نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

چھوٹی سی جگہہ میں بڑا باغ

 جب انسان اپنے اردگرد نظر ڈالتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ آج کی زندگی کتنی تیز مصروف اور مشینوں پر منحصر ہو چکی ہے۔ کھانا بازار سے آتا ہے، سبزیاں بھی پیکنگ میں ملتی ہیں اور ہم نے قدرت سے اپنا رشتہ کہیں نہ کہیں کم کر دیا ہے۔ لیکن اگر کوئی انسان تھوڑی سی جگہ میں بھی دوبارہ مٹی سے جڑنے کا فیصلہ کر لے تو اس کی زندگی میں ایک عجیب سا سکون، تازگی اور خود انحصاری آ جاتی ہے۔ یہ ہی وہ سوچ ہے جو ہمیں سکھاتی ہے کہ کم جگہ بھی مسئلہ نہیں ہوتی، اصل بات یہ ہے کہ ہم اسے کیسے استعمال کرتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی چھت، بالکونی یا چند گملے بھی اگر سمجھداری سے استعمال کیے جائیں تو وہ ایک مکمل سبزی باغ میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔


اس اندازِ باغبانی کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ  میں زمین کو بڑے اور بے ترتیب حصے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا بلکہ اسے چھوٹے چھوٹے منظم حصوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ ہر حصہ ایک چھوٹی سی دنیا کی طرح ہوتا ہے جہاں مخصوص پودے اپنی جگہ پر سکون سے اگتے ہیں۔ اس تقسیم کی وجہ سے نہ صرف جگہ کا بہترین استعمال ہوتا ہے بلکہ ہر پودے کو اس کی ضرورت کے مطابق روشنی، ہوا اور غذائیت بھی ملتی ہے۔ جب ہر چیز منظم ہو جائے تو کام آسان بھی ہو جاتا ہے اور نتیجہ بھی زیادہ بہتر آتا ہے۔

مٹی کی تیاری اس پورے طریقے کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ زمین کو زیادہ کھودنے یا بگاڑنے کے بجائے اسے نرم، ہلکا اور غذائیت سے بھرپور بنایا جاتا ہے۔ اس کے لیے قدرتی مواد جیسے کمپوسٹ، خشک پتے اور نامیاتی کھاد استعمال کی جاتی ہے تاکہ مٹی کی قدرتی طاقت برقرار رہے اس طریقے سے زمین زندہ رہتی ہے اور بار بار اضافی کھاد کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔ جب مٹی مضبوط ہو تو پودے خود بخود صحت مند اور طاقتور ہو جاتے ہیں۔

پودوں کی ترتیب اس نظام کی ایک خاص حکمت عملی ہے  ہر چھوٹے حصے میں پودے اس طرح لگائے جاتے ہیں کہ ان کی جسامت اور ضرورت کو مدنظر رکھا جائے۔ چھوٹے پودے زیادہ تعداد میں اور بڑے پودے کم تعداد میں لگائے جاتے ہیں تاکہ کسی کو بھی بڑھنے میں رکاوٹ نہ ہو  اس ترتیب سے نہ صرف جگہ بچتی ہے بلکہ پودے ایک دوسرے کے ساتھ بہتر انداز میں بڑھتے ہیں اور ہوا کا گزر بھی آسان رہتا ہے۔

پانی دینے کا عمل بھی بہت سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے ہر پودے کو اس کی ضرورت کے مطابق پانی دیا جاتا ہے تاکہ نہ پانی ضائع ہو اور نہ ہی پودا کمزور پڑے۔ پانی جڑوں تک پہنچے تو پودا زیادہ مضبوط ہوتا ہے اور زمین بھی دیر تک نمی برقرار رکھتی ہے۔ اس سے پودوں کی نشوونما بہتر ہوتی ہے اور وہ زیادہ عرصے تک صحت مند رہتے ہیں۔

اس اندازِ باغبانی میں ایک اور بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ کم جگہ میں بھی زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔ ایک چھوٹی سی جگہ پر مختلف اقسام کی سبزیاں ایک ساتھ اگائی جا سکتی ہیں، جس سے گھر کی ضرورت بھی پوری ہو جاتی ہے اور بازار پر انحصار بھی کم ہو جاتا ہے۔ یہ طریقہ خاص طور پر شہری زندگی کے لیے بہت مفید ہے جہاں کھلی زمین بہت کم ہوتی ہے۔

بیماریوں اور کیڑوں سے بچاؤ کے لیے بھی سادہ اور قدرتی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ چونکہ ہر پودا اپنی جگہ پر منظم ہوتا ہے اس لیے بیماری پھیلنے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ اگر کبھی کوئی مسئلہ پیدا ہو تو کیمیکل کے بجائے قدرتی حل استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ ماحول بھی محفوظ رہے اور پودے بھی نقصان سے بچ جائیں۔

آخر میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ باغبانی صرف زمین کا استعمال نہیں بلکہ ایک سوچ اور ایک طریقۂ زندگی ہے۔ اگر ہم اپنی چھوٹی سی جگہ کو بھی محبت، منصوبہ بندی اور سمجھداری سے استعمال کریں تو وہی جگہ ہمارے لیے تازہ سبزیوں، صحت اور سکون کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

