نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ہم کیا کھائیں ؟

 

صحت مند زندگی کے لیے ضروری نہیں کہ ہم کم کھائیں بلکہ یہ زیادہ اہم ہے کہ ہم کیا کھاتے ہیں.
انسانی خوراک کے بارے میں ایک عام تصور یہ رہا ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے چکنائی سے پرہیز اور
کاربوہائیڈریٹس کا زیادہ استعمال ضروری ہے۔ اب تک یہ ہی سنتے آئے ہیں کہ چکنائی دل کی بیماریوں اور موٹاپے کی بنیادی وجہ ہے اس لیے کم چکنائی والی غذا کو بہترین سمجھا گیا  مگر جدید سائنسی تحقیق نے اس نظریے کو چیلنج کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ اصل مسئلہ چکنائی نہیں بلکہ زیادہ کاربوہائیڈریٹس اور مسلسل بلند انسولین ہے  یہ ہی بنیادی خیال Eat Rich, Live Long  کتاب میں نہایت مدلل اور سائنسی انداز میں پیش کیا گیا ہے، جہاں مصنفین Ivor Cummins اور Jeffry Gerber خوراک اور صحت کے روایتی تصورات کو نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت دیتے ہیں۔کتاب کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ہمیں “کم چکنائی” کے بجائے “کم کاربوہائیڈریٹ” اور “زیادہ صحت مند چکنائی” والی غذا اپنانی چاہیے۔ مصنفین کے مطابق، جب ہم زیادہ کاربوہائیڈریٹس، خاص طور پر ریفائنڈ اور پراسیس شدہ استعمال کرتے ہیں تو خون میں گلوکوز کی سطح بڑھتی ہے جس کے نتیجے میں انسولین زیادہ بنتی ہے  مسلسل بلند انسولین جسم میں چربی کو ذخیرہ کرتی ہے اور اسے جلنے نہیں دیتی جس سے موٹاپا، ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔اس کے برعکس جب خوراک میں صحت مند چکنائیوں کا تناسب بڑھایا جاتا ہے جیسے مکھن، زیتون کا تیل، گری دار میوے اور قدرتی ذرائع سے حاصل شدہ چکنائی تو جسم توانائی کے لیے گلوکوز کے بجائے چربی کو استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے اس عمل کو “فیٹ ایڈاپٹیشن” کہا جاتا ہے جہاں جسم ایک مستحکم توانائی کے نظام پر منتقل ہو جاتا ہے اور گلوکوز کے اتار چڑھاؤ کم ہو جاتے ہیں۔کتاب میں دل کی بیماریوں کے حوالے سے بھی روایتی نظریات پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ مصنفین یہ مؤقف پیش کرتے ہیں کہ دل کی بیماریوں کی اصل وجہ چکنائی نہیں بلکہ انسولین ریزسٹنس، سوزش، اور میٹابولک خرابی ہے۔ Harvard Medical School اور National Institutes of Health کی تحقیق بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ میٹابولک صحت دل کی بیماریوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے نہ کہ صرف کولیسٹرول کی مقدار
مزید برآں کتاب میں “کیلوریز اِن، کیلوریز آؤٹ” کے سادہ اصول کو بھی ناکافی قرار دیا گیا ہے۔ مصنفین کے مطابق جسم ایک مشین نہیں بلکہ ایک ہارمونل نظام ہے جہاں مختلف غذائیں مختلف ہارمونز کو متاثر کرتی ہیں اس لیے دو ایک جیسی کیلوریز رکھنے والی غذائیں جسم پر یکساں اثر نہیں ڈال سکتیں۔

کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسلسل کھاتے رہنا جیسے دن بھر اسنیکس لینا انسولین کو مسلسل بلند رکھتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس کے برعکس کھانے کے درمیان وقفہ دینا اور جسم کو آرام دینا میٹابولزم کو بہتر بناتا ہے اور چربی کے استعمال کو بڑھاتا ہے۔
مصنفین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ قدرتی اور غیر پراسیس شدہ غذا کا انتخاب کیا جائے۔ جدید پراسیس شدہ خوراک جس میں چینی، ریفائنڈ آٹا اور مصنوعی اجزاء شامل ہوتے ہیں جسم کے قدرتی نظام کو متاثر کرتی ہے اور بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔
کتاب میں سائنسی شواہد کے ساتھ یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ کم کاربوہائیڈریٹ اور زیادہ چکنائی والی غذا نہ صرف وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہے بلکہ بلڈ شوگر، بلڈ پریشر اور دیگر میٹابولک علامات کو بھی بہتر بناتی ہے۔
Eat Rich, Live Long
ایک اہم پیغام دیتی ہے کہ ہمیں خوراک کے بارے میں اپنی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ صحت مند زندگی کے لیے ضروری نہیں کہ ہم کم کھائیں بلکہ یہ زیادہ اہم ہے کہ ہم کیا کھاتے ہیں اور کس انداز میں کھاتے ہیں۔ جب انسان اپنے جسم کے ہارمونل نظام کو سمجھ کر اپنی خوراک کو ترتیب دیتا ہے تو وہ نہ صرف بیماریوں سے بچ سکتا ہے بلکہ ایک طویل، متوازن اور صحت مند زندگی بھی گزار سکتا ہے۔

