نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

روٹی کی قدر پہچانیں

 


کیا آپ باسی روٹی ضائع کرتے ہیں؟ جان لیں اس کے حیران کن فائدے
روٹی انسانی تہذیب کا ایک ایسا حصہ ہے جو صرف خوراک نہیں بلکہ زندگی کی علامت بن چکی ہے۔ صدیوں سے یہ ہر دسترخوان کی زینت، ہر گھر کی ضرورت اور ہر طبقے کی مشترکہ غذا رہی ہے۔ اس کی سادہ سی شکل میں ایک عجیب سی کشش ہوتی ہے تندور سے نکلتی ہوئی گرم روٹی کی خوشبو، اس کی نرمی اور اس کا ذائقہ دل و دماغ کو ایک خاص سکون دیتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ روٹی کو محض ایک کھانے کی چیز نہیں بلکہ رزق، برکت اور گھریلو محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے مگر جب یہی روٹی وقت گزرنے کے ساتھ اپنی تازگی کھو دیتی ہے اور باسی ہو جاتی ہے تو اکثر اسے بے وقعت سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔


باسی روٹی دراصل ایک ایسی غذا ہے جس کے اندر سائنسی اعتبار سے کئی اہم تبدیلیاں رونما ہو چکی ہوتی ہیں جب روٹی تازہ ہوتی ہے تو اس میں موجود نشاستہ جلدی ہضم ہو کر فوری توانائی فراہم کرتا ہے  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہی نشاستہ اپنی ساخت بدل لیتا ہے اور ایک خاص شکل اختیار کر لیتا ہے جسے ریزسٹنٹ اسٹارچ کہا جاتا ہے۔ یہ ایسا نشاستہ ہوتا ہے جو فوری طور پر ہضم نہیں ہوتا بلکہ آہستہ آہستہ بڑی آنت تک پہنچتا ہے جہاں یہ فائدہ مند بیکٹیریا کے لیے غذا بن جاتا ہے اس طرح  باسی روٹی نہ صرف ہاضمے کو بہتر بناتی ہے بلکہ آنتوں کے اندر ایک صحت مند ماحول بھی پیدا کرتی ہے۔
اسی تبدیلی کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ باسی روٹی کھانے سے خون میں شکر کی سطح اچانک نہیں بڑھتی۔ آج کے دور میں جہاں ذیابیطس ایک عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے وہاں ایسی غذائیں جن کا اثر آہستہ اور متوازن ہو، بے حد اہمیت رکھتی ہیں۔ باسی روٹی اسی حوالے سے ایک بہتر انتخاب ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ یہ توانائی کو دھیرے دھیرے فراہم کرتی ہے  جس سے نہ صرف جسم کو مسلسل طاقت ملتی رہتی ہے بلکہ بھوک بھی دیر سے محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ صبح کے وقت باسی روٹی کو دودھ یا دہی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں تاکہ دن بھر توانائی برقرار رہے۔
باسی روٹی کا ایک اور اہم پہلو اس کی پری بایوٹک خصوصیات ہیں یہ خصوصیات دراصل آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا کی نشوونما میں مدد دیتی ہیں  جس سے نہ صرف نظامِ ہضم بہتر ہوتا ہے بلکہ جسم کی مجموعی صحت پر بھی مثبت اثر پڑتا ہے۔ آنتوں کی صحت بہتر ہونے سے کولیسٹرول کی سطح میں کمی، قبض جیسے مسائل میں بہتری اور قوتِ مدافعت میں اضافہ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس طرح باسی روٹی ایک سادہ مگر مؤثر غذائی ذریعہ بن جاتی ہے جو جسم کے اندرونی نظام کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
تاہم ہر چیز کی طرح باسی روٹی کے استعمال میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ اگر روٹی زیادہ دیر تک رکھی رہے خاص طور پر نمی یا آلودہ ماحول میں تو اس پر پھپھوندی لگ سکتی ہے ایسی روٹی کا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں زہریلے مادے پیدا ہو جاتے ہیں جو جگر اور دیگر اعضاء کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ باسی روٹی کو ہمیشہ صاف، خشک اور محفوظ جگہ پر رکھا جائے، اور اگر اس میں ذرا بھی بدبو یا داغ نظر آئے تو اسے فوراً ضائع کر دیا جائے۔ باسی روٹی کا ایک پہلو معاشی اور ماحولیاتی بھی ہے جو اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں ہم جو کھانا ضائع کرتے ہیں وہ نہ صرف ہمارے بجٹ پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ قدرتی وسائل کے ضیاع کا بھی سبب بنتا ہے۔ گندم اگانے سے لے کر روٹی بنانے تک ایک طویل عمل ہوتا ہے جس میں پانی، زمین اور محنت شامل ہوتی ہے۔ جب ہم باسی روٹی کو بغیر سوچے سمجھے پھینک دیتے ہیں تو دراصل ہم ان تمام وسائل کو بھی ضائع کر دیتے ہیں اگر اسی روٹی کو کسی نہ کسی شکل میں دوبارہ استعمال کر لیا جائے تو نہ صرف بچت ہوتی ہے بلکہ ماحول پر بھی مثبت اثر پڑتا ہے۔ روایتی گھریلو طریقے بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ باسی روٹی کو مفید انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسے پانی، دودھ یا دہی میں بھگو کر نرم کیا جاتا ہے جس سے یہ معدے پر ہلکی ہو جاتی ہے اور ہضم بھی آسان ہو جاتا ہے۔ بعض علاقوں میں اسے مختلف پکوانوں میں شامل کر کے مزیدار اور غذائیت سے بھرپور کھانے تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ طریقے نہ صرف سادہ ہیں بلکہ صحت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو باسی روٹی کوئی بے کار یا غیر ضروری چیز نہیں بلکہ ایک ایسی نعمت ہے جس کے اندر کئی پوشیدہ فوائد موجود ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ اسے صحیح طریقے سے محفوظ رکھا جائے اور سمجھداری کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ یہ نہ صرف ہماری صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے بلکہ ہمیں کفایت شعاری، شکر گزاری اور وسائل کے درست استعمال کا سبق بھی دیتی ہے۔
(Dr.Alia Khan)

Mahan, L. K., & Raymond, J. L. (2016). Understanding Nutrition. Elsevier.