(Gardening With Alia Khan)


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گملوں میں آسانی سے سبزیاں اگائیں ۔

    گھر بیٹھےمدافعتی نظام کو متحرک   رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ گھریلو باغبانی نہ صرف ایک   صحت مند سرگرمی ہے بلکہ ہم اپنے   گھر میں ہی آلودگی اور کیمیکل کے اثرات سے پاک سبزیوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اگر شوق ہے تو اس مضمون کے ذریعے موسم گرما میں سبزیوں کی   گھریلو سطح پر بوائی کی معلومات حاصل کریں۔اور حقیقت میں   مدافعتی نظام کو متحرک رکھنے والی قدرتی خوراک حاصل کریں۔ موسم گرما کی سبزیاں اگانے کے لیے پندرہ فروری سے بہترین وقت شروع ہوجاتا ہے فروری سے مارچ اپریل تک سبزیوں کے بیج بوئے جاسکتے ہیں کچھ علاقوں میں اپریل کے بعد بھی بیج بوسکتے ہیں لیکن سخت گرمی اور لو میں بیجوں سے پودے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔جن گملوں میں سبزی اگائی جائے وہ گملہ بارہ انچ سے بڑا ہو۔   گملہ جتنا بڑا ہوگا پودے کی نشوونما بھی اچھی ہوگی اور سبزی بھی وافر مقدار میں میسر آسکے گی سبزیوں کے لیے موسم گرما میں صبح کی پانچ سے چھ گھنٹے کی دھوپ لازمی ہوتی ہے۔ سبزی کے پودے کو صبح ایک بار پانی لازمی دیں تیز دھوپ اور لو سے بچاؤ کے   لیے گرین نیٹ کا استعمال بھی کرسکتے ہیں پودے کو گ...

معیاری سبزی کے لیے نامیاتی کھاد کی تیاری

زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے مختلف قسم کی کھاد کا  استعمال ضروری ہوتا ہے۔کھاد میں دیگر کار آمد اشیا کے علاوہ نائٹروجن کے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔ جب پودوں کو پانی دیا جاتا ہے تو یہ مرکبات پانی میں حل ہو جاتے ہیں اور پھر پودے کی جڑیں اُن کو چوس کر تنے، شاخوں اور پتوں وغیرہ تک پہنچا دیتی ہیں۔ جانوروں کے فضلے سے جو کھاد خود بخود بن جاتی ہے اُس کی مقدار محدود ہے اور تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ۔ لہٰذا بعض کیمیائی مرکبات مصنوعی کھاد کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں  جن کے ذیلی اثرات انسانی جسم پر مضر ردعمل  پیدا کرسکتے ہیں۔ البتہ نامیاتی کھاد  کی تیاری سے اس خرابی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جس میں قدرتی طور پر  نائٹروجن کے مرکبات حل ہوجاتے ہیں اور پودوں کو غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ گھریلو باغبانی کے لیے  کھاد اپنے گھر میں  خودہی  تیار کریں ہمارے گھروں میں روزانہ ہی مختلف قسم کا کچرا جمع ہوجاتا ہے اس کچرے کی ایک بڑی مقدار کچن سے نکلنے والا  کچرا ہے اگر ہم اس کچرے کو ضائع کرنے کی بجائے اس سے اپنے گھر میں ہی  اپنے پودوں کے لئے کھ...

مثبت سوچ سے زندگی سدھاریں

انسانی ذہن پر سوچ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے ز ندگی کا ہر منظر سوچ سے ہی جنم لیتا ہے۔ سوچ سے انسانی جذبات بنتے ہیں اور اس سے عمل وجود میں آتا ہے سوچ دو طرح کی ہوتی ہے۔ مثبت سوچ اور منفی سوچ یعنی اچھی اور بری سوچ کامیابی اور ناکامی ان ہی دو سوچوں کا نتیجہ ہے۔  خیالات کا ذ ہن میں پیدا ہونا ایک قدرتی رجحان ہے مگر خیال کو سوچ میں تبدیل کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ انسان کے خیالات ہی اس کی شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے کا موجب ہے مثبت خیالات مثبت سوچ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں مثبت سوچ کامیابی کی طرف لے جانے والی وہ سڑک ہے جس پر چلنے والا اپنی منزل کو پالیتا ہے ۔ہماری تمام حرکات  ہماری سوچ کے زیراثرہوتی ہیں یعنی یہ ہماری سوچ ہی ہےجو ہم سے عوامل سرزد کراتی ہے مثبت سوچ دراصل اچھی اور صحیح سوچ ھےایک مثبت سوچ کا حامل انسان یقیناً مثبت خیالات اور تخلیقات کو ہی منظر عام پر لائے گا۔مثبت سوچ اچھے خیالات کی وجہ بنتی ھے جس کے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔زندگی میں کامیابی کا اسی فیصد انحصار  ہمارے رویے پر ہے   اور رویہ  سوچ سے جنم لیتا ہےمثبت سوچ سے مثبت ...