نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

دودھ ایک مکمل غذا

 دودھ باہر ایک عام سی روزمرہ کی چیز لگتی ہے  لیکن جب ہم اس کے اندر چھپی ہوئی سائنس کو دیکھتے ہیں تو یہ حقیقت میں ایک مکمل غذائی نظام نظر آتا ہے۔ دودھ میں پانی، توانائی دینے والے اجزاء، پروٹین، چکنائی اور حفاظتی عناصر سب ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اسے ابتدا میں “مکمل غذا” کہا گیا۔ یہ نہ صرف بچوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہے بلکہ بالغوں کے لیے بھی ہڈیوں کی مضبوطی، جسمانی توانائی اور صحت مند ہارمونل توازن کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔



دودھ کا سب سے بڑا حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے مگر اس میں موجود اجزاء جیسے چکنائی اور پروٹین اپنی الگ خصوصیات رکھتے ہیں۔ چکنائی پانی میں حل نہیں ہوتی بلکہ چھوٹے چھوٹے قطرے بناتی ہے جو ایک باریک جھلی میں بند ہوتے ہیں تاکہ ایک دوسرے سے جڑ نہ سکیں اس وجہ سے تازہ دودھ ہموار مائع لگتا ہے لیکن اگر اسے کچھ دیر چھوڑ دیا جائے تو چکنائی اوپر آ کر جمع ہو جاتی ہے اور ملائی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ یہ قدرتی عمل بتاتا ہے کہ دودھ محض پانی یا حل شدہ اجزاء کا مرکب نہیں بلکہ ایک حساس امتزاج یا حساس مکسچر  ہے جس میں اجزاء ایک مخصوص توازن میں رہتے ہیں۔

دودھ کے پروٹینز بھی اس کی اہم خصوصیت ہیں سب سے زیادہ اہم کیسین ہے جو چھوٹے چھوٹے ذرات کی شکل میں پانی میں تیرتا رہتا ہے۔ یہ ذرات ایک خاص ترتیب میں بندھے ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی دودھ کی تیزابیت بڑھتی ہے یا کسی انزائم کے اثر سے یہ ترتیب ٹوٹتی ہے کیسین جڑ کر ٹھوس شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب دودھ دہی یا پنیر میں بدلتا ہے۔ اس تبدیلی کے دوران پروٹین اپنی ساخت بدلتا ہے اور مائع سے ٹھوس میں منتقل ہوتا ہے۔دہی بنانے کے عمل میں مخصوص بیکٹیریا دودھ کے شکر یعنی لیکٹوز کو لاکٹک ایسڈ میں بدل دیتے ہیں، جس سے کیسین ذرات ایک جالی کی طرح بناتے ہیں اور پانی اور دوسرے اجزاء اس میں پھنس جاتے ہیں اس طرح دودھ جم کر دہی بن جاتا ہے۔ یہ نہ صرف غذائی اجزاء کو محفوظ رکھتا ہے بلکہ ہضم میں آسان اور ذائقے میں خوشبودار ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں مختلف پنیر بنانے کے عمل بھی اسی اصول پر مبنی ہیں جس میں درجہ حرارت، وقت اور بیکٹیریا کی قسم کے مطابق پنیر کا ذائقہ، ساخت اور خوشبو بدلتی رہتی ہے۔

دودھ پر حرارت کا اثر بھی اس کے کیمیائی توازن کو بدل دیتا ہے ہلکی حرارت پر تبدیلیاں معمولی ہوتی ہیں مگر جب درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے تو پروٹین اور شکر آپس میں نئے مرکبات بناتے ہیں جس سے اوپر ایک باریک تہہ بنتی ہے اور ذائقہ میں ہلکی مٹھاس اور بھورا پن آتا ہے یہ ہی اصول دیگر خوراک میں رنگ اور خوشبو پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔

دودھ خراب ہونے کی وجہ بھی اسی قدرتی ماحول میں چھپی ہے دودھ میں نمی اور خوراک موجود ہوتی ہے جو بیکٹیریا کی نشوونما کے لیے بہترین ہے۔ جب یہ بیکٹیریا لیکٹوز کو توڑتے ہیں تو تیزاب بنتا ہے جس سے دودھ کا ذائقہ کھٹا ہو جاتا ہے اور آخرکار وہ جم جاتا ہے مگر یہ عمل اگر قابو میں ہو تو فائدہ مند بنتا ہے جیسا کہ دہی اور پنیر میں دیکھا جاتا ہے یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک ہی عمل ماحول اور وقت کے مطابق نقصان دہ یا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

آج کل مارکیٹ میں دودھ کے معیار پر سوالات پیدا ہو گئے ہیں عام طور پر جو دودھ دستیاب ہوتا ہے وہ یا تو سیدھا گائے یا بھینس سے آتا ہے یا دودھ میں پانی یا دیگر کیمیکلز ملا دیے جاتے ہیں یا پھر پیک شدہ دودھ ہوتا ہے صاف اور خالص دودھ آج بھی بہترین غذا ہے کیونکہ اس میں کیلشیم، پروٹین، وٹامنز اور دیگر ضروری عناصر موجود ہوتے ہیں جو ہڈیوں، عضلات اور مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ لیکن ملاوٹ والا دودھ صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے پیٹ کے مسائل، الرجی اور انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔

پیک شدہ دودھ نسبتاً محفوظ ہوتا ہے کیونکہ اسے جراثیم سے پاک کیا جاتا ہے مگر زیادہ پروسیسنگ کی وجہ سے کچھ وٹامنز کم ہو سکتے ہیں اور ذائقہ میں فرق آ سکتا ہے۔ دودھ کے معیار اور صفائی کا خیال رکھنا آج بھی ضروری ہے۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ قابل اعتماد دودھ والے سے خالص دودھ لیا جائے اسے اچھی طرح ابالا جائے اور اگر ممکن ہو تو دہی بنا کر استعمال کیا جائے کیونکہ یہ زیادہ محفوظ اور ہضم میں آسان ہوتا ہے۔ کبھی کبھار دودھ کے متبادل جیسے بادام کا دودھ یا دلیہ استعمال کرنا بھی جسم پر بوجھ کم کرنے میں مددگار ہے۔

آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دودھ  کے  اندر موجود پروٹین، چکنائی، پانی اور بیکٹیریا سب مل کر غذائیت اور ذائقہ پیدا کرتے ہیں۔ اگر ہم ان تبدیلیوں کو سمجھیں اور صحیح طریقے سے استعمال کریں تو دودھ نہ صرف محفوظ اور غذائیت بخش بنتا ہے بلکہ یہ ایک مکمل اور متوازن غذا کے طور پر ہماری صحت میں بہترین کردار ادا کرتا ہے۔


(Dr.Alia Khan)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گملوں میں آسانی سے سبزیاں اگائیں ۔

    گھر بیٹھےمدافعتی نظام کو متحرک   رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ گھریلو باغبانی نہ صرف ایک   صحت مند سرگرمی ہے بلکہ ہم اپنے   گھر میں ہی آلودگی اور کیمیکل کے اثرات سے پاک سبزیوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اگر شوق ہے تو اس مضمون کے ذریعے موسم گرما میں سبزیوں کی   گھریلو سطح پر بوائی کی معلومات حاصل کریں۔اور حقیقت میں   مدافعتی نظام کو متحرک رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ موسم گرما کی سبزیاں اگانے کے لیے پندرہ فروری سے بہترین وقت شروع ہوجاتا ہے فروری سے مارچ اپریل تک سبزیوں کے بیج بوئے جاسکتے ہیں کچھ علاقوں میں اپریل کے بعد بھی بیج بوسکتے ہیں لیکن سخت گرمی اور لو میں بیجوں سے پودے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔جن گملوں میں سبزی اگائی جائے وہ گملہ بارہ انچ سے بڑا ہو۔   گملہ جتنا بڑا ہوگا پودے کی نشوونما بھی اچھی ہوگی اور سبزی بھی وافر مقدار میں میسر آسکے گی سبزیوں کے لیے موسم گرما میں صبح کی پانچ سے چھ گھنٹے کی دھوپ لازمی ہوتی ہے۔ سبزی کے پودے کو صبح ایک بار پانی لازمی دیں تیز دھوپ اور لو سے بچاؤ کے   لیے گرین نیٹ کا استعمال بھی کرسکتے ہیں پودے کو گ...

