نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

انڈہ غذائیت کا چھوٹا مگر شاندار خزانہ

 

انڈہ: غذائیت کا چھوٹا مگر شاندار خزانہ

انڈہ صرف ایک عام غذا نہیں بلکہ قدرت کی ایک چھوٹی مگر شاندار تخلیق ہے۔ اس کی شکل سادہ لگتی ہے لیکن اندر چھپے اجزاء اور کیمیائی اصول اسے ایک مکمل حیاتیاتی نظام بناتے ہیں۔ بظاہر یہ صرف سفیدی اور زردی پر مشتمل نظر آتا ہے لیکن ہر حصہ ایک مخصوص کام انجام دیتا ہے اور صحت کے لیے ضروری غذائیت فراہم کرتا ہے۔




انڈے کی ساخت اور غذائی اہمیت

سفیدی: زیادہ تر پانی اور پروٹین پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ جنین کو تحفظ دیتی ہے اور پکانے پر اپنی شکل بدل کر مائع سے ٹھوس میں تبدیل ہوتی ہے۔

زردی: غذائیت کا ذخیرہ ہے، جس میں چکنائی، وٹامنز اور توانائی موجود ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زردی گاڑھی اور غذائیت سے بھرپور لگتی ہے۔
پکانے کے دوران پروٹین اپنی شکل بدلتا ہے۔ ہلکی آنچ پر نرم اور کریمی انڈہ ملتا ہے، جبکہ زیادہ حرارت سے سخت اور ربڑ جیسا محسوس ہوتا ہے۔
انڈے کی خاص خصوصیات

ایمولسیفائر: انڈہ پانی اور چکنائی کو ملا کر ہموار ساخت پیدا کرتا ہے جس سے مایونیز اور دیگر ساسز میں اجزاء الگ نہیں ہوتے۔


جھاگ بنانے کی صلاحیت: سفیدی کو پھینٹ کر ہوا شامل کی جاتی ہے جو کیک اور بیکنگ میں اسے ہلکا اور نرم بناتا ہے۔

تازگی: تازہ انڈے کی سفیدی گاڑھی اور زردی مضبوط ہوتی ہے جبکہ پرانے انڈے میں یہ ڈھیلے ہو جاتے ہیں۔
انڈے کے فوائد

پروٹین کا بہترین ذریعہ


دماغی نشوونما اور یادداشت کے لیے کولین


توانائی اور قوت


آنکھوں کی صحت کے لیے لائوٹین اور زیگزانتھین


ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے وٹامن ڈی اور کیلشیم


انڈے کے ممکنہ نقصان

زیادہ کولیسٹرول کے سبب دل کی بیماریوں کا خطرہ

سفیدی سے الرجی
خراب یا آلودہ انڈے فوڈ پوائزننگ کا سبب بن سکتے ہیں۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گملوں میں آسانی سے سبزیاں اگائیں ۔

    گھر بیٹھےمدافعتی نظام کو متحرک   رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ گھریلو باغبانی نہ صرف ایک   صحت مند سرگرمی ہے بلکہ ہم اپنے   گھر میں ہی آلودگی اور کیمیکل کے اثرات سے پاک سبزیوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اگر شوق ہے تو اس مضمون کے ذریعے موسم گرما میں سبزیوں کی   گھریلو سطح پر بوائی کی معلومات حاصل کریں۔اور حقیقت میں   مدافعتی نظام کو متحرک رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ موسم گرما کی سبزیاں اگانے کے لیے پندرہ فروری سے بہترین وقت شروع ہوجاتا ہے فروری سے مارچ اپریل تک سبزیوں کے بیج بوئے جاسکتے ہیں کچھ علاقوں میں اپریل کے بعد بھی بیج بوسکتے ہیں لیکن سخت گرمی اور لو میں بیجوں سے پودے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔جن گملوں میں سبزی اگائی جائے وہ گملہ بارہ انچ سے بڑا ہو۔   گملہ جتنا بڑا ہوگا پودے کی نشوونما بھی اچھی ہوگی اور سبزی بھی وافر مقدار میں میسر آسکے گی سبزیوں کے لیے موسم گرما میں صبح کی پانچ سے چھ گھنٹے کی دھوپ لازمی ہوتی ہے۔ سبزی کے پودے کو صبح ایک بار پانی لازمی دیں تیز دھوپ اور لو سے بچاؤ کے   لیے گرین نیٹ کا استعمال بھی کرسکتے ہیں پودے کو گ...

معیاری سبزی کے لیے نامیاتی کھاد کی تیاری

زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے مختلف قسم کی کھاد کا  استعمال ضروری ہوتا ہے۔کھاد میں دیگر کار آمد اشیا کے علاوہ نائٹروجن کے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔ جب پودوں کو پانی دیا جاتا ہے تو یہ مرکبات پانی میں حل ہو جاتے ہیں اور پھر پودے کی جڑیں اُن کو چوس کر تنے، شاخوں اور پتوں وغیرہ تک پہنچا دیتی ہیں۔ جانوروں کے فضلے سے جو کھاد خود بخود بن جاتی ہے اُس کی مقدار محدود ہے اور تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ۔ لہٰذا بعض کیمیائی مرکبات مصنوعی کھاد کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں  جن کے ذیلی اثرات انسانی جسم پر مضر ردعمل  پیدا کرسکتے ہیں۔ البتہ نامیاتی کھاد  کی تیاری سے اس خرابی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جس میں قدرتی طور پر  نائٹروجن کے مرکبات حل ہوجاتے ہیں اور پودوں کو غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ گھریلو باغبانی کے لیے  کھاد اپنے گھر میں  خودہی  تیار کریں ہمارے گھروں میں روزانہ ہی مختلف قسم کا کچرا جمع ہوجاتا ہے اس کچرے کی ایک بڑی مقدار کچن سے نکلنے والا  کچرا ہے اگر ہم اس کچرے کو ضائع کرنے کی بجائے اس سے اپنے گھر میں ہی  اپنے پودوں کے لئے کھ...

مثبت سوچ سے زندگی سدھاریں

انسانی ذہن پر سوچ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے ز ندگی کا ہر منظر سوچ سے ہی جنم لیتا ہے۔ سوچ سے انسانی جذبات بنتے ہیں اور اس سے عمل وجود میں آتا ہے سوچ دو طرح کی ہوتی ہے۔ مثبت سوچ اور منفی سوچ یعنی اچھی اور بری سوچ کامیابی اور ناکامی ان ہی دو سوچوں کا نتیجہ ہے۔  خیالات کا ذ ہن میں پیدا ہونا ایک قدرتی رجحان ہے مگر خیال کو سوچ میں تبدیل کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ انسان کے خیالات ہی اس کی شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے کا موجب ہے مثبت خیالات مثبت سوچ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں مثبت سوچ کامیابی کی طرف لے جانے والی وہ سڑک ہے جس پر چلنے والا اپنی منزل کو پالیتا ہے ۔ہماری تمام حرکات  ہماری سوچ کے زیراثرہوتی ہیں یعنی یہ ہماری سوچ ہی ہےجو ہم سے عوامل سرزد کراتی ہے مثبت سوچ دراصل اچھی اور صحیح سوچ ھےایک مثبت سوچ کا حامل انسان یقیناً مثبت خیالات اور تخلیقات کو ہی منظر عام پر لائے گا۔مثبت سوچ اچھے خیالات کی وجہ بنتی ھے جس کے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔زندگی میں کامیابی کا اسی فیصد انحصار  ہمارے رویے پر ہے   اور رویہ  سوچ سے جنم لیتا ہےمثبت سوچ سے مثبت ...