبوط ہونا چاہیے تاکہ جب مٹی، پانی اور پودا ہو تو وزن برداشت کر سکے۔
چھوٹے پودے چھوٹے گملوں  میں بڑے پودے بڑے اور گہرے گملےمیں بہتر نشوونما پاتے ہیں۔
مٹی، پلاسٹک، لکڑی، دھات، کنکریٹ مختلف اقسام کے گملوں کا مختلف پودوں میں الگ فائدہ اور نقصان ہے۔

سائز کا انتخاب کیسے کریں؟
چھوٹے پودے (جڑی بوٹیاں، چھوٹے پھول) 6 سے 10 انچ گہرائی۔
درمیانے پودے (ٹماٹر، بینگن) 12 سے 18 انچ گہرائی۔
بڑے پودے (چھوٹے درخت یا جھاڑیاں) 20 انچ یا اس سے زیادہ گہرائی۔
کنٹینر یا گملے کی تیاری
گملے کواچھی طرح دھو کر صاف کریں تاکہ کیڑے، فنگس نہ ہوں۔
نکاسی کے سوراخ چیک کریں اگر نہ ہو تو خود ڈرل سے سوراخ کریں۔
نیچے پتھر ،ٹھکری یا بجری رکھیں یہ زائد پانی کے بہاؤ کے لیے ہے۔
کنٹینر گارڈننگ میں مٹی، کھاد اور پانی تینوں کا انتظام زمین میں باغبانی سے بہت مختلف ہوتا ہے۔ گملے میں جگہ محدود ہوتی ہے اس لیے ہر چیز متوازن ہونی چاہیے تاکہ پودے صحت مند رہیں۔
باغ کی عام مٹی گملوں کے لیے مناسب نہیں۔ یہ بہت بھاری، سخت اور پا نی روکنے والی ہوتی ہے ۔
گملے میں مٹی زمین کے مقابلے میں کم ہوتی ہے اس لیے پودے جلد غذائیت ختم کر دیتے ہیں۔ انہیں مسلسل خوراک (fertilizer) کی ضرورت ہوتی ہے۔
مٹی کے ساتھ آرگینک کھاد شامل کرکے پودے لگائے جائیں ہفتہ میں ایک بار لکویڈ فرٹیلائزرز دیں ۔
پانی دینا — کب، کیسے، کتنا؟
گملے میں پودے زمین کے مقابلے میں جلد سوکھتے  دھوپ میں رکھے پودوں کو روزانہ پانی دیں موسم کے مطابق پودوں کو پانی دیا جائے پانی دینے کا وقت صبح کا وقت بہترین ہے جب پانی دیں تو تب تک دیں جب تک نیچے سے تھوڑا پانی نکل نہ جائے۔
اگر جگہ محدود ہے (جیسے بالکونی) تو چھوٹے یا عمودی طور پر بڑھنے والے پودے بہتر ہیں ۔
کنٹینر گارڈننگ میں اگرچہ بیماریوں اور کیڑوں کا خطرہ زمین کی باغبانی سے کم ہوتا ہے لیکن پھر بھی کچھ عام مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اچھی نگرانی، صفائی، اور قدرتی طریقے سے پودوں کو بچایا جا سکتا ہے۔   
(عالیہ خان )


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گملوں میں آسانی سے سبزیاں اگائیں ۔