(Dr.Alia Khan)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گملوں میں آسانی سے سبزیاں اگائیں ۔

    گھر بیٹھےمدافعتی نظام کو متحرک   رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ گھریلو باغبانی نہ صرف ایک   صحت مند سرگرمی ہے بلکہ ہم اپنے   گھر میں ہی آلودگی اور کیمیکل کے اثرات سے پاک سبزیوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اگر شوق ہے تو اس مضمون کے ذریعے موسم گرما میں سبزیوں کی   گھریلو سطح پر بوائی کی معلومات حاصل کریں۔اور حقیقت میں   مدافعتی نظام کو متحرک رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ موسم گرما کی سبزیاں اگانے کے لیے پندرہ فروری سے بہترین وقت شروع ہوجاتا ہے فروری سے مارچ اپریل تک سبزیوں کے بیج بوئے جاسکتے ہیں کچھ علاقوں میں اپریل کے بعد بھی بیج بوسکتے ہیں لیکن سخت گرمی اور لو میں بیجوں سے پودے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔جن گملوں میں سبزی اگائی جائے وہ گملہ بارہ انچ سے بڑا ہو۔   گملہ جتنا بڑا ہوگا پودے کی نشوونما بھی اچھی ہوگی اور سبزی بھی وافر مقدار میں میسر آسکے گی سبزیوں کے لیے موسم گرما میں صبح کی پانچ سے چھ گھنٹے کی دھوپ لازمی ہوتی ہے۔ سبزی کے پودے کو صبح ایک بار پانی لازمی دیں تیز دھوپ اور لو سے بچاؤ کے   لیے گرین نیٹ کا استعمال بھی کرسکتے ہیں پودے کو گ...

معیاری سبزی کے لیے نامیاتی کھاد کی تیاری

زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے مختلف قسم کی کھاد کا  استعمال ضروری ہوتا ہے۔کھاد میں دیگر کار آمد اشیا کے علاوہ نائٹروجن کے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔ جب پودوں کو پانی دیا جاتا ہے تو یہ مرکبات پانی میں حل ہو جاتے ہیں اور پھر پودے کی جڑیں اُن کو چوس کر تنے، شاخوں اور پتوں وغیرہ تک پہنچا دیتی ہیں۔ جانوروں کے فضلے سے جو کھاد خود بخود بن جاتی ہے اُس کی مقدار محدود ہے اور تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ۔ لہٰذا بعض کیمیائی مرکبات مصنوعی کھاد کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں  جن کے ذیلی اثرات انسانی جسم پر مضر ردعمل  پیدا کرسکتے ہیں۔ البتہ نامیاتی کھاد  کی تیاری سے اس خرابی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جس میں قدرتی طور پر  نائٹروجن کے مرکبات حل ہوجاتے ہیں اور پودوں کو غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ گھریلو باغبانی کے لیے  کھاد اپنے گھر میں  خودہی  تیار کریں ہمارے گھروں میں روزانہ ہی مختلف قسم کا کچرا جمع ہوجاتا ہے اس کچرے کی ایک بڑی مقدار کچن سے نکلنے والا  کچرا ہے اگر ہم اس کچرے کو ضائع کرنے کی بجائے اس سے اپنے گھر میں ہی  اپنے پودوں کے لئے کھ...

مثبت سوچ سے زندگی سدھاریں

انسانی ذہن پر سوچ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے ز ندگی کا ہر منظر سوچ سے ہی جنم لیتا ہے۔ سوچ سے انسانی جذبات بنتے ہیں اور اس سے عمل وجود میں آتا ہے سوچ دو طرح کی ہوتی ہے۔ مثبت سوچ اور منفی سوچ یعنی اچھی اور بری سوچ کامیابی اور ناکامی ان ہی دو سوچوں کا نتیجہ ہے۔  خیالات کا ذ ہن میں پیدا ہونا ایک قدرتی رجحان ہے مگر خیال کو سوچ میں تبدیل کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ انسان کے خیالات ہی اس کی شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے کا موجب ہے مثبت خیالات مثبت سوچ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں مثبت سوچ کامیابی کی طرف لے جانے والی وہ سڑک ہے جس پر چلنے والا اپنی منزل کو پالیتا ہے ۔ہماری تمام حرکات  ہماری سوچ کے زیراثرہوتی ہیں یعنی یہ ہماری سوچ ہی ہےجو ہم سے عوامل سرزد کراتی ہے مثبت سوچ دراصل اچھی اور صحیح سوچ ھےایک مثبت سوچ کا حامل انسان یقیناً مثبت خیالات اور تخلیقات کو ہی منظر عام پر لائے گا۔مثبت سوچ اچھے خیالات کی وجہ بنتی ھے جس کے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔زندگی میں کامیابی کا اسی فیصد انحصار  ہمارے رویے پر ہے   اور رویہ  سوچ سے جنم لیتا ہےمثبت سوچ سے مثبت ...