Food and Agriculture Organization (FAO) (2011). Global Food Loss and Waste Report

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گملوں میں آسانی سے سبزیاں اگائیں ۔

    گھر بیٹھےمدافعتی نظام کو متحرک   رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ گھریلو باغبانی نہ صرف ایک   صحت مند سرگرمی ہے بلکہ ہم اپنے   گھر میں ہی آلودگی اور کیمیکل کے اثرات سے پاک سبزیوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اگر شوق ہے تو اس مضمون کے ذریعے موسم گرما میں سبزیوں کی   گھریلو سطح پر بوائی کی معلومات حاصل کریں۔اور حقیقت میں   مدافعتی نظام کو متحرک رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ موسم گرما کی سبزیاں اگانے کے لیے پندرہ فروری سے بہترین وقت شروع ہوجاتا ہے فروری سے مارچ اپریل تک سبزیوں کے بیج بوئے جاسکتے ہیں کچھ علاقوں میں اپریل کے بعد بھی بیج بوسکتے ہیں لیکن سخت گرمی اور لو میں بیجوں سے پودے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔جن گملوں میں سبزی اگائی جائے وہ گملہ بارہ انچ سے بڑا ہو۔   گملہ جتنا بڑا ہوگا پودے کی نشوونما بھی اچھی ہوگی اور سبزی بھی وافر مقدار میں میسر آسکے گی سبزیوں کے لیے موسم گرما میں صبح کی پانچ سے چھ گھنٹے کی دھوپ لازمی ہوتی ہے۔ سبزی کے پودے کو صبح ایک بار پانی لازمی دیں تیز دھوپ اور لو سے بچاؤ کے   لیے گرین نیٹ کا استعمال بھی کرسکتے ہیں پودے کو گ...

معیاری سبزی کے لیے نامیاتی کھاد کی تیاری

زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے مختلف قسم کی کھاد کا  استعمال ضروری ہوتا ہے۔کھاد میں دیگر کار آمد اشیا کے علاوہ نائٹروجن کے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔ جب پودوں کو پانی دیا جاتا ہے تو یہ مرکبات پانی میں حل ہو جاتے ہیں اور پھر پودے کی جڑیں اُن کو چوس کر تنے، شاخوں اور پتوں وغیرہ تک پہنچا دیتی ہیں۔ جانوروں کے فضلے سے جو کھاد خود بخود بن جاتی ہے اُس کی مقدار محدود ہے اور تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ۔ لہٰذا بعض کیمیائی مرکبات مصنوعی کھاد کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں  جن کے ذیلی اثرات انسانی جسم پر مضر ردعمل  پیدا کرسکتے ہیں۔ البتہ نامیاتی کھاد  کی تیاری سے اس خرابی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جس میں قدرتی طور پر  نائٹروجن کے مرکبات حل ہوجاتے ہیں اور پودوں کو غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ گھریلو باغبانی کے لیے  کھاد اپنے گھر میں  خودہی  تیار کریں ہمارے گھروں میں روزانہ ہی مختلف قسم کا کچرا جمع ہوجاتا ہے اس کچرے کی ایک بڑی مقدار کچن سے نکلنے والا  کچرا ہے اگر ہم اس کچرے کو ضائع کرنے کی بجائے اس سے اپنے گھر میں ہی  اپنے پودوں کے لئے کھ...

مثبت سوچ سے زندگی سدھاریں

انسانی ذہن پر سوچ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے ز ندگی کا ہر منظر سوچ سے ہی جنم لیتا ہے۔ سوچ سے انسانی جذبات بنتے ہیں اور اس سے عمل وجود میں آتا ہے سوچ دو طرح کی ہوتی ہے۔ مثبت سوچ اور منفی سوچ یعنی اچھی اور بری سوچ کامیابی اور ناکامی ان ہی دو سوچوں کا نتیجہ ہے۔  خیالات کا ذ ہن میں پیدا ہونا ایک قدرتی رجحان ہے مگر خیال کو سوچ میں تبدیل کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ انسان کے خیالات ہی اس کی شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے کا موجب ہے مثبت خیالات مثبت سوچ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں مثبت سوچ کامیابی کی طرف لے جانے والی وہ سڑک ہے جس پر چلنے والا اپنی منزل کو پالیتا ہے ۔ہماری تمام حرکات  ہماری سوچ کے زیراثرہوتی ہیں یعنی یہ ہماری سوچ ہی ہےجو ہم سے عوامل سرزد کراتی ہے مثبت سوچ دراصل اچھی اور صحیح سوچ ھےایک مثبت سوچ کا حامل انسان یقیناً مثبت خیالات اور تخلیقات کو ہی منظر عام پر لائے گا۔مثبت سوچ اچھے خیالات کی وجہ بنتی ھے جس کے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔زندگی میں کامیابی کا اسی فیصد انحصار  ہمارے رویے پر ہے   اور رویہ  سوچ سے جنم لیتا ہےمثبت سوچ سے مثبت ...