ہم جو کھاتے ہیں وہ خون میں کیسے بدلتا ہے؟ انسانی جسم کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہر لمحہ خود کو متوازن رکھنے کی کوشش کرتا ہے مگر جب ہم اپنی خوراک اور طرزِ زندگی میں بے احتیاطی کرتے ہیں تو یہی نظام آہستہ آہستہ بگڑنے لگتا ہے۔ گلوکوز کے حوالے سے سب سے اہم اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس کا نقصان فوراً ظاہر نہیں ہوتا بلکہ خاموشی سے اندر ہی اندر بڑھتا رہتا ہے۔ انسان خود کو بظاہر ٹھیک محسوس کرتا ہے مگر اس کے خون میں گلوکوز کے بار بار بڑھنے اور گرنے کا عمل اس کے خلیوں، ہارمونز اور اندرونی نظام کو مسلسل متاثر کر رہا ہوتا ہے۔ یہ ہی وہ مرحلہ ہے جسے سمجھنا نہایت ضروری ہے کیونکہ یہیں سے بیماریوں کا آغاز ہوتا ہے۔انسان جب اپنی صحت کے بارے میں سوچتا ہے تو عموماً بیماری کے ظاہر ہونے کے بعد متوجہ ہوتا ہے حالانکہ جسم اس سے بہت پہلے اشارے دینا شروع کر دیتا ہے۔ ان اشاروں میں سب سے اہم مگر سب سے زیادہ نظر انداز ہونے والا اشارہ خون میں گلوکوز کا اتار چڑھاؤ ہے یہ اتار چڑھاؤ بظاہر معمولی محسوس ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہی وہ خاموش عمل ہے جو آہستہ آہستہ جسم کے اندرونی نظام کو متاثر کر کے تھکن، بھوک کی شدت، موڈ م...
پاکستان میں بڑھتی ہوئی آلودگی پر قابو پانے کے لیے شجرکاری کی حقیقی ضرورت ہے۔شجرکاری نہ صرف شہر کو خوبصورت بناتی ہے بلکہ اس سے آلودگی اور ماحولیاتی بگاڑ کا بھی مقابلہ ہوتا ہے۔ پودے لگانے سے کاربن کے ذخیر ے، گرمی اور شور کی آلودگی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