نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

گلوکوز اسپائکس اور انسولین

 جدید بیماریوں کی اصل  کہانی 

انسانی جسم ایک نہایت پیچیدہ مگر حیرت انگیز نظام ہے جس میں بظاہر معمولی نظر آنے والے عناصر درحقیقت ہماری پوری زندگی کو متاثر کر رہے ہوتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک بنیادی عنصر گلوکوز ہے جسے ہم عام طور پر صرف “خون میں شکر” سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گلوکوز محض ایک غذائی جزو نہیں بلکہ جسم کی توانائی، دماغی کارکردگی، جذباتی کیفیت، بھوک، نیند اور طویل مدتی صحت کا مرکزی ستون ہے۔ جدید سائنسی تحقیقات، خصوصاً میٹابولزم اور اینڈوکرائنولوجی کے شعبوں میں ہونے والی ریسرچ اس بات کو واضح کرتی ہے کہ گلوکوز کا توازن برقرار رکھنا نہ صرف بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے بلکہ ایک متوازن اور صحت مند زندگی کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔



جب ہم غذا استعمال کرتے ہیں خاص طور پر وہ غذا جس میں کاربوہائیڈریٹس شامل ہوں تو ہمارا نظامِ ہاضمہ انہیں توڑ کر سادہ اجزاء میں تبدیل کرتا ہے جن میں سب سے اہم گلوکوز ہے۔ یہ گلوکوز خون میں شامل ہو کر جسم کے مختلف خلیوں تک پہنچتا ہے، جہاں اسے توانائی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس پورے عمل کو ایک نہایت منظم ہارمونی نظام کنٹرول کرتا ہے جس میں انسولین مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ لبلبہ سے خارج ہونے والا یہ ہارمون خلیوں کو گلوکوز جذب کرنے میں مدد دیتا ہے اس طرح خون میں گلوکوز کی سطح کو متوازن رکھا جاتا ہے۔

سائنسی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب گلوکوز کی مقدار اچانک اور تیزی سے بڑھ جاتی ہے، جسے “گلوکوز سپائک” کہا جاتا ہے۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب ہم زیادہ مقدار میں ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس یا میٹھے مشروبات استعمال کرتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ ہائی گلیسیمک انڈیکس والی غذائیں خون میں گلوکوز کو تیزی سے بڑھاتی ہیں  جس کے جواب میں انسولین بھی زیادہ مقدار میں خارج ہوتی ہے۔ یہ عمل وقتی طور پر گلوکوز کو کم تو کر دیتا ہے، لیکن اس کے بعد اکثر گلوکوز کی سطح معمول سے نیچے گر جاتی ہے جس کے نتیجے میں کمزوری، تھکن، چڑچڑاپن اور دوبارہ بھوک کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

امریکن ڈایابیٹیز ایسوسی ایشن اور دیگر طبی اداروں کی رپورٹس کے مطابق اگر یہ عمل بار بار دہرایا جائے تو جسم کے خلیے انسولین کے اثر کو کم قبول کرنے لگتے ہیں  جسے انسولین ریزسٹنس کہا جاتا ہے۔ یہ کیفیت میٹابولک سنڈروم، ٹائپ 2 ذیابیطس، اور موٹاپے جیسی بیماریوں کی بنیادی وجہ سمجھی جاتی ہے۔ مزید برآں، تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ گلوکوز کے مسلسل اتار چڑھاؤ سے جسم میں سوزش (inflammation) بڑھ سکتی ہے جو دل کی بیماریوں اور دیگر دائمی امراض کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے۔


گلوکوز کا اثر صرف جسمانی سطح تک محدود نہیں بلکہ دماغی اور نفسیاتی پہلوؤں پر بھی نمایاں ہوتا ہے۔ دماغ اپنی توانائی کے لیے بڑی حد تک گلوکوز پر انحصار کرتا ہے، اس لیے جب خون میں گلوکوز کی سطح غیر متوازن ہو تو توجہ، یادداشت اور فیصلہ سازی متاثر ہو سکتی ہے۔ بعض مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ گلوکوز کے اچانک اتار چڑھاؤ کا تعلق موڈ میں تبدیلی، اضطراب اور ذہنی تھکن سے بھی ہوتا ہے۔یہ بات بھی اہم ہے کہ تمام کاربوہائیڈریٹس یکساں اثر نہیں رکھتے۔ وہ غذائیں جن میں فائبر زیادہ ہو جیسے سبزیاں، دالیں اور مکمل اناج، گلوکوز کو آہستہ آہستہ خون میں شامل کرتی ہیں جس سے گلوکوز کی سطح مستحکم رہتی ہے اس کے برعکس ریفائنڈ اور پروسیس شدہ غذائیں تیزی سے گلوکوز بڑھاتی ہیں اسی لیے ماہرین غذائیت متوازن غذا، مناسب مقدار میں پروٹین، صحت مند چکنائی، اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی کو گلوکوز کنٹرول کرنے کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔

ان تمام سائنسی شواہد کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ گلوکوز محض ایک سادہ سا عنصر نہیں بلکہ جسم کے پیچیدہ نظام کا مرکزی حصہ ہے۔ اس کا توازن برقرار رکھنا نہ صرف ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے بلکہ مجموعی صحت، توانائی، ذہنی سکون اور طویل زندگی کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک باشعور انسان وہی ہے جو اپنی خوراک اور طرزِ زندگی کو اس انداز میں ترتیب دے کہ گلوکوز کی سطح متوازن رہے، کیونکہ یہی توازن صحت مند زندگی کی اصل کنجی ہے۔


(Dr.Alia Khan)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گملوں میں آسانی سے سبزیاں اگائیں ۔

    گھر بیٹھےمدافعتی نظام کو متحرک   رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ گھریلو باغبانی نہ صرف ایک   صحت مند سرگرمی ہے بلکہ ہم اپنے   گھر میں ہی آلودگی اور کیمیکل کے اثرات سے پاک سبزیوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اگر شوق ہے تو اس مضمون کے ذریعے موسم گرما میں سبزیوں کی   گھریلو سطح پر بوائی کی معلومات حاصل کریں۔اور حقیقت میں   مدافعتی نظام کو متحرک رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ موسم گرما کی سبزیاں اگانے کے لیے پندرہ فروری سے بہترین وقت شروع ہوجاتا ہے فروری سے مارچ اپریل تک سبزیوں کے بیج بوئے جاسکتے ہیں کچھ علاقوں میں اپریل کے بعد بھی بیج بوسکتے ہیں لیکن سخت گرمی اور لو میں بیجوں سے پودے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔جن گملوں میں سبزی اگائی جائے وہ گملہ بارہ انچ سے بڑا ہو۔   گملہ جتنا بڑا ہوگا پودے کی نشوونما بھی اچھی ہوگی اور سبزی بھی وافر مقدار میں میسر آسکے گی سبزیوں کے لیے موسم گرما میں صبح کی پانچ سے چھ گھنٹے کی دھوپ لازمی ہوتی ہے۔ سبزی کے پودے کو صبح ایک بار پانی لازمی دیں تیز دھوپ اور لو سے بچاؤ کے   لیے گرین نیٹ کا استعمال بھی کرسکتے ہیں پودے کو گ...

معیاری سبزی کے لیے نامیاتی کھاد کی تیاری

زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے مختلف قسم کی کھاد کا  استعمال ضروری ہوتا ہے۔کھاد میں دیگر کار آمد اشیا کے علاوہ نائٹروجن کے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔ جب پودوں کو پانی دیا جاتا ہے تو یہ مرکبات پانی میں حل ہو جاتے ہیں اور پھر پودے کی جڑیں اُن کو چوس کر تنے، شاخوں اور پتوں وغیرہ تک پہنچا دیتی ہیں۔ جانوروں کے فضلے سے جو کھاد خود بخود بن جاتی ہے اُس کی مقدار محدود ہے اور تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ۔ لہٰذا بعض کیمیائی مرکبات مصنوعی کھاد کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں  جن کے ذیلی اثرات انسانی جسم پر مضر ردعمل  پیدا کرسکتے ہیں۔ البتہ نامیاتی کھاد  کی تیاری سے اس خرابی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جس میں قدرتی طور پر  نائٹروجن کے مرکبات حل ہوجاتے ہیں اور پودوں کو غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ گھریلو باغبانی کے لیے  کھاد اپنے گھر میں  خودہی  تیار کریں ہمارے گھروں میں روزانہ ہی مختلف قسم کا کچرا جمع ہوجاتا ہے اس کچرے کی ایک بڑی مقدار کچن سے نکلنے والا  کچرا ہے اگر ہم اس کچرے کو ضائع کرنے کی بجائے اس سے اپنے گھر میں ہی  اپنے پودوں کے لئے کھ...

مثبت سوچ سے زندگی سدھاریں

انسانی ذہن پر سوچ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے ز ندگی کا ہر منظر سوچ سے ہی جنم لیتا ہے۔ سوچ سے انسانی جذبات بنتے ہیں اور اس سے عمل وجود میں آتا ہے سوچ دو طرح کی ہوتی ہے۔ مثبت سوچ اور منفی سوچ یعنی اچھی اور بری سوچ کامیابی اور ناکامی ان ہی دو سوچوں کا نتیجہ ہے۔  خیالات کا ذ ہن میں پیدا ہونا ایک قدرتی رجحان ہے مگر خیال کو سوچ میں تبدیل کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ انسان کے خیالات ہی اس کی شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے کا موجب ہے مثبت خیالات مثبت سوچ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں مثبت سوچ کامیابی کی طرف لے جانے والی وہ سڑک ہے جس پر چلنے والا اپنی منزل کو پالیتا ہے ۔ہماری تمام حرکات  ہماری سوچ کے زیراثرہوتی ہیں یعنی یہ ہماری سوچ ہی ہےجو ہم سے عوامل سرزد کراتی ہے مثبت سوچ دراصل اچھی اور صحیح سوچ ھےایک مثبت سوچ کا حامل انسان یقیناً مثبت خیالات اور تخلیقات کو ہی منظر عام پر لائے گا۔مثبت سوچ اچھے خیالات کی وجہ بنتی ھے جس کے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔زندگی میں کامیابی کا اسی فیصد انحصار  ہمارے رویے پر ہے   اور رویہ  سوچ سے جنم لیتا ہےمثبت سوچ سے مثبت ...