    گھر بیٹھےمدافعتی نظام کو متحرک   رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ گھریلو باغبانی نہ صرف ایک   صحت مند سرگرمی ہے بلکہ ہم اپنے   گھر میں ہی آلودگی اور کیمیکل کے اثرات سے پاک سبزیوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اگر شوق ہے تو اس مضمون کے ذریعے موسم گرما میں سبزیوں کی   گھریلو سطح پر بوائی کی معلومات حاصل کریں۔اور حقیقت میں   مدافعتی نظام کو متحرک رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ موسم گرما کی سبزیاں اگانے کے لیے پندرہ فروری سے بہترین وقت شروع ہوجاتا ہے فروری سے مارچ اپریل تک سبزیوں کے بیج بوئے جاسکتے ہیں کچھ علاقوں میں اپریل کے بعد بھی بیج بوسکتے ہیں لیکن سخت گرمی اور لو میں بیجوں سے پودے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔جن گملوں میں سبزی اگائی جائے وہ گملہ بارہ انچ سے بڑا ہو۔   گملہ جتنا بڑا ہوگا پودے کی نشوونما بھی اچھی ہوگی اور سبزی بھی وافر مقدار میں میسر آسکے گی سبزیوں کے لیے موسم گرما میں صبح کی پانچ سے چھ گھنٹے کی دھوپ لازمی ہوتی ہے۔ سبزی کے پودے کو صبح ایک بار پانی لازمی دیں تیز دھوپ اور لو سے بچاؤ کے   لیے گرین نیٹ کا استعمال بھی کرسکتے ہیں پودے کو گ...

معیاری سبزی کے لیے نامیاتی کھاد کی تیاری

زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے مختلف قسم کی کھاد کا  استعمال ضروری ہوتا ہے۔کھاد میں دیگر کار آمد اشیا کے علاوہ نائٹروجن کے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔ جب پودوں کو پانی دیا جاتا ہے تو یہ مرکبات پانی میں حل ہو جاتے ہیں اور پھر پودے کی جڑیں اُن کو چوس کر تنے، شاخوں اور پتوں وغیرہ تک پہنچا دیتی ہیں۔ جانوروں کے فضلے سے جو کھاد خود بخود بن جاتی ہے اُس کی مقدار محدود ہے اور تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ۔ لہٰذا بعض کیمیائی مرکبات مصنوعی کھاد کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں  جن کے ذیلی اثرات انسانی جسم پر مضر ردعمل  پیدا کرسکتے ہیں۔ البتہ نامیاتی کھاد  کی تیاری سے اس خرابی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جس میں قدرتی طور پر  نائٹروجن کے مرکبات حل ہوجاتے ہیں اور پودوں کو غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ گھریلو باغبانی کے لیے  کھاد اپنے گھر میں  خودہی  تیار کریں ہمارے گھروں میں روزانہ ہی مختلف قسم کا کچرا جمع ہوجاتا ہے اس کچرے کی ایک بڑی مقدار کچن سے نکلنے والا  کچرا ہے اگر ہم اس کچرے کو ضائع کرنے کی بجائے اس سے اپنے گھر میں ہی  اپنے پودوں کے لئے کھ...

مثبت سوچ سے زندگی سدھاریں

انسانی ذہن پر سوچ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے ز ندگی کا ہر منظر سوچ سے ہی جنم لیتا ہے۔ سوچ سے انسانی جذبات بنتے ہیں اور اس سے عمل وجود میں آتا ہے سوچ دو طرح کی ہوتی ہے۔ مثبت سوچ اور منفی سوچ یعنی اچھی اور بری سوچ کامیابی اور ناکامی ان ہی دو سوچوں کا نتیجہ ہے۔  خیالات کا ذ ہن میں پیدا ہونا ایک قدرتی رجحان ہے مگر خیال کو سوچ میں تبدیل کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ انسان کے خیالات ہی اس کی شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے کا موجب ہے مثبت خیالات مثبت سوچ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں مثبت سوچ کامیابی کی طرف لے جانے والی وہ سڑک ہے جس پر چلنے والا اپنی منزل کو پالیتا ہے ۔ہماری تمام حرکات  ہماری سوچ کے زیراثرہوتی ہیں یعنی یہ ہماری سوچ ہی ہےجو ہم سے عوامل سرزد کراتی ہے مثبت سوچ دراصل اچھی اور صحیح سوچ ھےایک مثبت سوچ کا حامل انسان یقیناً مثبت خیالات اور تخلیقات کو ہی منظر عام پر لائے گا۔مثبت سوچ اچھے خیالات کی وجہ بنتی ھے جس کے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔زندگی میں کامیابی کا اسی فیصد انحصار  ہمارے رویے پر ہے   اور رویہ  سوچ سے جنم لیتا ہےمثبت سوچ سے مثبت ...