ہم جو کھاتے ہیں وہ خون میں کیسے بدلتا ہے؟
انسانی جسم کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہر لمحہ خود کو متوازن رکھنے کی کوشش کرتا ہے مگر جب ہم اپنی خوراک اور طرزِ زندگی میں بے احتیاطی کرتے ہیں تو یہی نظام آہستہ آہستہ بگڑنے لگتا ہے۔ گلوکوز کے حوالے سے سب سے اہم اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس کا نقصان فوراً ظاہر نہیں ہوتا بلکہ خاموشی سے اندر ہی اندر بڑھتا رہتا ہے۔ انسان خود کو بظاہر ٹھیک محسوس کرتا ہے مگر اس کے خون میں گلوکوز کے بار بار بڑھنے اور گرنے کا عمل اس کے خلیوں، ہارمونز اور اندرونی نظام کو مسلسل متاثر کر رہا ہوتا ہے۔ یہ ہی وہ مرحلہ ہے جسے سمجھنا نہایت ضروری ہے کیونکہ یہیں سے بیماریوں کا آغاز ہوتا ہے۔انسان جب اپنی صحت کے بارے میں سوچتا ہے تو عموماً بیماری کے ظاہر ہونے کے بعد متوجہ ہوتا ہے حالانکہ جسم اس سے بہت پہلے اشارے دینا شروع کر دیتا ہے۔ ان اشاروں میں سب سے اہم مگر سب سے زیادہ نظر انداز ہونے والا اشارہ خون میں گلوکوز کا اتار چڑھاؤ ہے یہ اتار چڑھاؤ بظاہر معمولی محسوس ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہی وہ خاموش عمل ہے جو آہستہ آہستہ جسم کے اندرونی نظام کو متاثر کر کے تھکن، بھوک کی شدت، موڈ میں تبدیلی، جلدی بڑھاپا، اور کئی دائمی بیماریوں کی بنیاد رکھتا ہے۔ جدید سائنسی تحقیق اس بات پر زور دیتی ہے کہ گلوکوز کا صرف زیادہ ہونا ہی مسئلہ نہیں بلکہ اس کا بار بار اوپر نیچے ہونا بھی اتنا ہی نقصان دہ ہے
جب ہم کوئی ایسی غذا کھاتے ہیں جو تیزی سے ہضم ہو جاتی ہے جیسے سفید آٹا، میٹھے مشروبات یا پروسیس شدہ اشیاء تو گلوکوز خون میں تیزی سے داخل ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لبلبہ فوری طور پر انسولین خارج کرتا ہے تاکہ گلوکوز کو خلیوں میں منتقل کیا جا سکے۔ اس مرحلے پر جسم بظاہر ایک متوازن ردعمل دیتا ہے لیکن جب یہی عمل دن میں کئی بار دہرایا جائے تو ایک غیر محسوس نقصان شروع ہو جاتا ہے۔ سائنسی مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ بار بار ہونے والے گلوکوز سپائکس خلیوں میں آکسیڈیٹو اسٹریس (oxidative stress) کو بڑھاتے ہیں جو خلیاتی سطح پر نقصان کا باعث بنتا ہے۔
آکسیڈیٹو اسٹریس دراصل ایک ایسا عمل ہے جس میں جسم میں فری ریڈیکلز کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور یہ فری ریڈیکلز خلیوں، پروٹینز اور ڈی این اے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جرنل آف کلینیکل اینڈوکرائنولوجی اور میٹابولزم میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق گلوکوز کے اچانک بڑھنے سے پیدا ہونے والا آکسیڈیٹو اسٹریس مسلسل بلند گلوکوز کی نسبت زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے کیونکہ یہ جسم کو بار بار جھٹکے کی کیفیت میں ڈال دیتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ گلوکوز کے سپائکس جسم میں سوزش (inflammation) کو بھی بڑھاتے ہیں۔ یہ سوزش وقتی نہیں ہوتی بلکہ آہستہ آہستہ دائمی شکل اختیار کر لیتی ہے جسے "chronic low-grade inflammation" کہا جاتا ہے۔ ہارورڈ میڈیکل اسکول کی ریسرچ کے مطابق یہ ہی دائمی سوزش دل کی بیماریوں، موٹاپے، اور ٹائپ 2 ذیابیطس جیسے امراض کا بنیادی سبب بنتی ہے۔