معیاری سبزی کے لیے نامیاتی کھاد کی تیاری

زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے مختلف قسم کی کھاد کا  استعمال ضروری ہوتا ہے۔کھاد میں دیگر کار آمد اشیا کے علاوہ نائٹروجن کے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔ جب پودوں کو پانی دیا جاتا ہے تو یہ مرکبات پانی میں حل ہو جاتے ہیں اور پھر پودے کی جڑیں اُن کو چوس کر تنے، شاخوں اور پتوں وغیرہ تک پہنچا دیتی ہیں۔ جانوروں کے فضلے سے جو کھاد خود بخود بن جاتی ہے اُس کی مقدار محدود ہے اور تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ۔ لہٰذا بعض کیمیائی مرکبات مصنوعی کھاد کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں  جن کے ذیلی اثرات انسانی جسم پر مضر ردعمل  پیدا کرسکتے ہیں۔ البتہ نامیاتی کھاد  کی تیاری سے اس خرابی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جس میں قدرتی طور پر  نائٹروجن کے مرکبات حل ہوجاتے ہیں اور پودوں کو غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ گھریلو باغبانی کے لیے  کھاد اپنے گھر میں  خودہی  تیار کریں ہمارے گھروں میں روزانہ ہی مختلف قسم کا کچرا جمع ہوجاتا ہے اس کچرے کی ایک بڑی مقدار کچن سے نکلنے والا  کچرا ہے اگر ہم اس کچرے کو ضائع کرنے کی بجائے اس سے اپنے گھر میں ہی  اپنے پودوں کے لئے کھ...

مثبت سوچ سے زندگی سدھاریں

انسانی ذہن پر سوچ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے ز ندگی کا ہر منظر سوچ سے ہی جنم لیتا ہے۔ سوچ سے انسانی جذبات بنتے ہیں اور اس سے عمل وجود میں آتا ہے سوچ دو طرح کی ہوتی ہے۔ مثبت سوچ اور منفی سوچ یعنی اچھی اور بری سوچ کامیابی اور ناکامی ان ہی دو سوچوں کا نتیجہ ہے۔  خیالات کا ذ ہن میں پیدا ہونا ایک قدرتی رجحان ہے مگر خیال کو سوچ میں تبدیل کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ انسان کے خیالات ہی اس کی شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے کا موجب ہے مثبت خیالات مثبت سوچ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں مثبت سوچ کامیابی کی طرف لے جانے والی وہ سڑک ہے جس پر چلنے والا اپنی منزل کو پالیتا ہے ۔ہماری تمام حرکات  ہماری سوچ کے زیراثرہوتی ہیں یعنی یہ ہماری سوچ ہی ہےجو ہم سے عوامل سرزد کراتی ہے مثبت سوچ دراصل اچھی اور صحیح سوچ ھےایک مثبت سوچ کا حامل انسان یقیناً مثبت خیالات اور تخلیقات کو ہی منظر عام پر لائے گا۔مثبت سوچ اچھے خیالات کی وجہ بنتی ھے جس کے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔زندگی میں کامیابی کا اسی فیصد انحصار  ہمارے رویے پر ہے   اور رویہ  سوچ سے جنم لیتا ہےمثبت سوچ سے مثبت ...