گلوکوز کے اتار چڑھاؤ کا ایک اہم اثر ہارمونل نظام پر بھی پڑتا ہے۔ جب انسولین بار بار زیادہ مقدار میں خارج ہوتی ہے تو یہ دیگر ہارمونز کے توازن کو بھی متاثر کرتی ہے خاص طور پر وہ ہارمونز جو بھوک اور تسکین کو کنٹرول کرتے ہیں جیسے گھریلن (ghrelin) اور لیپٹن (leptin) اس کے نتیجے میں انسان کو بار بار بھوک لگتی ہے اور اکثر وہ زیادہ کیلوریز والی غذا کی طرف مائل ہوتا ہے جو وزن میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ گلوکوز کے غیر متوازن ہونے کا اثر جلد اور بڑھاپے کے عمل پر بھی پڑتا ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق جب خون میں گلوکوز زیادہ ہوتا ہے تو یہ جسم میں موجود پروٹینز کے ساتھ جڑ کر ایک عمل شروع کرتا ہے جسے glycation کہا جاتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں "advanced glycation end products (AGEs)" بنتے ہیں، جو جلد کی لچک کو کم کرتے ہیں اور جھریوں کے عمل کو تیز کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلسل گلوکوز سپائکس کو قبل از وقت بڑھاپے سے بھی جوڑا جاتا ہے۔
دماغی صحت بھی اس سے محفوظ نہیں رہتی۔ نیوروسائنس کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گلوکوز کے اتار چڑھاؤ دماغی افعال، خاص طور پر توجہ، یادداشت اور فیصلہ سازی کو متاثر کرتے ہیں۔ جب گلوکوز تیزی سے گرتا ہے تو دماغ کو فوری توانائی کی کمی محسوس ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ذہنی تھکن، چڑچڑاپن اور فوکس کی کمی پیدا ہوتی ہے۔
ان تمام سائنسی شواہد سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ گلوکوز کا عدم توازن ایک خاموش مگر مسلسل نقصان دہ عمل ہے جو بظاہر چھوٹے مسائل سے شروع ہو کر بڑی بیماریوں تک پہنچ سکتا ہے۔ ۔ فائبر سے بھرپور غذائیں، متوازن پروٹین، صحت مند چکنائی، اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی گلوکوز کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ گلوکوز خون میں آتا کیسے ہے ؟
انسان جب کھانا کھاتا ہے تو وہ اسے صرف ذائقہ یا بھوک مٹانے کے لیے سمجھتا ہے لیکن درحقیقت اس لمحے اس کے جسم کے اندر ایک نہایت پیچیدہ اور منظم حیاتیاتی عمل شروع ہو جاتا ہے۔ یہ عمل خوراک کو چھوٹے چھوٹے اجزاء میں توڑ کر انہیں خون کا حصہ بناتا ہے تاکہ جسم کے ہر خلیے تک توانائی پہنچائی جا سکے۔ گلوکوز، جو اس سارے نظام کا مرکزی جز ہے براہِ راست ہماری پلیٹ سے خون میں نہیں آتا بلکہ ایک مکمل ہاضمہ کا عمل اور کیمیائی سفر طے کر کے وہاں تک پہنچتا ہے۔
جب ہم کاربوہائیڈریٹس والی غذا کھاتے ہیں، جیسے روٹی، چاول، آلو یا پھل، تو یہ خوراک سب سے پہلے منہ میں داخل ہو کر لعاب (saliva) کے ساتھ ملتی ہے۔ لعاب میں موجود انزائمز، خاص طور پر امائلیز (amylase)، نشاستے کو توڑنے کا عمل شروع کر دیتے ہیں۔ یہ عمل ابتدائی ہوتا ہے لیکن یہ ہی وہ پہلا قدم ہے جس سے کاربوہائیڈریٹس ٹوٹ کر سادہ شکل اختیار کرنا شروع کرتے ہیں۔
اس کے بعد خوراک معدے میں پہنچتی ہے جہاں تیزاب اور دیگر انزائمز اسے مزید نرم اور قابلِ ہضم بناتے ہیں۔ تاہم کاربوہائیڈریٹس کا اصل ٹوٹنا اور گلوکوز میں تبدیل ہونا چھوٹی آنت (small intestine) میں ہوتا ہے۔ یہاں لبلبہ (pancreas) سے آنے والے انزائمز نشاستے اور دیگر پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس کو سادہ شکر میں تبدیل کرتے ہیں جیسے گلوکوز، فرکٹوز اور گیلیکٹوز۔چھوٹی آنت کی دیوار میں موجود باریک بال نما ساختیں جنہیں ویلی (villi) کہا جاتا ہے ان سادہ شکر کو جذب کر لیتی ہیں یہ ویلی سطح کو بڑھا دیتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ غذائی اجزاء خون میں شامل ہو سکیں۔ یہاں سے گلوکوز خون کی نالیوں میں داخل ہو جاتا ہے اور پورٹل وین (portal vein) کے ذریعے جگر (liver) تک پہنچتا ہے۔جگر اس پورے عمل میں ایک نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ گلوکوز کو فوری طور پر توانائی کے لیے استعمال ہونے دیتا ہے یا اسے گلائیکوجن (glycogen) کی شکل میں ذخیرہ کر لیتا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر اسے دوبارہ گلوکوز میں تبدیل کیا جا سکے۔ اگر گلوکوز کی مقدار ضرورت سے زیادہ ہو تو جسم اسے چربی کی صورت میں ذخیرہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔جب گلوکوز خون میں شامل ہوتا ہے تو اس کی سطح بڑھ جاتی ہے اور یہ ہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب لبلبہ انسولین خارج کرتا ہے۔ انسولین خلیوں کو سگنل دیتا ہے کہ وہ گلوکوز کو اپنے اندر لے کر توانائی میں تبدیل کریں اگر یہ نظام درست طریقے سے کام کرے تو گلوکوز کی سطح متوازن رہتی ہے اور جسم کو مسلسل توانائی ملتی رہتی ہے۔
لیکن اگر خوراک ایسی ہو جو بہت تیزی سے گلوکوز میں تبدیل ہو جائے تو خون میں گلوکوز کی سطح اچانک بڑھ جاتی ہے۔ اس کے جواب میں انسولین بھی زیادہ مقدار میں خارج ہوتی ہے جو بعد میں گلوکوز کو تیزی سے نیچے لے آتی ہے۔ یہی اتار چڑھاؤ تھکن، بھوک، چڑچڑاپن اور توانائی کی کمی کا سبب بنتا ہے۔
سائنسی تحقیق، خصوصاً National Institute of Diabetes and Digestive and Kidney Diseases کے مطابق، خوراک کے بعد گلوکوز کا خون میں داخل ہونا ایک قدرتی عمل ہے لیکن اس کی رفتار اور مقدار کا توازن انتہائی اہم ہے۔
یہ پورا عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہمارا جسم کس قدر منظم اور حساس نظام کے تحت کام کرتا ہے۔ گلوکوز کا خون میں آنا ایک معمولی سا مرحلہ نہیں بلکہ ایک مکمل حیاتیاتی سفر ہے جس میں ہاضمہ، جگر، ہارمونز اور خلیے سب مل کر کام کرتے ہیں۔ اگر اس نظام کو سمجھ لیا جائے تو انسان اپنی خوراک اور طرزِ زندگی کو بہتر بنا کر نہ صرف اپنی توانائی کو متوازن رکھ سکتا ہے بلکہ طویل مدتی بیماریوں سے بھی بچ سکتا ہے۔
(Dr.Alia Khan)

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں